29 Jun 2017 | By:

"ختم کہانی "


"ختم کہانی

 "دو ،تین کہانیاں سننے کے بعد بھی جب میں دادی سے کہتی "بس ایک اور "۔۔۔۔۔۔۔۔تب دادی چڑ جاتی ۔۔۔۔غصّے سے کہتی "ایک تھا راجہ ، ایک تھی رانی ۔۔۔۔۔دونو ں مر گئے ۔۔ ۔۔ختم کہانی ۔۔۔۔۔۔۔چل اب سو جا "۔میں روہانسی ہو جاتی "دادی میرے راجہ رانی کو نہیں مارو "دادی میرے پیٹ مے گدگدی کر کے کہتی "مر گئے دونو ں۔۔۔۔۔اب چپ چاپ سو جاؤ "۔میں تکیے مے سر گھسا کر دونو ں کی سلامتی کی دعا کر تے کرتے سو جاتی ۔۔۔۔۔۔۔۔خواب مے دیکھتی ۔۔۔۔۔۔راجہ اور رانی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر گہرے سمندر مے اترگئے ۔راجہ اور رانی دونو ں مر چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو پھر ۔۔۔۔۔کہانی ختم کیوں نہیں ہوتی ؟؟؟؟

صبا

*اسم اعظم* -

*اسم اعظم*

"بی بی جی! میں آ جاؤں؟ " پروین نے کوڑے والی ٹوکری سے کوڑا اپنی کوڑا گاڑی میں منتقل کرتے ہوئے بی بی جان سے پوچھا -
"ہاں ہاں پروین کیوں نہیں! تم سامنے نل سے ہاتھ دھو کر آؤ تب تک میں ناشتہ منگواتی ھوں" بی بی جان نے شفقت بھرے انداز میں پروین کو جواب دیا اور ساتھ ہی اپنی بہوؤں کو آواز دینے لگیں - 
"ارے ثروت، انیلہ! بیٹی جلدی سے پروین کے لیے ناشتہ لے آؤ "
" ایک تو میں اس پروین سے بہت تنگ ھوں پتہ نہیں کیوں بی بی جان کو اس کے عیسائی ھونے سے فرق نہیں پڑتا پھر وہ کوڑا اٹھانے والی گندی عورت! ہنہ "ثروت بیگم دانت کچکچاتے ھوئے ناشتہ بنانے لگیں - 
" ہاں بھابی! میری شادی کو بھی دو سال ھونے کو آئے ہیں میں بھی یہی دیکھ رہی ہوں کہ پورے "پروٹوکول" کے ساتھ "کوڑا اٹھانے والی" پروین صاحبہ کو ہر صبح ٹرے میں ناشتہ پیش کیا جاتا ہے کچھ کہو تو یہ کہہ کر خاموش کروا دیا جاتا ہے کہ اسلام تلوار سے نہیں اخلاق سے پھیلا ہے "انیلہ بیگم بھی برا مناتے ہوئے گویا ھوئیں - 
"تم دو سال کی بات کر رہی ھو میری شادی کو ساڑھے تین سال ھو چکے ہیں اس سے بھی پہلے پتہ نہیں کب سے یہ سلسلہ "پوری آب و تاب" سے جاری ہے " ثروت بیگم نےکہا اور بے دلی سے مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق ٹرے سجائی اور مصنوعی مسکراہٹ ھونٹوں پر سجائے لان میں بیٹھی پروین کے سامنے رکھی اور پلٹ گئیں - 
" کھاؤ کھاؤ پروین.. اور ہاں دیکھو پیٹ بھر کر کھانا روٹی اور چاہیے تو لے لینا ھمارے پیارے نبی صل اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ 
"بھوک اور تکلف کو ایک جگہ اکٹھا مت کرو "- بی بی جان نے اس کے سامنے جگ سے پانی نکال کر رکھتے ہوئے کہا مگر دوسرے ہی لمحے حیران رہ گئیں - پروین نے کھانا کھانے کی بجائے منہ پر ہاتھ رکھ کر رونا شروع کر دیا تیزی سے نکلنے والے آنسو لمحوں میں اس کا چہرہ بھگو چکے تھے - 
" پروین! کیا ھوا؟ ایسے کیوں رو رہی ھو؟ کوئی مسئلہ ہے کیا؟ گھر میں سب ٹھیک تو ہے نا؟ "بی بی جان نے گھبرا کر ایک ہی سانس میں کئی سوال کر ڈالے اور پروین کی طرف پانی بڑھاتے ہوئے کہا" چلو تم سب چھوڑو پہلے پانی پیو " پروین نے پانی پیا اور کچھ دیر سر جھکا کر بیٹھی رہی- اس کی آنسوؤں بھری کچھ سوچتی آنکھیں پل بھر کو بی بی جان پر ٹکیں - 
" بی بی جان! مجھے اپنے نبی کا کلمہ پڑھا دیں میں مسلمان ھونا چاہتی ہوں "
" کیا؟... ک.. ک.. کیا کہا تم نے "بی بی جان نے بمشکل فقرہ پورا کیا - 
" جی بی بی جان! باھوش و حواس مسلمان ھونا چاہتی ہوں-"پروین بولی 
