12 Sept 2014 | By:

صحت

صحت

کچی پکی سبزیاں:

صحت و تندرستی کے حصول اور دل کے امراض، موٹاپے اور دیگر بیماریوں سے بچنے کے لئے متوازن خوراک کا استعمال کریں۔ ایسی خواک جس میں پھل، سبزیاں، دودھ اور اناج وغیرہ سب مناسب مقدار میں شامل ہوں۔ سبزیاں انسانی جسم کو درکار تمام 

حیاتین، ریشہ، پروٹین، لحمیات، نمکیات، نشاستہ اور عناصر جیسے آئرن، کیلشیم، فاسفورس ، سوڈیم وغیرہ کی ضرورت کو پورا کرتی ہیں۔ صحت و تندرستی کا راز ڈائٹنگ میں نہیں بلکہ اپنی خوراک میں تبدیلی لانے اور ایسی اشیاءکے استعمال میں ہے جو 

قدرتی طور پر انسانی جسم کے لئے ہی پیدا کی گئی ہیں۔ یہ اشیاءنباتاتی 


مادوں پر مشتمل ہوسکتی ہیں، جو مزے دار بھی ہوں اور قوت بخش بھی۔ سبزیاں انسانی جسم کے لئے کس قدر قوت بخش اور صحت افزاءہیں، اس کےلئے ہم چند سبزیوں میں موجود اجزاءکا ذکر کریں گے۔ مثلاً شلجم، ٹنڈے، لوکی، مٹر، چنے آلو، ٹماٹر، پالک، 

بیگن، بھنڈی، کھیرا، چقندر، توری، گوبھی، بند گوبھی میں وٹامن A، C اور وٹامن B کی مختلف اقسام کی مقدار 90 سے 50فیصد تک ہوتی ہے۔ پانی، پروٹین، چکنائی، نشاستہ اور نمک کی مقدار 91 سے 7 فیصد تک ہوتی ہے۔ جبکہ کیلوریز کی مقدار فی 100 

گرام غذا 100 سے 1 فیصد تک ہوتی ہے۔ عموماً پروٹین کے حصول کےلئے گوشت استعمال کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ حیوانی پروٹین دل کے دوروں کا سبب بھی بن سکتی ہے جبکہ نباتاتی پروٹین اس کے برعکس کام کرتی ہے۔ نباتاتی پروٹین میں وہ تمام ضروری 

امائنو ایسڈز بھی ہوتے ہیں جو جسم کے نئے خلیات بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ 


ایسے پروٹین جو جسم کی بافتوں (ٹشوز) اور امائنوایسڈز بنانے کے لئے ضروری ہیں۔ اس کے حصول کے دو طریقے ہیں: 

کوئی سبزی مثلاً لوبیا، مٹر، سویابین وغیرہ گندم یا چاول کے ساتھ ملاکر کھائی جائے۔ 

گندم، چاول یا بیج دار اشیاءتھوڑے سے گوشت، مچھلی، انڈے یا ڈیری کی اشیاءسے ساتھ ملاکر کھائی جائیں۔ ماہرین غذائیات (nutritionist) کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ سبزی خور افراد گوشت خوروں کے مقابلے میں زیادہ صحت مند، توانا اور طویل عمر 

پاتے ہیں۔


 ورزش:

صحت مند اور توانا رہنے کے لئے خوب کھائیے اور پیجئے مگر ورزش، چہل قدمی، کھیل کود میں بھی ضرور حصہ لیں۔ جس تناسب سے کھائیں اور آرام کریں اسی تناسب سے ورزش بھی ضرور کریں تاکہ فاضل چربیلے مادے، جزو بدن ہونے کے 

بجائے جسم سے خارج ہوجائیں اور جسم میں چربی نہ بڑھنے پائے۔ سب سے آسان ورزش چہل قدمی ہے۔ یہ سب کے لئے مفید ہے۔ شروع میں آہستہ آہستہ، پھر قدرے تیز تیز، پھر دوڑنا صحت کےلئے بے حد مفید ہے۔ 

٭ اجناس:
نہ صرف ہمارے یہاں بلکہ پوری دنیا میں یہ غلط تاثر اور احساس پایا جاتا ہے کہ اگر موٹاپا ختم کرنا ہو یا ڈائٹنگ کرنی ہو تو یکسر کھانا پینا چھوڑ کر سلاد اور جوس کا استعمال شروع کردیا جائے یا پھر روٹی، چاول، دلیہ، گندم، آلو، سویاں، بیج وغیرہ 

کھانا چھوڑ دیئے جائیں۔لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان اشیاءکو چھوڑنے سے یکدم وزن تو کم ہوتا ہے لیکن ساتھ ہی جسمانی توانائی و قوت کم ہوجاتی ہے اور بھوک بھی زیادہ لگتی ہے۔ 

یہ اناج ہی ہیں جو موٹاپے کو اور جسم میں چربیلے مادوں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ گندم، مکئی، چنا، جو، چاول جیسی اجناس نہ صرف بھوک مٹاتے ہیں بلکہ طاقت و توانائی بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ موٹاپا بھی قریب نہیں آنے دیتے کیونکہ تمام 

اجناس میں دیگر چیزوں کے مقابلے میں حراروں کی مقدار کم ہوتی ہے۔ مشی گن اسٹیٹ یونی ورسٹی کے سائنس اور انسانی خوارک کے ماہر پروفیسر اولف میکلسن کا کہنا ہے کہ روٹی حقیقتاً وزن کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایسے انسان جو بہت 

موٹے ہیں، روٹی خوب کھائیں، دالیں، جو، مکئی اور چاول بھی غذا میں شامل کریں۔ بھوک مٹانے اور پیٹ بھرنے کا رس (جوس) سے بہترین ذریعہ کوئی نہیں۔



 پھل:
گزشتہ صدی تک دنیا بھر کے افراد کی خوراک سبزیوں، دالوں، دانہ دار اشیائ، اجناس اور تازہ پھلوں پر مشتمل ہوتی تھی۔ آج اس کے برعکس دودھ، دہی، مکھن، گوشت کی بھرمار ہے۔وزن کم کرنے اور بیماریوں سے بچنے کا ایک حل یہ بھی ہے کہ پھلوں 

