1 Jun 2013 | By:


عشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناک


عشق کی مستی سے ہے پیکر گل تابناک
عشق ہے صہبائے خام ، عشق ہے کاس الکرام
عشق فقیہ حرم ، عشق امیر جنود
عشق ہے ابن السبیل ، اس کے ہزاروں مقام

حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیف "بال جبریل" کی غزل

حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
کی تصنیف "بال جبریل" کی غزل 

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا
مروت حسن عالم گیر ہے مردان غازی کا
 شکایت ہے مجھے یا رب! خداوندان مکتب سے
سبق شاہیں بچوں کو دے رہے ہیں خاکبازی کا
بہت مدت کے نخچیروں کا انداز نگہ بدلا
کہ میں نے فاش کر ڈالا طریقہ شاہبازی کا
قلندر جز دو حرف لاالہ کچھ بھی نہیں رکھتا
فقیہ شہر قاروں ہے لغت ہائے حجازی کا
حدیث بادہ و مینا و جام آتی نہیں مجھ کو
نہ کر خارا شگافوں سے تقاضا شیشہ سازی کا
کہاں سے تونے اے اقبال سیکھی ہے یہ درویشی
کہ چرچا پادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا

نشیمن پر نشیمن اس طرح تعمیر کرتا جا

نشیمن پر نشیمن اس طرح تعمیر کرتا جا
کہ بجلی گرتے گرتے آپ ہی بیزار ہوجائے

ﮐﺒﮭﯽ ﻧﯿﻨﺪﯾﮟ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ


ﮐﺒﮭﯽ ﻧﯿﻨﺪﯾﮟ ، ﮐﺒﮭﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻧﯽ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺁﺗﺎ ﻧﮩﯿﮟ ، ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﺑﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮐﺎﻏﺬ ﭘﺮ ﺷﺠﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ
ﺍﻥ ﮐﻮﻣﺮﯼ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺑﺎﻏﺒﺎﻧﯽ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﺮ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻓﺮﺻﺖ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮ
ﻭﮦ ﮨﺮ ﺳﺮ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺳﺮ ﮔﺮﺍﻧﯽ ﺑﮭﯿﺞﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ
ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺘﺮﻭﮎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﻟﻔﻆ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ
ﻣﺠﮭﮯ ﺗﺎﺑﺶ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺎﺯﮦ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﺑﮭﯿﺞﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ

Kabhi munasib ho to hum se bhe "hum kalaam" hona

Kabhi munasib ho to hum se bhe "hum kalaam" hona

Suna hai tum bhe wafa ki baatein bohat karty ho
 

ٹھیک ہی کہتا تھا میرے مقدّر کا ستارہ

ٹھیک ہی کہتا تھا میرے مقدّر کا ستارہ
تو محبت کرے گا تو میں گردش کروں گا

دل کے سونے آنگن میں

دل کے سونے آنگن میں
خواہش کا پیڑ لگایا تھا
وہ پیڑ تمہارا میرا تھا
پر ہجر کے لمبے پت جھڑ میں
اُس پیڑ کے جتنے پتّے تھے
... اُس پیڑ پہ جتنی شاخیں تھیں
وہ ساری شاخیں ٹوٹ گئیں
وہ سارے پتّے سوکھ گئے
بس ایک ہی ٹہنی باقی ہے
یہ ٹہنی یاد کی ٹہنی ہے
اور ایک ہی پتّہ زندہ ہے
یہ پتّہ آس کا پتّہ ہے
یہ آس کا پتّہ جانے کیوں
اِک آس لگائے بیٹھا ہے
کہ وصل کا ساون آئے گا
تو جتنے پتّے ٹوٹے ہیں
وہ سارے پھر سے نکلیں گے
اور دل کے سونے آنگن میں
پھر سے ہریالی آئے گی
پر وقت کا موسم کہتا ہے
کہ ہجر کی کالی آندھی میں
اِس پیڑ کا بچنا مشکل ہے
اب دل کے سونے آنگن کو
آباد نہیں تم کرسکتے
پر آس کا پتّہ کہتا ہے
کہ دل کا سونا آنگن بھی
اِس پیڑ کے دم سے روشن ہے
یہ پیڑ ہی گر کٹ جائے گا
تو آنگن میں کیا رکھا ہے
دل کے سونے آنگن میں
اِک پیڑ لگا ہے خواہش کا
اُس پیڑ پہ یاد کی ٹہنی پر
ایک آس کا پتّہ زندہ ہے
نہ سوکھا ہے نہ سہما ہے ـــــــــــــــــ!!!!

Main Chahta Bhi Yahi Tha Wo Bewafa Nikle.,

Main Chahta Bhi Yahi Tha Wo Bewafa Nikle.,
Use Samajhne Ka Koi To Silsila Nikle..

Kitaab-E-Maazi Ke Panne Ulat Ke Dekh Zara.,
Najaane Kaun Sa Panna Muda Hua Nikle..

Jo Dekhne Me Bahut Hi Kareeb Lagta Hai.,
Usi Ke Baare Me Socho To Faasla Nikle........