23 Jun 2013 | By:

ساری دنیا اداس پاؤ گے


ساری دنیا اداس پاؤ گے




مجھ سے توڑے جو سلسلے تم نے



ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ

ﮨﺮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ
ﭼﻼ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،، ﻟﯿﮑﻦ ﺧﻮﺵ ﻧﺼﯿﺐ ﻭﮦ ﮨﮯ
ﺟﻮ ﻣﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﻗﺮﯾﺐ
ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔

کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے.

شیخ کا تصور انسان کے دل سے ہر نقش محو کر دیتا ہے ،
سب پریشانیاں دور کر دیتا ہے،
یہ ایسا تصور ہے جو باقی ہر تصور سے آزاد کر دیتا ہے،محو کر دیتا ہے، نہ کوئی خیال ہے اور نہ کوئی وہم.
نہ ہونا ہے اور نہ 'ناں' ہونا ہے ،
وہ جگر نے کہا ہے کہ :
اس نے اپنا بنا کے چھوڑ دیا...
.
.
کیا اسیری ہے کیا رہائی ہے.
(واصف علں واصف رحمتہ اللہ علیہ)

ایک مرتبہ ایک نہایت ہی حسین وجمیل اور پاکباز عورت

ایک مرتبہ ایک نہایت ہی حسین وجمیل اور پاکباز عورت حضرت بایزید رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اُن سے شکایت کی کہ میرا خاوند دوسری شادی کرنا چاھتا ھے - اسلیے آپ مجھے ایسا تعویذ دیں یا اس طرح دُ عا مانگیں کہ وہ اپنے اس ارادے سےباز آجائے
حضرت نے فرمایا-"بہن! جب اللہ تعالی نے مرد کو استطاعت ہونے پر چار تک بیویاں کرنے کی اجازت دی ھے تو پھر میں کون ہوتا ھوں جو قانون خُداوندی میں در آؤں اور حکم خُداوندی کی خلاف ورزی کا ذریعہ بنوں "
اس پر وہ خاتون بہت دل برداشتہ ہوئی اور حضرت کی بارگاہ میں عرض کیا "حضرت! میں پردہ میں ھوں اور شریعت اجازت نہیں دیتی کہ میں آپ پر اپنا چہرہ ظاہر کروں ، اگر شریعت اجازت دیتی اور میں آپ پراپنا حسن و جمال ظاہر کرسکتی پھر آپ فیصلہ فرماتے کہ آیا میرے خاوند کو سوکن لانے کا حق حاصل ھے یا نہیں ؟
یہ جواب سُننا تھا کہ حضرت تڑپ اُٹھے اور بے ہوش ھوگئے - ہوش آنے پر فرمایا -دیکھو! یہ ایک خاتون جس کا حسن وجمال قطعی فانی اور محض عطیہ خداوندی ہے ، اپنے حسن وجمال پراس قدر نازاں ہے کہ اس پر سوکن لانا پسند نہیں کرتی اور اپنی توہین سمجھتی ھے
تو وہ رب ذوالجلال اور خالق کائنات جو حسن وجمال کا خالق اور ساری کائنات کا خالق ھے کیونکر گوارہ کرسکتا ھے کہ مخلوق کسی کو اسکا شریک ٹہرائے-

henna---257,270

















جو خواہش اللہ کی رضا پر قربان ہو،



جو خواہش اللہ کی رضا پر قربان ہو،



اگر وہ پوری ہو جائے تب سکون ھے،



پوری نہ ہو تب سکون ہے.



)واصف علی واصف رحمتہ اللہ علیہ(

محبت کبهی فنا نهیں هوتی

وه دل ،جس میں محبت گهر کرے، وه پهولوں کی بستی اجاڑنے والے اسے خواه کتنا هی اجاڑ لیں وه سدا مهکتی رهتی هے.



کیونکه  محبت کبهی فنا نهیں هوتی

انھیں خدمتوں کی برکت سے یہ مراتب مجھے حاصل

حضرت بایزید بسطامی رحمتہ الله علیہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جتنے بھی مراتب حاصل ہوئے سب والدہ کی اطاعت سے حاصل ہوئے -ایک مرتبہ میری والدہ نے رات کو پانی مانگا لیکن اتفاق سے اس رات گھر میں پانی نہیں تھا -چنانچہ میں گھڑا لے کر نہر سے پانی لایا - میری آمد و رفت کی تاخیر کی واضح سے والدہ کو نیند آ گئی اور میں رات بھر پانی لیے کھڑا رہا - حتی ٰ کہ شدید سردی کی وجہ سے وہ پانی پیالے میں منجمد ہوگیا اور جب والدہ کی بیداری کے بعد میں نے انھیں پانی پیش کیا تو انھوں نے فرمایا تم نے پانی رکھ دیا ہوتا اتنی دیر کھڑے رہنے کی کیا ضرورت تھی - میں نے عرض کیا محض اسلئے کھڑا رہا کہ مبادا آپ کہیں بیدار ہو کر پانی نہ پی پائیں اور آپ کو تکلیف پہنچے - یہ سن کر انھوں نے مجھے دعائیں دیں..
اسی طرح ایک رات والدہ نے فرمایا کہدروازے کا ایک پٹ کھول دو - لیکن میں رات بھر اس پریشانی میں کھڑا رہا کہ نہ معلوم داہنا پٹ کھولوں یا بایاں - کیونکہ اگر ان کی مرضی کےخلاف پٹ کھل گیا تو حکم عدولی میں شمار ہوگا - چانچہ انھیں خدمتوں کی برکت سے یہ مراتب مجھے حاصل ہوئے -
- شیخ فرید الدین عطار - تذکرہ اولیاء