کی مقدار غذا میں بڑھائی جائے۔ سلاد اور جوس کااستعمال بڑھایا جائے اور نشاستے دار کھانوں میں اضافہ کیا جائے۔ کولیسٹرول گھٹانے کے لئے بھی پھلوں کا اور ترش پھلوں کینو، مالٹا، سنترہ، لیمو، آم، انار وغیرہ کا استعمال کیا جائے۔ 

مٹھاس کے حصول کے لئے مٹھائیوں، کیک پیسٹری ،مصنوعی مشروبات کے بجائے اگر مکس پھلوں کی چاٹ، شہد، پھلوں کا جوس، اسکواش، ملک شیک، مربہ جات اور تازہ پھل استعمال کئے جائیں تو یہ زیادہ سودمند ثابت ہونگے۔


..........................................


10 Sept 2014 | By:

کلونجی


کلونجی 


نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ کلونجی استعمال کیا کرو کیونکہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری کے لیے شفا ہے ۔ کلونجی ایک قسم کا گھاس ہے۔ اس کا پودا خودرو اور چالیس سنٹی میٹر بلند ہوتا ہے۔،بالکل سونف سے مشابہ ہوتا ہے۔پھول 

زردی مائل ،بیجوں کا رنگ سیاہ اور شکل پیاز کے بیجوں سے ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ انہیں پیاز کا ہی بیج سمجھتے ہیں۔کلونجی کے بیجوں کی بوتیز اور تاثیری شفا سات سال تک قائم رہتی ہے۔صحیح کلونجی کی پہچان یہ ہے کہ اگر اسے 

سفید کاغذ میں لپیٹ کر رکھا جائے تو اس پر چکنائی کے دھبے لگ جاتے ہیں۔کلونجی کے بیج خوشبودار اور ذائقے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔اچار اور چٹنی میں پڑے ہوئے چھوٹے چھوٹے تکونے سیاہ بیج کلونجی کے ہی ہوتے ہیں۔ جواپنے اندر بے 

شمار فوائد رکھتے ہیں۔ یہ سریع لاثر یعنی بہت جلد اثر کرتے ہیں۔
اطباء قدیم کلونجی کے استعمال اور اس کے بیجوں کے استعمال سے خوب واقف تھے۔ معلوم تایخ میں رومی ان کا استعمال کرتے تھے۔ قدیم یونانی اور عرب حکماء نےکلونجی کو رومیوں ہی سے حاصل کیا اور پھر یہ پودا دنیا بھر میں کاشت اور استعمال 

ہونے لگا۔ طبی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم یونانی اطباء کلونجی سے بیج معدہ اورپیٹ کے امراض مثلًا پیٹ میں ریاح گیس کا ہونا، آنتوں کا درد، کثرت ایام، استقاء، نسیان (یادداشت میں کمی) رعشہ، دماغی کمزوری، فالج اور افزائش دودھ کے لیے 

استعمال کراتے رہے ہیں۔ رسول اللہ ۖ کے حوالے سے کتب سیرت میں ملتا ہے کہ آپ ۖ شہد کے شربت کے ساتھ کلونجی کا استعمال فرماتے تھے۔ حضرت سالم بن عبداللہ (رض) اپنے والد عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ۖ نے 

فرمایا تم ان کالے دانوں کو اپنے اوپر لازم کرلو ان میں موت کے سوا ہر مرض کا علاج ہے۔
کلونجی کی یہ اہم خاصیت ہے کہ یہ گرم اور سرد دونوں طرح کے امراض میں مفید ہے۔ جبکہ اسکا اپنا مزاج گرم ہے اور سردی سے ہونے والے تمام امراض میں مفید ہے۔کلونجی نظام ہضم کی اصلاح کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتی ہے، ریاح گیس اور 

قبص میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔ وہ لوگ جن کو کھانے کے بعد پیٹ میں بھاری پن گیس ریاح بھرجانے اور اپھارہ کی شکایت محسوس ہوتی ہو ایسے حضرات کلونجی کا سفوف تین گرام کھانے کےبعد استعمال کریں تو نہ صرف یہ شکایت جاتی رہے گی بلکہ معدہ 

کی اصلاح بھی ہوگی۔ کلونجی کو سرکہ کے ساتھ ملا کر کھانے سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں جب تھوڑی سی سردی لگنے سے زکام ہونے لگتا ہے تو ایسی صورت میں کلونجی کو بھون کر باریک پیس لیں اور کپڑے میں باندھ کر 

پوٹلی بنا کر باربار سونگھنے سے زکام دور ہوجاتا ہے۔ اگر چھینکیں آرہی ہوں تو کلونجی بھون کر باریک پیس کر روغنِ زیتون میں ملا کر اس کے تین چار قطرے ناک میں ٹپکانے سے چھینکیں جاتی رہتی ہیں۔کلونجی مدر بول( پیشاب آور) بھی ہے اس کا 

جوشاندہ شہد ملا کر پینےسے گردہ و مثانہ کی پتھری بھی خارج ہوجاتی ہے۔ اگر دانتوں میں ٹھنڈا پانی لگنے کی شکایت ہوتو کلونجی کو سرکہ میں ملا کر کلیاں کرانے سے فائدہ ہوتا ہے۔چہرے کی رنگت میں نکھار پیداکرنے کے لیے باریک پیس کر گھی میں 

ملا کر چہرے پر لیپ کرنے سے فائدہ ہوتا ہے۔ آج کل نوجوان لڑکے لڑکیوں میں کیل دانوں اورمہاسوں کی شکایت عام ہے اور مختلف بازاری کریمیں استعمال کرکے چہرے کی جلد کو خراب کرلیتے ہیں۔ ایسے نوجوان کلونجی باریک پیس کر سرکہ میں ملا 

