20 Jun 2014 | By:

"دلوں کے فاصلے"

"دلوں کے فاصلے"


استاد نے شاگردوں سے پوچھا.... "لوگ جب پریشان ہوتے ہیں تو ایک دوسرے پر چیختے کیوں ہیں؟"
شاگردوں نے کچھ دیر سوچا پھر ان میں سے ایک نے کہا .... "کیونکہ ہم اپنا سکون کھودیتے ہیں اس لئے چیختے ہیں.."
"لیکن جب دوسرا آدمی ہمارے قریب بیٹھا ہوتا ہے پھر چیخنے کی کیا تک؟ کیا ہم اس سے ہلکی آواز میں بات نہیں کرسکتے؟ چیختے چلاتے کیوں ہیں؟؟
شاگردوں نے کچھ جواب دیے لیکن کوئی بھی استاد کو مطمئن نہیں کرسکا..
آخر استاد نے کہا .... "جب لوگ ایک دوسرے سے ناراض ہوتے ہیں، غصہ کرتے ہیں تب ان کے دل دور ہوجاتے ہیں.. اس فاصلے کو عبور کرنے کے لئے لوگوں کو چیخنا پڑتا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کی آواز کو سن سکیں.. وہ جتنا ذیادہ غصہ ہوں گے انھیں اتنا ہی چیخنا ہوگا تاکہ ان کے دلوں کے درمیان فاصلہ دور ہوسکے"
پھر استاد نے کہا .... "جب لوگ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تب جانتے ہو کیا ہوتا ہے؟؟
"وہ ایک دوسرے پر چلاتے نہیں ہیں بلکہ آہستہ گفتگو کرتے ہیں. کیوں؟ اسلئے کہ ان کے دل قریب ہوتے ہیں ان کے دلوں کے درمیان فاصلہ کم ہوتا ہے ..
18 Jun 2014 | By:

Juma Mubarik Design

Juma Mubarik Design



Islamic Design by AHSAAS

Islamic Design by AHSAAS



________ کلمہ طیبہ۔۔۔۲



________ کلمہ طیبہ۔۔۔۲



"فبای آلاء ربکما تکذبان"



 "فبای آلاء ربکما تکذبان"



مولانا وحید الدین خان کی " رازِ حیات " سے اقتباس

ایک شخص ایک حکیم صاحب کے پاس آیا ۔ اس کے پاس ایک ڈبہ تھا ۔ اس نے ڈبہ کھول کر زیور نکالا اور کہا ۔" یہ خالص سونے کا زیور ہے ۔ اس کی قیمت دس ہزار سے کم نہیں ۔ آپ اس کو رکھ کر پانچ ہزار مجھے دے دیجیئے ۔ میں ایک ماہ میں روپے دے کر واپس لے جاؤں گا ۔ "
حکیم صاحب نے کہا: " میں اس قسم کا کام نہیں کرتا "۔مگر آدمی نے اپنی مجبوری کچھ اس انداز سے پیش کی کہ حکیم صاحب کو ترس آگیا اور انھوں نے پیسے دے کر زیور لے لیا ۔
اس کے زیور کو لوہے کی الماری میں رکھ دیا ۔ مہینوں گزر گئے لیکن آدمی واپس نہ آیا ۔
حکیم صاحب نے ایک آدمی کو زیور بیچنے بازار بھیجا لیکن سنار نے بتایا کہ زیور پیتل کا ہے ۔ حکیم صاحب کو صدمہ ہوا ۔ تاہم روپے کھونے کے بعد وہ اپنے آپ کو کھونا نہیں چاہتے تھے ۔ انھوں نے اسکو بھلا دیا صرف یہ کیا کہ زیور کو سونے کے خانے سے نکال کر پیتل کے خانے میں رکھ دیا ۔
انسانوں کے معاملات کیلئے یہ طریقہ بہترین ہے ۔ انسانوں کے درمیان تلخی اکثر اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ ایک آدمی سے جو ہم نے امید قائم کر رکھی تھی ، اس پہ وہ پورا نہیں اترتا ۔ ایسے موقعے پر بہترین طریقہ یہ ہے کہ آدمی کو اس خانے سے نکال کو دوسرے خانے میں رکھ دیا جائے ۔ !!
مولانا وحید الدین خان کی " رازِ حیات " سے اقتباس

