28 May 2013 | By:

ﻣﺤﺒﺖ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ

ﻣﺤﺒﺖ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ
ﭘﺮ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ﮐﮧ ﺍﺳﮯ
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﮑﻤﻞ ﻣﺤﺒﺖ
ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻣﺤﺒﺖ ﺗﻮ
ﮨﺮ ﺩﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻋﺎﺩﮦ ﭼﺎﮨﺘﯽ
ﮨﮯ۔ ﺭﻭﺯ ﺳﻮﺭﺝ ﻧﮧ ﭼﮍﮬﮯ ﺗﻮ
ﺩﻥ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ ﺟﺲ ﺭﻭﺯ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺳﻮﺭﺝ ﻃﻠﻮﻉ ﻧﮧ ﮨﻮ
ﺭﺍﺕ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﯾﮧ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﺟﺴﻢ
ﺑﮍﮮ ﺑﯿﺮﯼ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ
 ﮐﮯ۔ ﺟﺴﻢ ﺭﻭﻧﺪﺍ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ
ﺩﻝ ﮐﻮ ﺑﺴﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺘﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻝ
ﻣﭩﮭﯽ ﺑﻨﺪ ﺭﮨﮯ ﺗﻮ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﺴﻢ
ﮐﯽ ﻧﮕﺮﯼ ﮐﻮ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔

ﺭﺍﺟﮧ ﮔِﺪﮪ ﺳﮯ ﺍﻗﺘﺒﺎﺱ
27 May 2013 | By:

Chirya peeyari

Chirya peeyari



ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺍُﺩﺍﺱ ﺩﻥ ﮐﮍﮮ ﮨﯿﮟ

ﺭﺍﺗﯿﮟ ﺍُﺩﺍﺱ ﺩﻥ ﮐﮍﮮ ﮨﯿﮟ
ﺍﮮ ﺩﻝ ﺗﯿﺮﮮ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﯿﮟ
ﺍﮮ ﯾﺎﺩِ ﺣﺒﯿﺐ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﻨﺎ
ﮐﭽﮫ ﻣﺮﺣﻠﮯ ﺳﺨﺖ ﺁ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ
ﺭُﮐﻨﺎ ﮨﻮ ﺍﮔﺮ ﺗﻮ ﺳﻮ ﺑﮩﺎﻧﮯ
ﺟﺎﻧﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺑﮍﮮ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﻭﺟﮧ ﮔﺮﯾﮧ
ﺟﺐ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﺭﻭ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﻧﺼﯿﺐ ﻟﮯ ﺟﺎﮰ
ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻓﺮﺍﺯ ﭼﻞ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ
 ﺷﺎﻋﺮ : ﺍﺣﻤﺪ ﻓﺮﺍﺯ

علم اور شفقت

علم اور شفقت

پرانے زمانے میں جب علم اتنا عام نہیں تھا تو جس بابے کے پاس علم ہوتا تھاتو اس کے پاس شفقت بھی ہوتی تھی۔ محبت بھی ہوتی تھی ، آپ کے مشکل سوالوں کے جواب بھی ہوتےتھے ۔ اور اگر جواب نہیںآتا تھا تو اس کے پاس وہ تھپکی ہوتی تھی جس سے سارے دکھ اور درد دور ہو جاتے تھے ۔ لیکن اب اس طرح سے نہیں ہوتا ۔ اب ڈاکٹر صاحب کے پاس جواز یہ ہے ہم اس علم کو جانتے ہیں جس کی آپ کے بدن کو ضرورت ہے جس علم کی آپ کی روح اور جذبات و احساسات کو ضرورت ہے وہ ہمارے پاس نہیں ۔