کر سونےسے قبل چہرے پر لیپ کر لیا کریں اور صبح اٹھ کر چہرہ دھولیا کریں۔ چند دنوں میں ہی اچھے اثرات سامنے آئیں گے۔اس طرح لیپ کرنے سے نہ صرف چہرہ کی رنگت صاف اور مہاسے ختم ہونگے بلکہ جلد میں نکھار بھی آئے گا۔جلدی 

امراض میں کلونجی کا استعمال عام ہے۔جلد پر زخم ہونے کی صورت میں کلونجی کو توے پر بھون کر روغن مہندی میں ملا کر لگانےسے نہ صرف زخم مندمل ہوجائیں گے بلکہ نشان بھی جاتے رہیں گے۔ جو خواتین ایام رضاعت میں ہوں اور چھوٹے بچوں 

کو اپنا دودھ پلا رہی ہوں اور ان کو دودھ کم آنے کی شکایت ہو جس سے ان کا بچہ بھوکارہ جاتا ہوں تو ایسی خواتین کلونجی کو چھ دانے صبح نہار منہ و رات سونے سے قبل دودھ کے ساتھ استعمال کرلیا کریں تو ان کے دودھ کی مقدار میں اضافہ ہو جائے 

گا البتہ حاملہ خواتین کوکلونجی کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔جن خواتین کو ماہانہ ایام کم آتے ہوں یا درد کے ساتھ آتے ہوں، پیشاب کم یا تکلیف کے ساتھ آتا ہو، وہ کلونجی کا سفوف تین گرام روزانہ استعمال کرلیا کریں ماہانہ ایام کا نظام درست ہوجائے گا۔
آج کے مشینی دورمیں مشینی لوازمات نے انسانی زندگی کو اعصابی طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا ہے اور ہر دوسرا شخص اعصابی دباؤ اور تناؤ میں مبتلا ہے۔ ایسے لوگ کلونجی کے چند دانے روزانہ شہد کے ساتھ استعمال کرلیا کریں۔چند دنوں میں بہتر 

محسوس کریں گے۔پیٹ اور معدہ کے امراض، پھیپھڑوں کی تکالیف اور خصوصًا دمہ کے مرض میں کلونجی بہت فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔کلونجی کا سفوف نصف سے ایک گرام تک صبح نہار منہ اور رات کو سونے سے قبل شہد کے ساتھ استعمال کر لیا 

جائے تو بہت مفید ہے۔ بعض اوقات کلونجی اور قسط شیری برابر وزن کا سفوف بنا کر صبح نہار منہ و رات سونے سے قبل استعمال کروایا جاتا ہے۔یہ نسخہ پرانی پیچش اور جنسی امراض میں بھی مفید ہے۔جن لوگوں کو ہچکیاں آتی ہوں وہ کلونجی کا 

سفوف تین گرام مکھن ایک چمچ میں ملا کر کر استعمال کریں تو فائدہ ہوتا ہے۔
کلونجی سے نکلنے والا تیل دو قسم کا ہوتاہے ایک سیاہ رنگ میں خوشبودار جو ہوا میں اٹھنے سے اڑنے لگتا ہے اور دوسری قسم انٹروی کے تیل جیسا جس کے دوائی اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں، یہ تیل بیرونی طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور بہت سے 

جلدی امراض میں مفید ہے۔ یہ تیل بال خورہ کی شکایت میں بہت فائدہ دیتا ہے ۔ بالخورہ میں بال اڑ جاتے ہیں اور دائرے کی صورت میں نشان بن جاتا ہے پھر دائرہ دن بدن بڑھتا ہے اور عجیب سی ناخوشگواری کا احساس ہوتا ہے۔یہ تیل سر کے گنج کو دور 

کرنے اور بال اگانے میں بھی مفید ہے ۔ مزید یہ کہ اس تیل کے استعمال سے بال جلد سفید نہیں ہوتے اور اس تیل کو مختلف طریقوں سے داد، اگزیما میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اگر جسم کو کوئی حصہ بے حس ہوجائے تو یہ تیل مفید ہے۔ کان کے ورم 

اور نسیان میں بھی یہ تیل مفید ہے۔ ماہرین طب و سائنس کلونجی پر تحقیقی کام کر رہے ہیں جنھوں نے اسے مختلف امراض میں مفید پاتا اور مزید تحقیق کا عمل جاری ہے۔ گزشتہ سال برطانیہ سے ایک خاتون کلونجی پر تحقیق کے لیے پاکستان آئی تھی۔ راقم 

الحروف سے ملاقات پر اس نے بتایا کہ ایک ملٹی نیشنل ادارہ کلونجی سے ایک کریم تیار کرنا چاہتا ہے کیونکہ کلونجی جلد کو نکھارتی ہے۔ کیمیا دانوں نے کلونجی پر تحقیقات کے بعد بتایا ہے کہ اس میں ضروری روغن پائے جاتے ہیںِ اس کے علاوہ 

ونگشلین، الیوسن، ٹے نین، رال دار مادے، گلوکوز، ساپونین اور نامیاتی تیزاب بھی پائے جاتے ہیں جو کئی امراض میں موثر ہیں۔ پاکستان کے ایک ممتاز سائنسدان نے جامعہ کراچی کے شعبہ کیمیاء میں کلونجی پر جو تحقیق کی اس کے مطابق کلونجی سے جو 

اسکائڈز حاصل ہوئے ہیں کسی اور شے سے نہیں مل سکے۔ حکماء نے کلونجی کو ہمیشہ موضوعِ تحقیق و علاج بنایا ہے اور اس کو مختلف طریقوں سے مختلف امراض کے علاج میں استعمال کرایا ہے۔ کلونجی سے طب یونانی کی معروف مرکب ادویہ میں 

حب حلیت، جوارش شونیز اور معجون کلکلانج شامل ہیں۔ کلونجی کے استعمال سے لبلبہ (پانقراس) کے افرازات( لبلبہ سے خصوصی رطوبت) بڑھ جاتی ہے۔جس سے مرض ذیابیطس میں فائدہ ہوتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض کلونجی کے سات دانے روزانہ 