11 Jun 2014 | By:

ایفائے عہد کا مثالی واقعہ

  ایفائے عہد کا مثالی واقعہ 




حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک واقعہ قابل ذکر ہے جس سے معلوم ہو گا کہ اس وقت کے مسلمان اپنی زبان کے کس قدر پابند تھے ۔ وعدہ ، پتھر کی لکیر سمجھتے تھے ۔ہر مزان ایرانیو ں کے ایک لشکر کا سر دار تھا۔ ایک مر تبہ مغلو ب ہو کر اس نے جزیہ دینا بھی قبول کیا تھا ۔ مگر پھر با غی ہو کو مقابلے پر آیا ۔ لیکن مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ زندگی پر مضبو طی سے جمے ہوئے تھے ۔ اس لیے اللہ کی مدد ان کے ساتھ تھی ۔ اس بار بھی ہر مزان کو شکست ہو ئی اور وہ گرفتا ر ہو کر اس حالت میں کہ تا ج مر صع سر پر تھا ،دیبا کی قبازیب تن ، کمر سے مرقع تلوار آویزاں پیش بہا زیورات سے آراستہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پہنچا۔ آپ رضی اللہ عنہ اس وقت مسجد نبوی میں تشریف رکھتے تھے ۔ فرمایا تم نے مسلسل تین با ر بد عہدی کی ۔ اب اگر اس کا بدلہ تم سے لیا جائے تو تم کو کیا اعتراض ہے ؟ 
ہرمزان نے کہا مجھے خوف ہے کہ میرااعتراض سننے سے بیشتر ہی مجھے قتل نہ کر دیا جائے ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا ہر گز نہ ہو گا تم کو ئی خوف نہ کر و۔ ہر مزان نے کہا مجھ کو پانی پلادو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پانی لا نے کا حکم دیا۔ ہر مزان نے ہا تھ میں پانی کا پیالہ لیکر کہا مجھے خطر ہ ہے کہ میں پانی پینے کی حالت میں قتل نہ کر دیا جاﺅ ں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تک تم پانی نہ پی لو اور اپنا عذر بیا ن نہ کرو تم اپنے آپ کو ہر قسم کے خطر ہ سے محفوظ سمجھو ۔ ہرمزان نے پیالہ ہا تھ سے رکھ دیا اور کہا میں پانی نہیں پینا چاہتا آپ نے مجھ کو امان بخشی ہے اس لیے آپ مجھ کو قتل بھی نہیں کر سکتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ہر مزان کی اس چالا کی اور دھوکہ دہی پر بہت غصہ آیا ۔ لیکن حضرت انس رضی اللہ عنہ درمیا ن میں بول اٹھے اور کہا ۔ امیر المومنین ! یہ سچ کہتا ہے کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ جب تک پورا حال نہ کہہ لو کسی قسم کا خوف نہ کرو ۔ اور جب تک پانی نہ پی لوکسی قسم کے خطرے میں نہ ڈالے جا ﺅ گے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے کلا م کی دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہ نے بھی تا ئید کی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہرمزان تو نے مجھے دھوکا دیا ہے لیکن میں تجھے دھوکا نہ دوں گا ۔ اسلام نے اس کی تعلیم نہیں دی ۔ ایفا ئے عہد اور حسن سلوک کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر مزان مسلمان ہو گیا۔ امیر المومنین نے دوہزار سالانہ ا سکی تنخواہ مقرر کر دی ۔ 