اشفاق احمد سیلیوٹ تو نان ڈگری ٹیکنالوجسٹس صفحہ212

ترس کھا ایسی ملت پر

ترس کھا ایسی ملت پر

ترس کھا ایسی ملت پر جو توہمات سے پر اور عقیدے سے خالی ہو

ترس کھا ایسی ملت پر جو وہ زیبِ تن کرتی ہو جو اس نے نہیں بنا، وہ کھاتی ہو جو اس نے نہیں بویا، وہ شراب پیتی ہو جو کسی اور نے کشید کی

ترس کھا ایسی ملت پر جو غنڈے کو ہیرو سمجھےاور فاتح کو بھر بھر جھولی درازی عمر کی دعا دے

ترس کھا ایسی ملت پر جو نیند میں بہادر اور جاگتے میں بزدل ہو

... ترس کھا ایسی ملت پر جس کی صدا سوائے جلوسِ جنازہ کبھی بلند نہ ہو، سوائے زیرِ شمشیر کبھی گردن نہ اٹھے

ترس کھا ایسی ملت ہر جس کا مدبر لومڑ اور فلسفی مداری ہو اور ہنر ان کا صرف لیپا پوتی اور نقالی ہو

ترس کھا ایسی ملت پر جو نقارہ بجا کر نئے حاکم کا استقبال کرے اور آوازے کس کے رخصت کرے اور پھر نقارہ بجائے اگلے حاکم کے لیے

ترس کھا ایسی ملت پر جس کے دانشمند گزرتے وقت کے ساتھ بہرے ہوتے چلے جائیں، جس کے قوی اب تک گہوارے میں ہوں

ترس کھا ایسی ملت پر جو ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور ہر ٹکڑا خود کو ملت جانے

( گلشنِ پیمبر۔ خلیل جبران۔)

“ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮨﮯ“

ﮐﮭﯿﻞ ﮨﮯ ﻣﻘﺪّﺭ ﮐﺎ
ﻣِﻠﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺑِﭽﮭﮍ ﺟﺎﻧﺎ
ﺯِﯾﺴﺖ ﮐﯽ ﺟﻮ ﮔﺎﮌﯼ ﮨﮯ
ﯾﮧ ﺗﻮ ﺑﺲ ﻣﻘﺪّﺭ ﮐﮯ
ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﭘﮧ ﭼﻠﺘﯽ ﮨﮯ
ﺭﺍﺳﺘﮯ ﺟُﺪﺍ ﺳﺐ ﮐﮯ
ﻣﻨﺰﻟﯿﮟ ﺍﻟﮓ ﺳﺐ ﮐﯽ
ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﻘﺪّﺭ ﺑﮭﯽ
ﮐِﺲ ﮐﺎ ﮐِﺲ ﺳﮯ ﻣِﻠﺘﺎ ﮨﮯ
“ﺭﺍﺳﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺮﺿﯽ ﮨﮯ“
... ﺟﺲ ﻃﺮﻑ ﺑﮭﯽ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﻘﺪّﺭ ﮐﮯ
ﺯﻭﺭ ﮐِﺲ ﮐﺎ ﭼﻠﺘﺎ ﮨﮯ
انسان کے اندر اٹھنے والے اکثر طوفان، تقدیر کی وجہ سے آتے ہیں، انسان کے اندر، اس طوفان میں، شدت بار بار اسےسوچنے سے آتی ہے۔ ایک ہی غم کو مسلسل اپنے اوپر سوار کرنا، اللہ کی تقدیر پہراضی نہ ہونا ہی وہ وجہ ہے کہ اس طوفان کا نہ ختم ہونے والے سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
خود کو اللہ کے حوالے کردیں، اپنی تقدیر پہ راضی ہوجائیں، آپ کے ساتھ اچھا ہوا تو اللہ کا شکر ، برا ہواتو اس پہ صبر کہ اللہ کی یہ ہی مرضی تھی وہ... مجھے آزمانا چاہتا ہے۔
یقین مانیں، زندگی میں ٹھہراءو آجائے گا، زیادہ سوچنے سے پریشانیاں کیا کم ہونی ہیں، انسان کا وجود ہی موم کی طرح پگھلنا شروع ہوجاتا ہے، یہ سوچ اس کو بیمار بنا دیتی ہے، انسان کا وجود زندہ لاش کی مانند نظر آتا ہے۔
جو مجھے ملا اس پر اللہ کا شکر ، جونہیں ملا اس پہ بھی میں اپنے اللہ سے خوش ہوں کہ مجھے آخرت میں اللہ سے بہت کچھ ملنے کی امید ہے۔ یہ سوچ آپ کے دل کو سکون بخشے گی، بیشک سکون اللہ کے ذکر میں ہی ہے۔