صبح نگل لیا کریں۔طب نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور معالج ڈاکٹر خالد غزنوی ذیابیطس کے مریضوں کو کلونجی کے بیج تین حصے اور کانسی کے بیج ایک حصہ ملا کر استعمال کرانے سے مفید نتائج حاصل کرچکے ہیں۔ کلونجی کو مختلف طریقوں 

سے زہر کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ پاگل کتے کے کاٹنے یا بھِڑ کے کاٹنے کے بعد کلونجی کا استعمال مفیدہے۔ کلونجی میں ورموں کو تحلیل کرنے اور گلٹیوں کو گھلانے کی بھی صفت ہے۔ برص بڑا ہٹیلا مرض ہے۔ اس کے سفید داغ 

جسم کو بدصورت بنا دیتے ہیں۔ اگر برص کے مریض کلونجی اور ہالوں برابر برابر وزن لے کر توے پر بھون کر تھوڑا سرکہ ملا کر مرہم بناکر مسلسل تین چار ماہ برص کے نشانوں پر لگاتے رہیں اور کلونجی اور ہالون کا باریک سفوف شہد کے ساتھ 

روزانہ نہار منہ استعمال کیا کریں توجلد فائدہ ہوگا۔ کلونجی کی دھونی سے گھر میں پائے جانے والے کیڑے مکوڑے ہلاک ہوجاتے ہیں۔اسی خصوصیت کے سبب کلونجی کو گھروں میں قیمتی کپڑوں میں رکھا جاتا ہے تاہم کلونجی کے استعمال میں یہ امر پیش 

نظر رہے کہ یہ طویل عرصہ اور زیادہ مقدار میں استعمال نہ کی جائے کیونکہ اس میں کچھ مادے ایسے بھی ہوتے ہیں جو صحت کے لیے مضر ہوسکتے ہیں۔ البتہ وقفہ دے کر پھر سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ویسے بھی اعتدال مناسب راہ عمل ہے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال قبل جو ارشادات فرمائے طب و سائنس آج اس کی تصدیق کررہے ہیں۔ قربان جائیے قدرت کاملہ پر جس نے حضرت انسان کے لیے کیا کیا نعمتیں پیدا فرمائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 

نے چودہ سو سال قبل حکمت کے خوب صوت پیرائے میں انسان کو آگاہ کیا اور طب و سائنس نے چودہ صدیاں گزرنے کے بعد وہ نتائج حاصل کئے ہیں۔


انڈے کے طبی پہلو

انڈے کے طبی پہلو

انڈہ ایک نہایت عمدہ غذا اور دوا ہے اس کی نیم پکی زردی خون پیدا کر کے عام جسمانی کمزوری کو بھی دور کرتی ہے جو لوگ کسی وجہ سے کمزور ہوں انہیں انڈہ ضرور استعمال کرنا چاہیئے یہ انسانی جسم میں حرارت کی کمی پورا کرنے کے لئے بڑا 

ہی تیر بہدف ہے یہی وجہ ہے کہ موسم سرما میں ہمارے ملک میں اسے بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے انسانی غذا کے لئے جن امینو ایسڈ کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب کے سب انڈے میں پائے جاتے ہیں اس میں ایک تہائی حصہ چربی ۰۱ فیصد کاربوہائیڈ 

ریٹس شامل ہیں دھاتوں کی بھی کثیر مقدار شامل ہے جن میں فاسفورس، لوہا، گندھگ، میگنیشیم، پوٹاشیم، سوڈیم، اور کلورین قابل ذکر ہیں۔ ان کے علاوہ تھوڑی سی مقدار میں جست، تانبا اور آئیوڈین بھی پائی جاتی ہیں حیاتین میں الف د اور حیاتین ای شامل ہیں 

حیاتین ب اور حیاتین سی اور البورین کی مودار مذکوررہ بالا حیاتین سے زیادہ ہے ۔
بچوں کے مرض سوکھا میں انڈے کی زردی انتہائی مفید ہے اس کی سفیدی کا پانی بچوں کے دستوں و پیچش میں بہت مفید چیز ہے۔

kisi rooz barish main gher say niklna

kisi rooz barish main gher say niklna


MAIN TEERAY SUNG SADA HOUN


7 Sept 2014 | By:

سلام کرتے ہوئے گھر میں داخل ہونے کی تاکید اور فضائل



سلام کرتے ہوئے گھر میں داخل ہونے کی تاکید اور فضائل  

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول پاک ﷺ نے فرمایا: اے انس! گھرمیں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرو۔ گھر کی بھلائی میں اضافہ ہوگا۔ (ترمذی جلد۲ صفحہ ۹۹)۔ سعید بن مسیب کی روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ مجھ سے رسول پاک ﷺ نے فرمایا: اے میرے بیٹے جب تم اپنے گھرمیں داخل ہو تو سلام کرو۔ یہ تمہارے اور تمہارے گھر والوں کیلئے باعث برکت ہے۔ (ترمذی جلد۲ صفحہ ۹۹)۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم گھر میں داخل ہو تو سلام کرو اور جب گھر سے نکلو تو سلام کے ساتھ نکلو۔ (مشکوٰۃ صفحہ ۳۹۹)  سلام سے شیطان گھر میں داخل نہ ہوگا: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو اہل خانہ کو سلام کرو۔ جب تم سلام کروگے تو شیطان تمہارے گھر میں داخل نہ ہوگا۔ (مکارم الخرائطی صفحہ ۸۱۶) فائدہ: کتنی بڑی فضیلت ہے کہ سلام کی برکت سے شیطان کے ضرر سے گھر محفوظ ہوجاتا ہے۔ آج عموماً گھروں میں شیطانی اثرات کی شکایت ہے۔ یہ اس کا حل ہے۔ اس میں حفاظت بھی ‘برکت بھی ہے۔گھرمیں سلام کرتے ہوئے جانے سے خدا کی حفاظت: حضرت ابوامامہ البابلی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ تین شخص خدا کی حفاظت اور ضمان میں ہوتے ہیں(اس میں ایک شخص وہ ہے) جو گھر میں داخل ہوتا ہے تو سلام کرکے داخل ہوتا ہے۔ تو یہ بھی خدا کی حفاظت میں ہوجاتا ہے۔ (مختصراً) (ابوداؤد جلد۱ صفحہ ۳۷۶، حاکم جلد۲ صفحہ ۷۳) فائدہ: سلام کی برکت سے جو دعاء حفظ وعافیت ہے گھر کے مکارہ اور پریشانیوں سے خدا کی حفاظت میں آجاتا ہے۔آپﷺ جب گھر میں داخل ہوتے تو اہل خانہ کو سلام فرماتے۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو کبھی کھانے کے متعلق سوال کرتے ہوئے فرماتے کچھ کھانے کو ہے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ آپ ﷺخاموش رہتے یہاں تک کہ آپ ﷺکے سامنے آسانی سے جو میسر ہوتا پیش کردیا جاتا۔ (زادالمعاد)

حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا


آپ کا نام  حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  والد کا نام ابی ذویب جبکہ خاوند کا نام حارث بن عبدالعزیٰ تھا۔ 
حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تعلق قبیلہ سعد سے تھا جو اس دور میں فصاحت اوربلاغت اور پانی کی شیرینی کی وجہ سے مشہور تھا۔ سرورکائنات حضور نبی اکرم ﷺ کا ایک خاص حوالے سے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک گہرا تعلق تھا۔ آپ ﷺ نے بچپن میں عرب کے دستور کے مطابق اپنی ماں کے علاوہ ایک اور پیاری گود میں بھی اپنی عمر کے ابتدائی چند سال گزارے۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضور ﷺ کی رضاعی والدہ بھی تھیں۔
شرفائے عرب میں دستور تھا کہ بچوں کو ماں کے پاس نہ رکھتے تھے بلکہ اکثر پرورش اور فصیح زبان سیکھنے کیلئے دوسری عورتوں کو دے دیتے اس کیلئے عموماً قرب و جوار کے قبائلی دیہات کا چناؤ کیا جاتا۔ بچے دیہات کی کھلی آب و ہوا میں پرورش پاتے اور پھر چند برس بعد ان کے والدین انہیں واپس لے جاتے۔ یہ رواج اس وقت اس قدر مستحکم تھا کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ بعد دیہات کی غریب عورتیں خود ہی شہر میں آتیں اور جو بچے اس مدت میں پیدا ہوئے ہوتے انہیں ان کے ماں باپ کی مرضی سے ساتھ لے جاتیں۔ سرور کائنات حضور نبی کریم حضرت محمدﷺ جب اس کائنات میں رونق افروز ہوئے تو شروع میں انہوں نے سات روز تک اپنی والدہ ماجدہ حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہی دودھ پیا۔ اس کے چند دن بعد تک حضرت ثوبیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دودھ پلایا۔ اسی اثنا میں قبیلہ بنی سعد کی چند عورتیں بچے لینے مکہ آئیں۔ ان عورتوں میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی شامل تھیں۔
دوسری سب عورتیں مالدار گھرانوں سے بچے لینے میں کامیاب ہوگئیں لیکن حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کوئی بچہ نہیں مل سکا۔ انہیں خود خبر نہ تھی کہ قسمت ان کی جھولی میں کون سی عظیم ہستی ڈالنے والی ہے۔ اس وقت مایوس ہوکر واپس جانے ہی والی تھیں کہ معلوم ہوا کہ سردار قریش عبدالمطلب کا ایک یتیم پوتا اس دنیا میں آچکا ہے۔ خاوند سے مشورہ کیا کہ اس بچے کا باپ تو دنیا میں ہے نہیں کہ جو اس بچے کی پرورش کے عوض ہمارے ساتھ مالی طور پر کچھ سلوک کرے۔ البتہ اس کے دادا کی شرافت اور عالی نسبی سے یہ توقع ہے کہ خدا اس بچہ کے طفیل ہماری بہتری کی صورت کردے۔ شوہر نے کہا کہ کچھ مضائقہ نہیں۔ اس بچے کو ضرور لے لو۔ خالی ہاتھ جانا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فوراً جاکر ننھے حضور ﷺ کو لے آئیں۔ انہیں کیا خبر تھی کہ یہ بچہ دین و دنیا کا سردار ہے اور اسے دودھ پلا کر وہ ابدی سعادت وعظمت حاصل کرنے والی ہیں۔ان دنوں عرب میں قحط کا عالم تھا۔ خشک سالی کی وجہ سے جانوروں کے تھنوں میں دودھ سوکھ گیا تھا۔ خود عورتوں کو بھی دودھ بڑی مشکل سے اترتا تھا اور ان کے بچے بھوک سے بلبلاتے تھے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو بنو سعد بن بکر کی کچھ خواتین کےساتھ مکہ آئیں تھیں ان کے ساتھ اپنا بھی ایک شیرخوار بچہ تھا۔ یہ بھی بھوکا پیاسا ہروقت روتا رہتا تھا حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ جس دن میں نے سرور کائنات ﷺ کو گود میں لیا ہماری حالت یکسر بدل گئی۔ میری خشک چھاتیوں میں دودھ اتر آیا اور ہماری اونٹنی کے تھن بھی دودھ سے بھر گئے۔ دونوں بچوں نے خوب سیر ہوکر دودھ پیا اور ہم نے بھی خوب اونٹنی کا دودھ پیا۔ جب مکہ سے چلنے لگے تو ہمارا مریل گدھا جو سارے قافلے سے پیچھے چلتا تھا۔ بہت تیز رفتاری سے چلتا ہوا سارے قافلے سے آگے چلنے لگا۔ میرا خاوند اور قافلے کے دوسرے لوگ بار بار یہی کہتے تھے کہ یہ بچہ بہت برکت والا ہے اور حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بہت خوش قسمت ہے کہ ایسا سعادت مند بچہ اسے مل گیا ہے۔ جب ہم اپنے گھر پہنچے تو ہماری بکریوں کے تھن بھی دودھ سے بھر گئے۔
گاؤں کے دوسرے جانوروں کا دودھ بدستور خشک تھا اور لوگ ہماری حالت پر رشک کرتے تھے۔ آخر سب گھروں والے میرے جانوروں کے ساتھ اپنے جانور چرانے لگے۔ خدا کی قدرت سے ان جانوروں کے بھی دودھ اتر آیا۔
پس حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے گھر والے اس نصیبوں والے بچے پر سوجان سے فدا تھے اور نہایت محبت اور شفقت سے حضور ﷺ کی پرورش میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے تھے۔جب آنحضور ﷺ کی عمر مبارک دو برس ہوئی تو حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپﷺ کو ساتھ لے کر مکہ میں حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس لے کر آئیں۔ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضور ﷺ کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوئیں اور اپنے پیارے بیٹے کو بہت بہت پیار کیا۔ ماں کا بچے کو اب جدا کرنے کو جی نہ چاہتا تھا لیکن حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: ’’مکہ کی آب و ہوا اس وقت بہت خراب ہے بہتر یہی ہے کہ آپ فی الحال اس بچے کو میرے پاس رہنے دیں‘‘
حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بات مان لی اور یوں حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ ﷺ کو پھر سے واپس اپنے قبیلے میں لے کر آگئیں۔حضور نبی اکرم ﷺ نے پانچ برس تک حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس پرورش پائی۔ حتیٰ کہ واقعہ شق الصدر پیش آیا۔اس کے بعد آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد کردیا۔حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس کے بعد عرصہ دراز تک زندہ رہیں۔ ان کا سن وفات ٹھیک طرح سے دستیاب نہیں۔ سن 8ہجری میں جب آنحضور ﷺ کی عمر مبارک اکسٹھ برس تھی آپ ﷺ جعفرانہ میں گوشت تقسیم فرما رہے تھے۔ اس وقت حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ کے پاس تشریف لائیں۔ حضور ﷺ نے خود اپنی چادر مبارک بچھا کر ان کو بے حد تعظیم و تکریم کے ساتھ بٹھایا۔ گو کہ بعض روایات میں اس بات کی اس طرح تردید ملتی ہے کہ وہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہیں بلکہ ان کی بیٹی اور حضور ﷺ کی رضاعی بہن تھیں۔
حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی دو بیٹیاں انیسہ‘ اور حذافہ تھیں جبکہ ایک بیٹا عبداللہ تھا۔غرض اس بات سے قعطاً شک نہیں کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ جلیل القدر خاتون تھیں جن کو حاصل ہونے والی سعادت پر پوری تاریخ اسلام ہمیشہ رشک کرتی رہے گی۔ جہاں تک حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قبول اسلام اور شرف صحابیت کا تعلق ہے اکثرکتب سیر اس بارے میں خاموش ہیں۔ البتہ کچھ واقعات و حالات ایسے موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا شرف اسلام سے ضرور بہرہ مند ہوئیں۔

