11 Aug 2017 | By:

شکست کھانا بُری بات نہیں ، شکست کھا کر ہار مان جانا بُری بات ہے ۔

شکست کھانا بُری بات نہیں ، شکست کھا کر ہار مان جانا بُری بات ہے ۔
اچھی کتابیں بہترین دوست ہیں ۔ سچائی کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی ۔
حکمت و دانائی مفلس کو بادشا بناہ دیتی ہے ۔
دو چیزیں جنت میں لے جانے والی ہیں خوفِ خدا اور خوش خلقی ۔
غصہ ہمیشہ تنہا آتا ہے مگر جاتے ہوئے عقل اخلاق اور شخصیت کی خوبصورتی کو لے جاتا ہے ۔

ہاتھوں کی خوبصورتی کے لئے اپنے ہاتھوں سے صدقہ دیں۔

ہاتھوں کی خوبصورتی کے لئے اپنے ہاتھوں سے صدقہ دیں۔آواز کی خوبصورتی کے لئے قران پاک کی تلاوت کریں ۔آنکھوں کی خوبصورتی کے لئےاللہ کے خوف سے آنسو بہائیں۔چہرے کی خوبصورتی کے لئے وضو کی عادت ڈالیں ۔دل کی خوبصورتی کے لئے اپنے دل میں اللّٰہ کی یاد بسائیں ۔دماغ کی خوبصورتی کے لئے اللّٰہ کی بارگاہ میں سجدہ کریں۔

10 Aug 2017 | By:

احباب۔۔۔!


احباب۔۔۔!
آپ منہ میں روٹی کا ایک لقمہ رکھ کے تین دن گھومتے رہیں وہ آپ کی نشو نما کا باعث نہیں بن سکے گا - جب تک کہ وہ آپ کے معدے میں نہ اتر جائے ، اور معدے میں اتر کر آپ کے خون کا حصہ نہ بن جائے اور پھر آپ کو تقویت عطا ہوتی ہے - میں آپ اور ہم سب منہ کے اندر رہے علم کو ایک دوسرے کے اوپر اگلتے رہتے ہیں ،اور پھینکتے رہتے ہیں - اور پھر اس بات کی توقع کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم کو اس سے خیر کیوں حاصل نہیں ہوتی۔،۔،

از اشفاق احمد زاویہ ٢ عالم اصغر سے عالم اکبر تک۔،۔،

ایک رات میں نے لالٹین سے پوچھا


ایک رات میں نے لالٹین سے پوچھا

کیوں بی! تم کو رات بھر جلنے سے کچھ تکلیف تو نہیں ہوتی؟

بولی: 

آپ کا خطاب کس سے ہے؟
بتی سے ، تیل سے ، ٹین کی ڈبیہ سے ، کانچ کی چمنی سے یا پیتل کے اس تار سے جس کو ہاتھ میں لے کر لالٹین کو لٹکائے پھرتے ہیں۔ میں تو بہت سے اجزاء کا مجموعہ ہوں۔

لالٹین کے اس جواب سے دل پر ایک چوٹ لگی ۔ یہ میری بھول تھی۔ اگر میں اپنے وجود کی لالٹین پر غور کرلیتا تو ٹین اور کانچ کے پنجرے سے یہ سوال نہ کرتا۔
میں حیران ہوگیا کہ اگر لالٹین کے کسی جزو کو لالٹین کہوں تو یہ درست نہ ہوگا اور اگر تمام اجزاء کو ملا کر لالٹین کہوں تب بھی موزوں نہ ٹھہرے گا، کیونکہ لالٹین کا دم روشنی سے ہے۔ روشنی نہ ہو تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ مگر دن کے وقت جب لالٹین روشن نہیں ہوتی ، اس وقت بھی اس کا نام لالٹین ہی رہتا ہے۔ تو پھر کس کو لالٹین کہوں۔ جب میری سمجھ میں کچھ نہ آیا ، تو مجبورا لالٹین ہی سے پوچھا:

میں خاکی انسان نہیں جانتا کہ تیرے کس جزو کو مخاطب کروں اور کس کو لالٹین سمجھوں۔ 

یہ سن کر لالٹین کی روشنی لرزی ، ہلی، کپکپائی۔ 
گویا وہ میری ناآشنائی و نادانی پر بےاختیار کھلکھلا کر ہنسی اور کہا:

"اے نورِ خدا کے چراغ ، آدم زاد ! سن، لالٹین اس روشنی کا نام جو بتی کے سر پر رات بھر آرا چلایا کرتی ہے۔ لالٹین اس شعلے کو کہتے ہیں جس کی خوراک تیل ہے اور جو اپنے دشمن تاریکی سے تمام شب لڑتا بھڑتا رہتا ہے۔ دن کے وقت اگرچہ یہ روشنی موجود نہیں ہوتی لیکن کانچ اور ٹین کا پنجرہ رات بھر ، اس کی ہم نشینی کے سبب لالٹین کہلانے لگتا ہے ۔ 