گلاب خوشبو بھی بیماریوں کا علاج بھی

  گلاب خوشبو بھی بیماریوں کا علاج بھی



پاکستان میں گلاب کا پھول اس قدر معروف ومانوس ہے کہ یہ ہر گھر میں کسی نہ کسی صورت میں ضرور پایا جاتا ہے یا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہماری نوجوان نسل اسے بطور عطر و خوشبو کے بصد شوق لگاتی ہے۔ گلاب کے پھول کو نا صرف گھروں میں بلکہ محفلوں کو سجانے کے کام بھی لاتے ہیں۔ گویا اس سے بیشمار فوائد حاصل کیے جاتے ہیں۔ گلاب کو طبی طور پر مختلف صورتوں میں بطور سفوف‘ حب‘ معجون اور عرق و عطر کے استعمال کرایا جاتا ہے۔ چنانچہ ذیل میں اس کے فوائد پر ایک نظر ڈالی جارہی ہے۔ جو قارئین کے لیے پراز معلومات ہوگا۔
اورام دماغی: دماغی پردوں کے اورام میں اس کا سفوف کھانا اور ضماد کرنا نافع ہے۔بے خوابی: ایسے مریض جنہیں بے خوابی کا عارضہ ہو ان کے دماغ کو تقویت دے کر بے خوابی کو دور کرتا ہے۔سردرد: گرمی کے سردرد میں گلاب کا ضماداًو سفوفاً استعمال مفید ہے۔
آنکھوں کی سرخی: آنکھوں کی سرخی کا مرض عام ہے۔ اسے دور کرنے کیلئے عرق گلاب سے بڑھ کر اور کوئی دوا نہیں۔منہ کی بدبو: منہ سے بدبو آنے کی صورت میں اس کے جوشاندہ سے غرغرہ کریں۔
منہ کے چھالے: خون کی حدت‘ تیزابیت کی زیادتی یا گرم اشیاء کے کثرت استعمال سے منہ میں چھالے پڑجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں گلاب کے سفوف کو عرق گلاب کے ساتھ استعمال کریں۔ نیز اس کے سفوف کو منہ میں لگائیں۔
پیاس کی شدت: معدے کی تیزابیت‘ حدت اور تبخیر کی بناء پر پیاس کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسے دور کرنے کے لیے اس کا عرق نفع بخش تاثیر رکھتا ہے۔
نفث الدم: منہ یا مسوڑھوں سے خون آنے کی صورت میں گلاب کے جوشاندے کا استعمال بہت ہی مؤثر عمل ہے۔ استعمال کرایا جاتا ہے۔
ریح المعدہ: پیٹ میں ریاح‘ گیس یا تبخیر کی زیادتی کی صورت میں بے چینی اور بے سکونی پیدا ہوجاتی ہے ایسی کیفیت میں اس کے سفوف کا استعمال شفائی اثرات رکھتا ہے۔اسہال کبدی: جگر کا اسہال ایک ایسی سخت تکلیف ہے جو کسی دوائی سے شاید ہی ٹھیک ہو۔ اس میں صرف اور صرف گلاب پر ہی بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔
دل کی کمزوری کا لاجواب علاج: دل کی کمزوری اور دل کی دھڑکن کی تیزی میں گلاب کے سفوف آدھا چمچ اور ایک کپ عرق گلاب کا استعمال دن میں دومرتبہ مفید ہے۔
حابس اسہال: آنتوں کی خراش‘ کمزوری یا خونی و صفراوی رطوبت کے باعث جو اسہال لاحق ہوتے ہیں ان میں گلاب کا بطور سفوف یا عرق کے استعمال نہایت ہی کارآمد ہے۔