"تم نے یہ مذہب بدلنے کا اتنا بڑا فیصلہ کس طرح اتنی آسانی سے کر لیا؟ "؛ بی بی جان ابھی تک یقین نہیں کر پا رہی تھیں-
" آسانی کہاں بی بی جان! چار سال ھو گئے ہیں قطرہ قطرہ چوٹ پڑتے.. آپ کو یاد ھے نہیں نا.. مگر مجھے آج بھی وہ دن یاد ھے جب چار سال پہلے ایک دن بھوک سے تنگ آ کر آپ سے کھانا مانگا تھا تو میرا خیال تھا کہ آپ مجھے کوئی بچی کچی روٹی شاپر میں ڈال کر ڈال کر دے دیں گی مگر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب آپ نے صابن سے میرے ہاتھ منہ دھلوا کر ٹرے میں رکھ کر ناشتہ پیش کیا - اور میرے جھجھکنے پر کہا بیٹی! کھا لو. ھمارے قرآن میں جگہ جگہ بھوکے کو کھانا کھانے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ حکم صرف کسی مسلمان کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص کے لئے ھے جو بھوکا ھو - 
مگر یہ ٹرے میں سجے قیمتی برتن! آپ مجھے عام برتنوں میں دے دیتی میں اسی میں کھا لیتی" میرے جھجھکنے پر آپ کا جواب تھا بیٹی! یہ کھانا میں تمہیں اللہ کے نام پر کھلا رہی ھوں تو اللہ کے نام پر کھلایا جانے والا کھانا میں کس طرح عام برتنوں میں کھلاؤں ؟ میرا دل گوارا نہیں کرے گا " اور پھر اس دن کے بعد سے آج تک میں اس گھر سے پہلے دن کی طرح عزت سے پیٹ بھر کر جاتی ہوں -" " مگر یہ تو چار سال سے تمہارا معمول ھے اب ایسی کیا بات ہوئی کا تم اپنا پیدائشی مذہب چھوڑنے کو تیار ھو گئی؟ " بی بی جان خوشی اور حیرت کی ملی جلی کیفیت میں بولیں - 
" بی بی جان! آپ میری بات کا پتہ نہیں یقین کریں کہ نہ کریں میں نے آج رات خواب دیکھا کہ قیامت کا سماں ہے ہر طرف پریشانی اور خوف کا ڈیرہ ھے سورج کی تپش ہر چیز پگھلا چکی ہے ہر طرف شور و غل مچا ھے مجھ ان پڑھ کے پاس وہ الفاظ ہی نہیں جو اس کیفیت کو بتلا سکوں میں چھاؤں کی تلاش میں بھاگتی ھوں قدموں کے نیچے تپتی زمین پاؤں میں چھالے بنا چکی ہے مگر کہیں پیر رکھنے جتنی بھی ٹھنڈی جگہ نہیں - اچانک میں نے کچھ لوگوں کو ایک ٹھنڈی چھاؤں میں دیکھا کیا چھاؤں تھی وہ بی بی جان جس میں موجود نہ ھونے کے باوجود اس کی ٹھنڈک کے تصور نے مجھے میرے پاؤں کے چھالے بھی بھلا دئیے اور جب جب... جب میں نے اس چھاؤں تک پہنچنے کی کوشش کی تو مجھے یہ کہہ کر وہاں سے پیچھے ہٹا دیا گیا کہ یہ اللہ کے عرش کا سایہ ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس کے لیے لوگوں سے محبت کرتے ہیں اور اسی کے لیے نفرت - اور بی بی جان پھر میری آنکھ کھل گئی اور میرے دل نے آپ کے مذہب کے سچا ھونے کی گواہی دی اور میں آپ کے سامنے ھوں مگر آپ کو ایک بات بتاؤں بی بی جان! اس چھاؤں میں خوشی سے چمکتا دمکتا چہرہ لیے آپ بھی موجود تھیں میں نے آپ کو خود دیکھا تھا " پروین آنسؤؤں کی لڑی میں ہنستے ہوئے خوش ھوکر بولی - حیرت اور مسرت سے بی بی جان کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا - اور وہ پروین کو کلمہ پڑھانے کے لیے غسل کرنے کا کہہ کر خودسجدہ شکر ادا کرنے چل پڑیں انہیں کیا خبر تھی کہ ان کا پروین کو چار سال تک" یَا ھَادِیُ یَا رَشِیْدُ " 
(اے ھدایت دینے والے اے راستہ دکھانے والے) 
کا اسم اعظم دم کر کے کھانا کھلانے سے جہاں اسے ھدایت کا نور عطا کیا جائے گا وہاں انہیں روز ٍ قیامت سایہ ءعرش کی خوشخبری بھی اسی کے ذریعے پہنچا دی جائے گی -
تحریر : عالیہ ذوالقرنین