تیرے اندر بھی ایک روشنی ہے۔ اگر تو اس کی قدر جانے اور اس کو پہچانے تو سب لوگ تجھ کو روشنی کہنے لگیں گے ، خاک کا پتلا کوئی نہیں کہے گا۔"

دیکھو ،خدا کے ولیوں کو جو اپنے پروودگار کی نزدیکی و قربت کی خواہش میں تمام رات کھڑے کھڑے گزار دیتے تھے، تو دن کے وقت ان کو نورِ خدا سے علیحدہ نہیں سمجھا جاتا رہا ، یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی ان کی وہی شان رہتی ہے۔

تو پہلے چمنی صاف کر۔ یعنی لباسِ ظاہری کو گندگی اور نجاست سے آلودہ نہ ہونے دے۔ اس کے بعد ڈبیا میں صاف تیل بھر۔ یعنی حلال کی روزی کھا، اور پھر دوسرے کے گھر کے اندھیرے کے لئے اپنی ہستی کو جلا جلا کر مٹا دے۔ اس وقت تو بھی قندیلِ حقیقت اور فانوسِ ربانی بن جائے گا۔

23 Jul 2017 | By:

کبھی کبھی۔۔۔قدرت۔۔۔قیمتی لوگوں کو۔۔۔جذباتی طور پر۔۔۔قیمتی لوگوں کے لئے۔۔۔تیار کرتی ہے۔۔۔




کبھی کبھی۔۔۔قدرت۔۔۔قیمتی لوگوں کو۔۔۔جذباتی طور پر۔۔۔قیمتی لوگوں کے لئے۔۔۔تیار کرتی ہے۔۔۔
شیکسپیئر۔۔۔اپنے شہرآفاق۔۔۔ڈرامے۔۔۔"رومیو جولیٹ"۔۔۔میں لکھتا کے کہ۔۔۔
رومیو۔۔۔جیولیٹ سے پہلے۔۔۔روزلین نامی لڑکی سے۔۔۔جذباتی طور پر۔۔۔جڑ جاتا ہے۔۔۔جذباتی جڑنے کی شدد ۔۔۔اس قدر شدید ہوتی ہے کہ۔۔۔رومیو رو رو کر۔۔۔اپنا برا حال کر لیتا ہے۔۔۔اسے رات کے دن ہونے تک کا۔۔۔اندازہ نہیں ہوتا۔۔۔(ڈرامےمیں ایک جگہ۔۔۔رومیو کا کزن۔۔۔جب رومیو کو آ کے بتاتا ہے کہ۔۔۔صبح ہو گئی ہے تو۔۔۔رومیو جواب دیتا ہے کہ۔۔۔میرا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا۔۔۔میرے لئے تو۔۔۔تب تک رات ہے۔۔۔اندھیرا ہے۔۔۔جب تک مجھے میرا محبوب نہیں ملتا۔۔۔)۔۔۔
شیکسپیئر۔۔۔رومیو کی جولیٹ سے پہلے۔۔۔روزلین سے محبت کو۔۔۔جسٹیفائی کرنے کے لئے کہتا ہے کہ۔۔۔نیچر(قدرت)۔۔۔رومیو کو جیولیٹ کے لئے۔۔۔تیار کر رہی تھی۔۔۔
بطور ماہر نفسیات۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ۔۔۔شیکسپیئر۔۔۔کی یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ۔۔۔کبھی کبھی لوگ کسی۔۔۔بےقدرے کے لئے۔۔۔تڑپ کر۔۔۔قدر کرنے والے کے لئے۔۔۔جذباتی طور پر۔۔۔تیار ہو رہے ہوتےہیں۔۔۔
جس دن آپ کو یہ بات سمجھ آگئی کہ۔۔۔وہ "بےقدرا" میری قسمت نہیں تھا بلکہ۔۔۔وہ صرف کسی "قدروالے" کی تیاری تھا تو۔۔۔آپ کو سکون آ جائے گا۔۔۔
غور کریں۔۔۔اگرآپ۔۔۔کسی "بےقدرے" سے۔۔۔اس قدر جڑ سکتے ہیں تو۔۔۔کسی قدر کرنے والے کو۔۔۔کس قدر محبت کریں گے۔۔۔
آپ کا ماہر نفسیات۔۔۔


2 Jul 2017 | By:

انسان نہ ہی اپنی عمر سے بڑا ہوتا ہے ، نہ ہی عہدے ، قد ، دولت، نسل یا جنس سے بلکہ انسان اپنی سوچ عمل اور صحیح فیصلے کی اہلیت سے بڑا ہوتا ہے ۔

