28 Apr 2013 | By:

میں اس لیے نہیں پڑھ سکتا کیونکہ میں “ (◔̯◔)

ایک آدمی عینک لگوانے کے لیے ڈاکٹر کے پاس گیا ڈاکٹر نے اسے کرسی پر بٹھایا اور تقریباً دس فٹ کے فاصلے پر ایک کارڈ اس کے سامنے رکھ کر پوچھا:
”کیا آپ اس کارڈ کے حروف پڑھ سکتے ہیں؟“۔
اس آدمی نے جواب دیا:”جی نہیں ڈاکٹر صاحب !“۔
ڈاکٹر نے کارڈ مریض کے اور قریب لاتے ہوئے کہا:
”کیا اب یہ حروف پڑھ سکتے ہیں؟“۔
مریض نے جواب دیا:”جی نہیں بالکل نہیں“۔
ڈاکٹر بہت جھنجھلایا اور کارڈ مریض کی آنکھوں کے سامنے رکھ کے بولا:
”اور اب ۔؟“۔
مریض نے جواب دیا:”ڈاکٹر صاحب! میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ میں نہیں پڑھ سکتا
ڈاکٹر نے غصے سے کہا کیوں نہیں پڑھ سکتے تمہاری نظر اتنی بھی کمزور نہیں
مریض نے جواب دیا
میں اس لیے نہیں پڑھ سکتا کیونکہ میں ان پڑھ ہوں“ (◔̯◔)

aik Badshaha nay apnay wazeer ko

  1. ایک مرتبہ ایک بادشاہ نے اپنے وزیز کو آدھی سلطنت دینے کو کہا ، لیکن ساتھ میں کچھ شرائط بھی عائد کیں
    وزیر نے لالچ میں آکر شرائط جاننے کی درخواست کی بادشاہ نے شرائط 3 سوالوں کی صورت میں بتائیں۔

    سوال نمبر 1: دنیا کی سب سے بڑی سچائی کیا ہے؟
    سوال نمبر 2 : دنیا کا سب سے بڑا دھوکا کیا ہے؟
    سوال نمبر 3 : دنیا کی سب سے میٹھی چیز کیا ہے ؟

    بادشاہ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ وہ ان تین سوالوں کے جواب ایک ہفتہ ک...ے اندر اندر بتائے بصورت دیگر سزائے موت سنائی جائے گی۔وزیر نے سب پہلے دنیا کی بڑی سچائی جاننے کے لئے ملک کے تمام دانشوروں کو جمع کیا اور ان سے سوالات کے جواب مانگے ۔انہوں نے اپنی اپنی نیکیاں گنوائیں ۔لیکن کسی کی نیکی بڑی اور کسی کی چھوٹی نکلی لیکن سب سے بڑی سچائی کا پتہ نہ چل سکا۔اس کے بعد وزیر نے دنیا کا سب سے بڑا دھوکا جاننے کے لئے کہا تو تمام دانشور اپنے دئے ہوئے فریب کا تذکرہ کرتے ہوئے سوچنے لگے کہ کس نے کس کو سب سے بڑا دھوکا دیا لیکن وزیر اس سے بھی مطمئن نہیں ہوا اور سزائے موت کے خوف سے بھیس بدل کر وہاں سے فرار ہوگیا ۔چلتے چلتے رات ہوگئی ،اسی دوران اس کو ایک کسان نظر آیا جو کھرپی سے زمین کھود رہا تھا۔ کسان نے وزیر کو پہچان لیا ،وزیر نے اس کو اپنی مشکل بتائی جسے سن کر کسان نے اس کے سوالوں کی جواب کچھ یوں دئے

    دنیا کی سب سے بڑی سچائی موت ہے ۔
    دنیا کا سب سے بڑا دھوکا زندگی ہے۔
    تیسرے سوال کا جواب بتانے سے پہلے کسان نے کہا کہ میں اگر تمہارے سارے سوالوں کےجواب بتادوں تو مجھے کیا ملے گا ،سلطنت تو تمہارے ہاتھ آئے گی۔ یہ سن کر وزیر نے اسے بیس گھوڑوں کی پیشکش کی اور اسے ہی اصطبل کا نگران بنانے کی بھی پیشکش کی۔کسان نے یہ سن کر جواب دینے سے انکار کر دیا ۔وزیر نے سوچا کہ یہ تو آدھی سلطنت کا خواب دیکھ رہا ہے ۔وزیر جانے لگا تو کسان بولا کہ اگر بھاگ جاؤگے تو ساری زندگی بھاگتے رہو گے اور بادشاہ کے بندے تمہارا پیچھا کرتے رہیں گے اور اگر پلٹو گے تو جان سے مارے جاؤگے۔یہ سن کر وزیر رک گیا اور کسان کو آدھی سلطنت کی پیشکش کی لیکن کسان نے اسے لینے سے انکار کر دیا ۔اتنے میں ایک کتا آیا اور پیالے میں رکھے ہوئے دودھ میں سے آدھا پی کر چلا گیا ۔کسان نے وزیر سے کہا مجھے آدھی سلطنت نہیں چاہیے بس تم اس بچے ہوئے دودھ کو پی لوتو میں تمہارے تیسرے سوال کا جواب بتادوں گا ۔یہ سن کر وزیر تلملا گیا مگر اپنی موت اور جاسوسوں کے ڈر سے اس نے دودھ پی لیا۔وزیر نے دودھ پی کر کسان کی طرف دیکھا اور اپنے سوال کا جواب مانگا
    تو کسان نے کہا کہ
    دنیا کی سب سے میٹھی چیز انسان کی غرض ہے
    جس کے لئے وہ ذلیل ترین کام بھی کر جاتا ہے