جسمانی بدبو سے نجات پائیے: بعض اشخاص ایسے ہوتے ہیں جن کے جسم کے کسی ظاہری حصے مثلاً بغل‘ کنج ران یا پاؤں سے بدبو آتی ہے سو اسے دور کرنے کیلئے ماؤف حصہ پر گلاب کا لیپ کریں۔پسینہ کی زیادتی: جسم کے کسی ظاہری حصے مثلاً چھاتی یا ہاتھ سے پسینہ آنے لگتا ہے اور رکنے کا نام نہیں لیتا۔ ایسی صورت میں گلاب کے سفوف کو لیپ کرنے سے یہ تکلیف دور ہوجاتی ہے۔
جلد کا جل جانا: آگ سے جلد کے جل جانے والے زخم پر گلاب کے سفوف کوانڈے کی سفیدی میں ملا کر لگائیں اور نفع پائیں۔چیچک کے زخم: عموماً بچوں کی جلد پر چیچک کے زخم پڑجاتے ہیں۔ جو انسانی خوبصورتی کیلئے تکلیف دہ ہوتے ہیں اس میں گلاب کا سفوف ایک چمچ ایک کپ عرق گلاب میں ملا کر لیپ کریں۔
جریان و احتلام: نوجوانوں کے امراض و جریان و احتلام میں اس کا استعمال فوری فائدہ پہنچاتا ہے۔آدھا کپ عرق گلاب روزانہ پئیں۔
پیشاب کی جلن: پیشاب جل کرآنا یا پاخانے کی جلن میں گلاب کا استعمال مفید ہے۔
سیلان الرحم: عورتوں کے مرض سیلان الرحم میں آدھا کپ عرق گلاب دن میں ایک استعمال کریں۔۔
قبض: قبض‘ جسے ام الامراض کا نام دیا گیا ہے میں گلاب سے تیار ہونے والی گلقند‘ شافی علاج ہے۔ورم جگر: ورم جگر میں اسی گلاب سے تیار ہونے والی معجون دبیدالورد کا استعمال اس سے نجات کا باعث ہے۔سرمہ جات: آنکھ کے مختلف امراض میں عرق گلاب سے تیار کردہ سرمہ جات استعمال کرائے جاتے ہیں جو آنکھوں کیلئے خصوصی طور پر نفع بخش ہیں۔
چہرہ کی خوبصورتی: چہرہ کی رنگت کو صاف و شفاف بنانے اور چھائیوں و داغ دھبوں کو دور کرنے کیلئے گلاب سے تیارکردہ یہ نسخہ بہت ہی کارآمد ہے۔عرق گلاب 10 گرام‘ ویزلین50 گرام‘ عرق لیموں5 گرام‘ کافور 5 گرام کو باہم ملالیں اور چہرے پرلگائیں۔گلاب ایک سدا بہار پھول ہے جو اپنی رنگت کے حوالے سے تمام ناظرین کیلئے جاذب نظر ہے ویسے بھی گلاب کا حضرت انسان کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حضرت انسان نے گلاب کے پھول کو مختلف صورتوں میں استعمال کیا ہے۔ مگر اس کے ساتھ میں آج تک کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اس کی افادیت میں روزبروز اضافہ ہوتاجارہا ہے۔ اپریل‘ مئی میں اس پھول پر بہار آتی ہے اور اہل نظر اس سے اپنی بستیاں آباد کرکے خاص نمائشوں کا اہتمام کرتے ہیں جو شائقین کیلئے دلچسپی کا باعث ہوتی ہیں۔ گلاب کی مشہور اقسام تو چار ہیں۔ مثلاً سفید‘ سرخ‘ پیلا اور کالا مگر سائنسی ترقی نے جہاں دیگر اصناف میں نئی راہیں تلاش کی ہیں وہاں اس نے پھلوں اور پھولوں کی بھی بیشمار نئی اقسام ایجاد کرلی ہیں۔ اس لیے اب گلاب کی مکمل اقسام کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ تاہم طبی اثرات کےلحاظ سے دیسی گلاب سب سے بڑھ کر ہے۔ دیسی گلاب لاہور اور چوہاسیدن شاہ کے مقام پر بکثرت پایا جاتا ہے۔



وہ ناراض رہتا تو اسے ہر قیمت پر منا لیتے

وہ ناراض رہتا تو اسے ہر قیمت پر منا لیتے



ظلم شدت پکڑتا ہے جب بھی