انسان نہ ہی اپنی عمر سے بڑا ہوتا ہے ، نہ ہی عہدے ، قد ، دولت، نسل یا جنس سے بلکہ انسان اپنی سوچ عمل اور صحیح فیصلے کی اہلیت سے بڑا ہوتا ہے ۔

نرم الفاظ چٹان جیسے سخت دلوں کو نرم کر دیتے ہیں





نرم الفاظ چٹان جیسے سخت دلوں کو نرم کر دیتے ہیں، اور سخت الفاظ ریشم جیسے نرم دلوں کو بھی سخت کردیتے ہیں۔





ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﺳﺮ ﺑﻠﻨﺪ ﺍﻭﺭﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﮑﺒﺮ ﮐﮯ ﺗﺎﺝ ﻛﻮ ﺩﻭﺭ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﻭﮦ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﮌﮪ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ







مصیبتوں، مشقتوں حتی کے ذمہ داریوں کے نبھانے میں نماز آپکی مددگار ھے، اسکا سہارہ لیں






سخاوت مال میں نہیں ہے، سخاوت دلوں کے حال میں ہے.





آسانیاں تقسیم نہ کی جائیں، تو مشکلیں جمع ہو جاتی ہیں-


ﻣﺴﺠﺪ ﺗﮏ ﺧﻮﺩ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﺁﯾﺎ ﮬﻮﮞ۔

ﮐﮩﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺻﺒﺢ ﺳﻮﯾﺮﮮ ﺍُﭨﮭﺎ، ﺻﺎﻑ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮬﻮ ﻟﯿﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻓﺠﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﮮ۔ ...
ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ، ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯿﭽﮍ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﺍﭘﺲ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ، ﻟﺒﺎﺱ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮﺍ۔ ﭘﮭﺮ ﭨﮭﯿﮏ ﺍُﺳﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﺑﺪﻻ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮﺍ ...
ﺟﺐ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍُﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﭼﺮﺍﻍ ﮬﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﮧ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ۔ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍُﺳﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺗﮏ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ..
ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﭼﺮﺍﻍ ﮬﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺍ۔ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : " ﺁﭖ ﻣﺴﺠﺪ ﺁ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﮯ؟ "
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ؛ " ﺍِﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﮬﻮﮞ۔ " ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮬﯽ ﺟﺐ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ۔ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ..
" ﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﮬﯽ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮﺍﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺳﻤﺖ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺌﮯ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻦ ﮐﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺑﺨﺶ ﺩﺋﯿﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺏ ﮐﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﭘﮭﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺷﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﻧﮧ ﺑﺨﺶ ﺩﮮ، ﺍِﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﺗﮏ ﺧﻮﺩ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﺁﯾﺎ ﮬﻮﮞ۔ "
( ﺣﮑﺎﯾﺎﺕِ ﻓﺎﺭﺳﯽ ،ﺳﻮﺯِ ﺭﻭﻣﯽ

1 Jul 2017 | By:

وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے



يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ الْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا
On that day those who disbelieved and disobeyed the Messenger [Muhammad (pbuh)] will wish that they were buried in the earth, but they will never be able to hide a single fact from Allah.
اس دن جن لوگوں نے کفر کیا اور رسول (ﷺ) کی نافرمانی کی ہوگی، یہ آرزو کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔
[Al-Quran 4:42]

محبت ذات ہوتی ہے

محبت ذات ہوتی ہے
محبت ذات کی تکمیل ہوتی ہے
کوئی جنگل میں جا ٹھہرے ، کسی بستی میں بس جائے
محبت ساتھ ہوتی ہے
محبت خوشبوؤں کی لَے
محبت موسموں کی دُھن
محبت آبشاروں کے نکھرتے پانیوں کا مَن
محبت جنگلوں میں رقص کرتی مورنی کاتن
محبت برف پڑتی سردیوں میں دھوپ بنتی ہے
محبت چلچلاتے گرم صحراؤں میں ٹھنڈی چھاؤں کی مانند
محبت اجنبی دنیا میں اپنے گاؤں کی مانند
محبت دل
محبت جاں
محبت روح کا درماں
محبت مورتی ہے
اور کبھی جو دل کے مندر میں کہیں پر ٹوٹ جائے تو
محبت کانچ کی گڑیا
فضاؤں میں*کسی کے ہاتھ سے گر کر چھوٹ جائے تو
محبت آبلہ ہے کرب کا
اور پھوٹ جائے تو
محبت روگ ہوتی ہے
محبت سوگ ہوتی ہے
محبت شام ہوتی ہے
محبت رات ہوتی ہے
محبت جھلملاتی آنکھ میں برسات ہوتی ہے
محبت نیند کی رت میں خوابوں کے رستوں پر سلگتے
جاں کو آتے رتجگوں کی گھات ہوتی ہے
محبت جیت ہوتی ہے
محبت مات ہوتی ہے
محبت ذات ہوتی ہے