بے سبب تو نہیں تیری یادیں ..!!!!


بے سبب تو نہیں تیری یادیں ..!!!!

تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا
بے سبب تو نہیں تھی تیری یادیں
تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا
... ضبط کا حو صلـ بڑھا لینا
آنسوؤں کو کہیں چھپا لینا
کانپتی ڈولتی صداؤں کو
چپ کی چادر سے ڈھانپ کر رکھنا
بے سبب بھی کبھی کبھی ہسنا
جب بھی بات ھو تلخی کی
موضوع گفتگو بدل دینا
بے سبب تو نہیں تیری یادیں

Apni Haqeqat .......... Gool Too'n

Apni Haqeqat .......... Gool Too'n
Bay Koo'n Na Asloon .. Phoul Too'n

Rakh Yaad Saada ...... Bool Too'n
Aanee'n Na Shak, Hey Mehz Pakk

اساں سجھ دی سخاوت توں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کڈاں انکارکیتا ھے

اساں سجھ دی سخاوت توں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کڈاں انکارکیتا ھے
اُبھردے تانگھ گھن آند ے , جو لہندے مونجھ ڈے ویندے


محبت آؤتری شئے ھے

ولا کوئی گال نائیں کرنی
ولا سؤ سال نئیں کرنی
محبت آؤتری شئے ھے
ولا کہیں نال نئیں کرنی





زندہ رہنڑ دے خوف تو مردے ہیں کیا کروں

زندہ رہنڑ دے خوف تو مردے ہیں کیا کروں

زندہ رہنڑ دے خوف تو مردے ہیں کیا کروں

مولا تیڈے جہان توں ڈردے ھیں کیا کروں

ممکن ہے توں ملیں نہ سنجانڑیں یا نہ ملیں
وت وی تیڈی گلی توں گذردے ہیں کیا کروں

ڈیکھوں جیکر ہجر دے جہاڑے نہ گنڑ سگوں
سوچوں تاں تیکوں روز ٹکردے ہیں کیا کروں

چپ دا چناں وی تار چدھاروں نظردا پۓ
... ضدی ہیں کچے ظرف تےتردے ھیں کیا کروں

خادم ہیں آپ اپنڑی عدالت دے روبرو
اپنڑیاں خطائیں آپ مکردے ہیں کیا کروں

کلام:
سئیں مصطفے خادم

تیری نعت میری ہے بندگی


تیرا ذکر میری ہے زندگی
تیری نعت میری ہے بندگی
یہی ابتداء یہی انتہا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ

آئے غم جدھر سے ادھر گئے
... میرے بگڑے کام سنور گئے
میں نے جب زبان سے یہ کہا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ

میں تھا کیا مجھے کیا بنا دیا
مجھے عشقِ احمدﷺ عطا کیا
ہو بھلا حضورﷺکی آل کا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ

مرے جب سجنؔ تو ہے یہ دعا
میرے لب پے ہو نام مصطفیﷺ
میری قبر پے ہو لکھاہوا صَلُّو عَلَیہِ وَ آلِہِ




