27 Dec 2015 | By:

Ajab Tarah Se Socha Hai Zindagi K Liye



Ajab Tarah Se Socha Hai Zindagi K Liye
Zakham Zakham Likhte Hain Har Kushi K Liye
Wo Shaks Muje Bhool Gaya To Yaqeen Aya
Koi Bhi Shaks Zaroori Nahi Kisi K Liye

بتائیں کیا ہمارے زخم زخم کے گلاب

بتائیں کیا ہمارے زخم زخم کے گلاب
ماہ و آفتاب سب گواہ ہیں
کہ ہم نے کیا نہیں سہا
صعوبتوں کے درمیاں
ہمارے ساتھ اک یقیں رہا
گواہ یہ زمین اور زماں رہے
نہ آج سوگوار ہیں
نہ کل ہی نوحہ خواں رہے
شرر جو کل لہو میں تھے
وہ آج بھی لہو میں ہیں
ہمارے خواب
سانس لے رہے ہیں آج بھی
کوئی دیا بجھا نہیں
کہ ہم ابھی تھکے نہیں
اور اک صدی سے دوسری تلک
سفر میں ہیں 

وہ لمحہ جو میرا تھا

وہ لمحہ جو میرا تھا

ایک دن
تم نے مجھ سے کہا تھا
دھوپ کڑی ہے
اپنا سایہ ساتھ ہی رکھنا
وقت کے ترکش میں جو تیر تھے
کھل کر برسے ہیں
زرد ہوا کے پتھریلے جھونکوں سے
جسم کا پنچھی گھائل ہے
دھوپ کا جنگل پیاس کا دریا
ایسے میں آنسو کی اک اک بوند کو
انسان ترستے ہیں

تم نے مجھ سے کہا تھا
سمے کی بہتی ندی میں
لمحے کی پہچان بھی رکھنا۔۔
میرے دل میں جھانک کر دیکھو
دیکھو ساتوں رنگ کا پھول کھلا ہے
وہ لمحہ جو میرا تھا وہ میرا ہے
وقت کے پیکاں بے شک تن پر آن لگے
دیکھو اس لمحے سے کتنا گہرا رشتہ ہے
خوشبو بند دریچے کھول رہی ہے
چاندنی راتوں سا موسم بھی
کلیاں بھی ہیں شبنم بھی
یہ سب میرے آئینے ہیں
اور ہر آئینے میں تم ہو

حال کُھلتا نہیں جبینوں سے

حال کُھلتا نہیں جبینوں سے
رنج اُٹھائے ہیں کن قرینوں سے

رات آہستہ گام اُتری ہے
درد کے ماہتاب زینوں سے

ہم نے سوچا نہ اُس نے جانا ہے
دل بھی ہوتے ہیں آبگینوں سے

کون لے گا شرارِ جاں کا حساب
دشتِ امروز کے دفینوں سے

تو نے مژگاں اُٹھا کے دیکھا بھی
شہر خالی نہ تھا مکینوں سے

آشنا آشنا پیام آئے
اجنبی اجنبی زمینوں سے

جی کو آرام آ گیا ہے اداؔ
کبھی طوفاں، کبھی سفینوں سے

اداؔ جعفری
26 Dec 2015 | By:

Mahiya by Rahat Wafa



Mahiya by Rahat Wafa

Mahiya by Rahat Wafa





deen ki samajh


رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
جس شخص سے الله بھلائی کا ارادہ کرے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے.

Astaghfaar-

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس آدمی نے استغفار کو لازم کرلیا اللہ تعالیٰ اس کو ہر تنگی سے نکال دیں گے، اس کے ہر غم کو دور کردینگے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائیں گے جہاں سے اس کو وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔
(ابوداوُد، ابن ماجہ)
25 Dec 2015 | By:

pehli khushi

pehli khushi


kheel hai muqadar ka


ﮐﮭﯿﻞ ﮨﮯ ﻣﻘﺪّﺭ ﮐﺎﻣِﻠﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑِﭽﮭﮍ ﺟﺎﻧﺎ



ﮐﮭﯿﻞ ﮨﮯ ﻣﻘﺪّﺭ ﮐﺎ
ﻣِﻠﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑِﭽﮭﮍ ﺟﺎﻧﺎ
ﺯِﯾﺴﺖ ﮐﯽ ﺟﻮ ﮔﺎﮌﯼ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺲ ﻣﻘﺪّﺭ ﮐﮯ
ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ
ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺟُﺪﺍ ﺳﺐ ﮐﮯ
ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﺍﻟﮓ ﺳﺐ ﮐﯽ
ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﻘﺪّﺭ ﺑﮭﯽ
ﮐِﺲ ﮐﺎ ﮐِﺲ ﺳﮯ ﻣِﻠﺘﺎ ﮨﮯ
“ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮨﮯ“
ﺟﺲ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﻘﺪّﺭ ﮐﮯ
ﺯﻭﺭ ﮐِﺲ ﮐﺎ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