متوازن غذا‘جسمانی ورزش سے ڈیپریشن بھگائیے


  متوازن غذا‘جسمانی ورزش سے ڈیپریشن بھگائیے  


انسانی شخصیت مثلث کی طرح تین حصوں پر محیط ہوتی ہے جن میں ایک ہے جسمانی ڈھانچہ‘ دوسرا ہے کیمیائی نظام اور تیسرا حصہ ہے اس کی نفسیات۔ بنیادی طور پر تحقیق کے یہ تین علیحدہ پہلو ہیں مگر ان تینوں میں ایک خاص توازن قائم ہونا لازمی ہے۔

اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو جدید دور کے پیش نظر ہر دوسرا شخص اپنے مخصوص انداز میں ڈیپریشن‘ اسٹریس اور سر کے درد کی شکایت کرتا نظر آئے گا۔ بہت سے لوگوں کو اظہار تکلیف کی زحمت ہی نہیں پڑتی کیونکہ ان کے ہاتھ میں مختلف گولیوں کے پتے اور سر کے گرد کپڑا گویا زبان حال سے خود ہی کہہ ہوتا ہے:۔؎
درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
دیکھا یہ گیا ہے کہ ڈیپریشن اور سر کے درد کیلئے زیادہ تر لوگ خود ہی اپنے لیے علاج منتخب کرلیتے ہیں اور ہزاروں روپے کی ادویات سے راہ نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ سال پہلے تک سر کے درد کی تکلیف کا کم ہی سننے میں آتا تھا مگر آج یہ حال ہے کہ بچے بھی اس سے محفوظ نہیں۔ سردرد کی کیفیت کا یہ عالم ہے کہ معمولی سی پریشانی سےبھی سر کے درد کا بہانہ بن جاتا ہے درد رفتہ رفتہ شدت اختیار کرتے ہوئے سر کے پچھلے حصے تک سرائیت کرجاتا ہے۔ سر چکرانے لگتا ہے۔ ساتھ ساتھ قے اور متلی کی سی کیفیت رہتی ہے۔ درد کی یہ قسم آدھے سر کا درد کہلاتی ہے۔ اسے ’’درد شقیقہ‘‘ یا مائیگرین بھی کہتے ہیں۔
بعض لوگوں کو مستقل طور پر ڈیپریشن کی وجہ سے سردرد کی شکایت رہتی ہے۔ یہ لوگ ایک طرح اس تکلیف کے عادی بھی ہوجاتے ہیں مگر بدقسمتی سے جو تکلیف وہ اٹھارہےہیں ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کس وجہ سے اس میں مبتلا ہیں۔ باوجود کوشش کے اس کا جواب ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ سر کا درد ذہنی الجھنوں کی پیداوار تو ہے ہی ساتھ ہی آلودگی اور ماحول کی خرابی اس کو مزید بڑھاتے ہیں۔ اعصابی دباؤ ایسی غذا جوغیر موضوع یا ناقص ہو عموماً غیرمتوازن غذائیں‘ ٹھنڈی یا گرم اشیاء‘ انتہائی تیز روشنی سے بھی درد سر ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بیماری کی وجہ سے بھی درد لاحق ہوسکتا ہے۔ سر درد ہرایک کو ہوسکتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت‘ بچہ ہو یا بوڑھا‘ امیر ہو غریب غرضیکہ بچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ 
سر کا درد کہنے کو تو معمولی سا درد لگتا ہے ہر شخص کا درد مختلف نوعیت کا ہوسکتا ہے جن کا پس منظر بھی مختلف ہوتا ہے۔ اس طرح اس کا علاج بھی ایک دوسرے سے جدا ہوگا کسی کو بروقت علاج کرنے سے فوری آرام آجائے گا جب کہ کسی دوسرے شخص کو آرام آنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے ڈاکٹر کےکئی چکر لگانے پڑتے ہیں تب کہیں جاکے اسے آرام نصیب ہوگا۔ یہ حال زیادہ تر 30 سال یا اس سے زیادہ کی عمر کے لوگوں کا ہوتا ہے۔ دوا کے مستقل استعمال کی وجہ سے قوت مدافعت بھی متاثر ہوتی ہے اور نوبت انتہائی تیز اثر رکھنے والی ادویہ تک پہنچ جاتی ہے۔ اس طرح کا معمول روز مرہ کی زندگی پر بُرا اثر ڈالتا ہے۔ اس مضمون کے ذریعہ کوشش کی گئی ہے کہ ڈیپریشن‘ اسٹریس‘ درد سر کے خلاف مؤثر اور کم قیمت علاج تجویز کیے جائیں اور آپ یہ نہ کہہ سکیں کہ ؎