16 Oct 2016 | By:

ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎﺭﻑ ﮐﯿﻮﮞ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﻮﮞ؟

"تم نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا تھا حیا ! کہ میں ہر وقت اسکارف کیوں پیہنتی ہوں؟"

عائشہ سر جھکائے لکڑی کے ٹکڑے کا کنارہ تراشتے ہوئے کہہ رہی تھی۔ "
میں تمہیں بتاؤں ‘ میرا بھی دل کرتا ہے کے میں وہ خوبصورت لباس پہنوں
جو بیوک ادا میں استنبول یا اٹلی اور اسپین کی لڑکیاں پہن کر آتی ہیں۔

بلکل جیسے ماڈلز پہنتی ہیں اور جب وہ اونچی ہیل کے ساتھ ریمپ پہ چلتی آ رہی ہوتی ہیں
تو ایک دنیا ان کو محسور ہو کر دیکھ رہی ہوتی ہے۔
میرا بھی دل کرتا ہے کہ میں بھی ایسے اسمارٹ اور ٹرینڈی ڈیزائنر لباس پہن کر جب سڑک پہ چلوں تو لوگ محسور و متاثر ہو کر مجھے دیکھیں۔۔۔۔۔
لیکن---
وہ سانس لینے کو رکی، حیا بنا پلک جھپکے ، سانس روکے اسے دیکھ رہی تھی۔
"لیکن...
پھر مجھے خیال آتا ہے۔ یہ خیال کہ ایک دن میں مر جاؤں گی،
جیسے تمہاری دوست مر گئی تھی اور میں اس مٹی میں چلی جاؤں گی،
جس کے اوپر میں چلتی ہوں۔
پھر ایک دن سورج مغرب سے نکلے گا اور زمین کا جانور زمین سے نکل کر لوگوں سے باتیں کریگا اور لال آندھی ہر سو چلے گی-
اس دن مجھے بھی سب کے ساتھ اٹھایا جائیگا۔
تم نے کبھی اسٹیڈیمز دیکھے ہیں جن میں
بڑی بڑی اسکرینز نصب ہوتی ہیں؟
میں خود کو ایسے ہی اسٹیڈیم میں دیکھتی ہوں۔
میدان کے عین وسط میں کھڑے۔ اسکرین پہ میرا چہرا ہوتا ہے اور پورا میدان لوگوں سے بھرا ہوتا ہے۔
سب مجھے ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں اور میں اکیلی وہاں کھڑی ہوتی ہوں۔ میں سوچتی ہوں حیا،
اگر اس وقت میرے رب نے مجھ سے پوچھ لیا کہ انا طولیہ کی عائشے گل،
اب بتاؤ تم نے کیا‘ کیا؟ یہ بال‘ یہ چہرا‘ یہ جسم‘ یہ سب تو میں نے تمہیں دیا تھا-
یہ نہ تم نے مجھ سے مانگ کر حاصل کیا تھا
اور نہ ہی اس کی قیمت ادا کی تھی۔
یہ تو میری امانت تھی۔ پھر تم نے اسے میری مرضی کے مطابق استعمال کیوں نہیں کیا؟
تم نے اس وہ کام کیوں کیئے جن کو میں نا پسند کرتا ہوں؟
تم نے ان عورتوں کا رستہ کیوں چن لیا جن سے میں ناراض تھا؟"
میں نے ان سوالوں کے بہت جواب سوچے ہیں،
مگر مجھے کوئی جواب مطمئن نہیں کرتا۔
روز صبح اسکارف لینے سے پہلے میری آنکھوں کے سامنے ان تمام حسین عورتوں کے دلکش سراپے گردش کرتے ہیں
جو ٹی وی پہ میں نے کبھی دیکھی ہوتی ہیں اور میرا دل کرتا ہے کہ میں بھی ان کا راستہ چن لوں،
مگر پھر مجھے وہ آخری عدالت یاد آ جاتی ہے،
تب میں سوچتی ہوں کہ اس دن میں الله کو کیا جواب دوں گی؟
میں ترازو کے ایک پلڑے اپنا وہ سراپا ڈالتی ہوں جس میں،
میں خود کو اچھی لگتی ہوں اور دوسرے میں وہ جس میں،
میں الله تعٰالی کو اچھی لگتی ہوں۔
میری پسند کا پلڑا کبھی نہیں جھکتا۔
الله کی پسند کا پلڑا کبھی نہیں اٹھتا۔
تم نے پوچھا تھا کہ میں اسکارف کیوں لیتی ہوں؟
سو میں یہ اس لیئے کرتی ہوں
کیونکہ میں الله کو ایسے اچھی لگتی ہوں۔
(ﺍﻗﺘﺒﺎﺱ : ﻧﻤﺮﮦ ﺍﺣﻤﺪ ﮐﮯ ﻧﺎﻭﻝ " ﺟﻨّﺖ ﮐﮯ ﭘﺘﮯ " )