مکئی دوا‘ غذا اور شفاء


گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی روز مرہ غذا کے شیڈول میں نمایاں تبدیلی آجاتی ہے لیکن اس موسم میں مکئی کے بھٹے کے مترادف اور کوئی سبزی نہیں ہے جو اس موسم کے مطابق لذت اور غذائیت سے فیض یاب کرتی ہو‘ مکئی کا ایک سٹہ بھی وہ کمال دکھاتا ہے جو شاید ہی کوئی اور دکھاتا ہو۔ مکئی کا شمار اناج کی اس قسم میں ہوتا ہے جو سال کے آغاز سے اختتام تک مارکیٹ میں باآسانی دستیاب رہتی ہے۔
مکئی کے چونکا دینے والے فوائد:اطباء کے نزدیک بادی اور قابض ہے‘ بھوک بڑھاتی اور بدن کو فربہ کرتی ہے۔ بلغم صفرا اور باد کے فساد کو دور کرتی ہے۔ دیر ہضم ہے‘ باہ کو قوت دیتی ہے‘ بدن کو قوت دیتی ہے‘ زیادہ استعمال کرنے سے درد شکم‘ قولنج اور بواسیر کی شکایت ہوجاتی ہے۔ کھانے کے بعد ہونے والی قے کو روکتی ہے۔ سل کے مریضوں میں اس کی روٹی اچھی ہے۔ آنکھوں کی بصارت بڑھاتی ہے۔ کمزور لاغر بدن کو قوت دیتی ہے۔ اس کے آٹے کا لپٹا بنا کر مریض کو پلانے سے صحت ہوتی ہے اور بھوک میں خوب اضافہ ہوتا ہے۔ مکئی کا تیل بدن کو فربہ کرتا ہے۔ اچھی مکئی کے کھانے سے بدن فربہ ہوتا ہے لیکن جس کو موافق نہ آئے اس کو لگاتار کھانے سےدست آنے لگتے ہیں۔ اس کے پومل یا کھیلیں مریض کو ہرگز نہ کھلائے جائیں اس کی گلی کا کوئلہ کرکے اور پیس کر پھانکنا حیض اور بواسیر کے خون کو بند کرتا ہے۔ مکئی کی گلی چھ ماشہ ہیضہ کے مریض کو پیس کر دیں تو فوراً فائد ہوتا ہے۔ اس کی گلی کی راکھ میں نمک ملا کر پھنکی لگانے سے کالی کھانسی اور زکام کی کھانسی کو بہت جلد فائدہ ہوتا ہے۔ اسے دن میں پانچ پانچ رتی تین مرتبہ دیتے ہیں۔ اس کی ڈاڑھی کا جوشاندہ یا خیساندہ پلانے سے مثٓانہ کے امراض اور پیشاب کی جلن دور ہوتی ہے اور پیشاب خوب آتا ہے۔ یونانی اطباء کے مطابق مکا بلغم اور خون بستہ کو تحلیل کرتی ہے۔ دستوں کو روکتی ہے‘ سل میں مفید ہے۔ اس کا آتا سرکے میں ملا کر لیپ کرنے سے خارش اور ہاتھ پاؤں و ناخنوں کے پھٹنے کو مفید ہے۔ اس کے جوشاندہ کا حقنہ آنتوں کے زخم کو دور کرتا ہے اس میں غذائیت گیہوں سے کم ہے۔
نشاستہ سے بھرپور خوراک: خوراک میں نشاستہ کی زیادہ مقدار قولون کینسر‘ کولیسٹرول اور آئی بی ایس کے خطرات کم کرنے کا موجب بنتی ہے۔ تحقیقی ماہرین کے مطابق جو لوگ مکئی کا استعمال کرتے ہیں ان میں بلڈشوگر‘ انسولین کی مقدار مناسب حد تک کنٹرول کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے ماہرین نے دو ایسے گروپس میں شامل افراد کا موازنہ کیا جو ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا تھے۔ ایک گروپ نے فائبر (نشاستہ) پر مشتمل غذا کا استعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ نے کم نشاستہ والی غذا استعمال کی گئی۔ پہلے گروپ میں صحت کی جانب سے مثبت نتائج ظاہر ہوئے کیونکہ ان افراد نے چوبیس گرام تک فائبر روزانہ استعمال کیا جبکہ دوسرے گروپ میں کولیسٹرول اور بلڈشوگر کی شکایات بدستور جاری رہیں۔مکئی کو پاپ کارن‘ سوپ‘ سلاد اور سالن وغیرہ میں پکایا جاتا ہے اور ایک طرح سے اس کو گرمیوں میں باربی کیو کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مکئی کے بھٹے اور سٹے بچوں میں مقبول عام ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پھلوں اور سبزیوں 
میں اگر مکئی کو زیادہ ترجیح دی جائے تو زیادہ مفید ہے۔




Tu mehnat kar mehnat da sila jane khuda jane

Tu mehnat kar mehnat da sila jane khuda jane
Tu diva baal ke rakh cha hawa jane khuda jane

Khaza da khof ta maali koon buzdal kar nai sakda
Chaman abad rakh bad e saba jane khuda jane

Mareez e ishiq khud koon dawa dil di samjh dalbar
Marz jane dawa jane shafa jane khuda jane

Jey marr ke zindi chande faqiri totka man ghan
 Wafa de wich fana thi wanj baka jane khuda jane

Aye poori theve na theve magar be kaar nahi vendi
Dua shakir tu mangi rakh dua jane khuda jane