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
انسانی شخصیت مثلث کی طرح تین حصوں پر محیط ہوتی ہے جن میں ایک ہے جسمانی ڈھانچہ‘ دوسرا ہے کیمیائی نظام اور تیسرا حصہ ہے اس کی نفسیات۔ بنیادی طور پر تحقیق کے یہ تین علیحدہ پہلو ہیں مگر ان تینوں میں ایک خاص توازن قائم ہونا لازمی ہے۔ اس کیلئے تین پہلوؤں پر کڑی منصوبہ بندی کے تحت کچھ ضروری عوامل کو روز مرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بنایا جائے جن میں مساج‘ پریشر پوائنٹ تھراپی و متوازن غذا جسمانی ورزش اور ذہنی سکون کیلئے یوگا کی طرز کی ورزش۔
مساج :  مساج کے ذریعے دنیا میں بے شمار لوگ ذہنی اور جسمانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ سر کے درد میں پیدا ہونے والی کیفیت جس میں ذہنی اضطراب اور اعصابی تناؤ بڑھ جاتا ہے مساج کے ذریعے کافی حد تک تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے جسم میں خون اور معدنیات یا پانی میں بھی اضافہ ہوتاہے۔ ساتھ ساتھ جسم میں جو زہریلے مادے پیدا ہوتے ہیں ان کو قلیل کیا جاسکتا ہے۔ مساج کےذریعے ایسے اعضاء کو بھی تحریک ملتی ہے جو سر درددور کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
پریشر پوائنٹ تھراپی:جسم کے مختلف مقامات پر ایسے پریشر پوائنٹس ہوتے ہیں جن پر دباؤ ڈالنے سے سردرد اور ڈیپریشن میں آرام محسوس ہوتا ہے۔
متوازن غذا: متوازن غذا سردرد کے ابتدا ہی سے بہت طریقے سے آرام پہنچاتی ہے۔ اکثر کھانے سردرد کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ساتھ میں کچھ غذائی اجزاء ایسے بھی ہیں جو ان کے خلاف صحت بخش کردار ادا کرتے ہیں۔ سردرد کے آرام میں مدد دیتے ہیں اس لیے اس چیز کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی غذا کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور بنیادوں پر تیار کریں۔ اس طرح مختلف قسم کے سردرد کے علاج میں ہم ان وٹامنز کو بھی شامل کرسکتے ہیں۔
جسمانی ورزش:صحت مند زندگی کیلئے ورزش کی کتنی اہمیت ہے اس کا تو آپ کو اندازہ ہوگا ہی‘ ورزش نہ صرف پورے جسمانی نظام کو درست رکھنے میں اہم کردارا ادا کرتی ہے بلکہ ذہنی طور پر استحکام بخشتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سر کے درد سے پیدا ہونے والے ذہنی تناؤ اور کھنچاؤ سے تکلیف ہوتی ہے‘ ورزش اس سے بحسن و خوبی نجات دلاتی ہے۔ اس لیے جتنا ممکن ہوہلکی پھلکی ورزش کو روزانہ کے امورمیں شامل کریں۔
ذہنی سکون کے طریقے:فکریں اور پریشانیاں بھی سردرد پیدا کرتی ہیں۔ ان کے تدارک کیلئے یوگا کے طرز پر ہونے والی ذہنی سکون حاصل کرنے کی ورزشیں بہت مفید ہیں۔ ایک مفید ورزش لمبا سانس اور گہرا سانس لینے کا عمل ہے۔ اس سے ذہن اور جسم کا تناؤ دور ہوجاتا ہے اور آپ ایک بار پھر خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتے ہیں۔آپ بھی درد سر سے نجات چاہتے ہیں تو دئیے گئے طریقہ کار کی مدد سے زندگی کو ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے خوشگوار بناسکتے ہیں۔ سردرد دور کرنے کیلئے ان باتوں پر عمل کیا جائے تو پیسہ ضائع کیے بغیر اس تکلیف سے بچا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ دواؤں سے علاج سردرد کیلئے کبھی بھی حتمی علاج نہیں رہا۔ اسے وقتی طور پر دبایا تو جاسکتا ہے مگر یہ مسئلے کا درست حل نہیں۔

گرمی و حبس کے موسم میں صحت مند رہنے کے بنیادی اصول


گرمی و حبس کے موسم میں صحت مند رہنے کے بنیادی اصول

تیز دھوپ سے بچیں: گرمیوں کے موسم میں تیز دھوپ میں بغیر کسی احتیاطی تدبیر کے باہر نکلنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ تیز دھوپ میں ہوا بھی کافی گرم ہو کر لُو کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اس کے علاوہ دھوپ کا اپنا درجہ حرارت بھی کافی زیادہ ہوتا ہے اور اس کی زد میں آنے والی تمام اشیا حتیٰ کہ زمین بھی تپ جاتی ہے۔ ایسے میں ننگے سر اور کھلا بدن لے کر باہر نکلنے سے جسم کی اندرونی گرمی باہر نکل نہیں پاتی‘ الٹا باہر کی گرمی جسم کے اندر داخل ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ دماغ کو گرمی لگنے سے اس میں موجود مخصوص نظام جو عام طور پر جسم کا درجہ حرارت بڑھنے نہیں دیتا ناکارہ ہوجاتا ہے‘ یوں جسم کا درجہ حرارت ماحول کے مطابق بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے شدید گرمی میں ٹوپی یا کپڑا لے کر باہر نکلنا حتی الامکان دھوپ سے ہٹ کر چلنا اور پانی پیتے رہنا وغیرہ جیسی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔
پانی اور مشروبات زیادہ استعمال کریں:گرمی اور اگست کے حبس میں جسم کا درجہ حرارت قابو میں رکھنے کیلئے ہماری جلد مستقل طور پر گیلی رہتی ہے۔ یہ پسینے کی وجہ سے ہوتا ہے جس کے ساتھ جسم کی گرمی بھی خارج ہوتی رہتی ہے۔ یوں ہمارے جسم کا درجہ حرارت تو ایک جگہ قائم رہتا ہے لیکن جسم میں نمکیات کی کمی واقع ہوتی رہتی ہے۔اس کمی کو پورا کرنے کیلئے ہمیں پیاس لگتی ہے اور ہم کبھی کم اور کبھی زیادہ پانی پی لیتے ہیں لیکن نمکیات کو عموماً بھول جاتے ہیں۔ اس موسم میں ہمیں زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے اور درمیان میں ایسے مشروبات جن میں نمک اور کچھ چینی (مثلاً لسی‘ سکنج بین‘ شربت وغیرہ) شامل ہوں وہ بھی ضرور استعمال کرنے چاہئیں۔ نمک استعمال کرنے سے ضائع شدہ نمک جسم میں واپس آتا رہتا ہے اور کمزوری کا احساس نہیں ہوتا جس کی شکایت اس بات کا اہتمام نہ کرنے والوں میں زیادہ دیکھنے میں آتی ہے۔
پھل اور سبزیاں زیادہ کھائیں:پھل اور سبزیاں ویسے تو ہر موسم میں ہی زیادہ سے زیادہ استعمال کرنی چاہئیں لیکن گرمیوں میں تو اس امر کا اہتمام بہت ضروری ہے۔ ہمارا جسم 80 فیصد سے زیادہ پانی پر مشتمل ہے اور قدرتی طورپر پائی جانے والی غذاؤں میں یہ دونوں چیزیں عموماً اتنا ہی پانی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اس طرح پانی بہت زیادہ نہ پینے کی صورت میں بھی پانی کی تقریباً مطلوبہ مقدار ہمارے جسم کے اندر چلی جاتی ہے۔ اس موسم میں اپنے اندر پانی کی خاصی مقدار رکھنے والی سبزیاں مثلاً کدو‘ ٹینڈے‘ کھیرا‘ ککڑی‘ حلوہ کدو اور پھلوں میں تربوز‘ خربوزہ‘ گرما‘ آلو بخارا‘ آڑو اور انگور وغیرہ موجود ہوتے ہیں‘ ان کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے اور سہولت کے مطابق تازہ پانی سے نہانے کا ضرور اہتمام کریں۔
اگست اور بیماریاں:قے‘ پیٹ میں درد‘ پاخانے اور پھوڑے پھنسیاں وغیرہ اس موسم کی عام شکایات ہیں۔ یہ تمام بیماریاں جراثیم سے ہونے والی ہیں اور آلودہ پانی‘ مکھیوں اور صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے سے ہوتی ہیں۔ گرمی کے موسم میں پانی کے جراثیم سے پاک ہونے کا خاص خیال رکھنا چاہیے ‘ پانی ابال کر استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ کھانے پینے کی چیزوں کو مکھیوں سے بچانا‘ غلاظت کو فوراً دھو ڈالنا اور بازار سے کھانے پینے کی اشیاء نہ کھانا جیسی احتیاطی تدابیر بھی ضرور کرنی چاہئیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ یرقان گرمی کی بیماری ہے کیونکہ اس میں جگر کی گرمی ہوجاتی ہے۔ یہ دونوں مفروضے غلط ہیں۔ یرقان عام طور پر جراثیم (وائرس) سے ہوتا ہے اور اس میں جگر میں گرمی نہیں بلکہ وائرس کی وجہ سے سوزش ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بیماری سردیوں میں بھی اتنی ہی دیکھنے میں آتی ہے جتنی کہ گرمیوں میں۔
پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن:    ایک مرتبہ کا پسینہ صرف پانی کی کمی کا باعث بنتا ہے لیکن اگر بار بار پسینہ آئے جیسا کہ گرمیوں کے موسم میں ہوتا ہے تو پانی کے ساتھ ساتھ جسم سے نمکیات خاص طور پر سوڈیم کی بھی کمی واقع ہوجاتی ہے اور قدرے کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔ اگر اس طرف توجہ نہ دی جائے تو مسئلہ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ مسلسل ڈی ہائیڈریشن سے غنودگی یا نیم بے ہوشی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔ گرمی کے موسم میں پانی زیادہ پینا چاہیے لیکن صرف پانی تمام کمی کو پورا نہیں کرتا اس لیے نمکیات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