خوشبوؤں کے نزول جیسا تھا !

خوشبوؤں کے نزول جیسا تھا !
وہ جو اک شخص پھول جیسا تھا !
ہم زمانے کو لے کے کیا کرتے ؟
اس کے قدموں کی دھول جیسا تھا !
اس کو پانا تو یوں بھی مشکل تھا ...
آپ اپنے حصول جیسا تھا !
منفرد ہم بھی تھے انا کی طرح !
 وہ بھی اپنے اصول جیسا تھا !

ایک سچا واقعہ


ایک سچا واقعہ 

ایک عورت نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ میں سات دفعہ اللہ کے گھر حج کی نیت سے گئی ہوں مگر پتہ نہیں کیا بات ہے کہ مجھے اللہ کا گھر یعنی بیت اللہ نظر نہیں آتا۔ وہ کہتی ہے کہ ویسے تو میری بینائی بالکل ٹھیک ہے‘ مجھے عینک بھی نہیں لگی ہوئی مگر جب بھی میں سعودیہ جاتی ہوں تو بیت اللہ شریف کے سامنے بھی کھڑی ہوجاؤں تو وہ مجھے نظر نہیں آتا‘ اس نے روتے ہوئے بتایا کہ میں اس سعادت سے محروم ہوں۔ اس نے کسی اللہ والے بزرگ سے اپنی یہ بات نہایت دکھ سے روتے ہوئے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ تم اپنے اعمال پر نگاہ ڈالو۔ شاید تمہارے کسی عمل کی وجہ سے یہ پکڑ ہے۔ تو اس نے بہت سوچنے کے بعد یہ بتایا کہ میں نے زندگی میں اور کچھ تو ایسا بُرا نہیں کیا مگر کچھ عرصہ پہلے جب میرے گھر میں بہت تنگدستی تھی تو میں مُردے کو غسل دلانے کا کام کرتی تھی تو کافی دفعہ ایسا ہوا کہ کچھ لوگ چھپا کر مجھے زیادہ پیسےدیتے اور رازداری برتتے ہوئے یہ کہتے کہ تم نےیہ تعویذ مردے کی بغل میں دبادینا ہے یا کوئی کہتا کہ یہ مردے کے کفن میں ایسے رکھنا ہے کہ گرنے نہ پائے تو اس طرح می...ں کافی دفعہ مردے کے کفن میں تعویذ رکھتی رہی ہوں اب پتہ نہیں وہ تعویذ کس قسم کے تھے۔ شاید اسی وجہ سے یہ سب ہورہا ہے۔

زندگی ساحل کی سیر ہے۔۔۔

زندگی ساحل کی سیر ہے۔۔۔
کچھ لوگ گھونگے چننے کی آرزو میں ساحل پر جاتے ہیں اور صبح کے وقت عین آفتاب نکلنے سے پہلے انھیں سوئی ہوئی ریت پر ہر طرف موتی بکھرے ہوئے ملتے ہیں۔

کچھ لوگ موتیوں کی تلاش میں جاتے ہیں۔
کئی بار وہ سکن ڈائیورز کی طرح کئی کئی فیتھم نیچے جاتے ہیں اور ہر سیپی خالی نکلتی ہے۔

زندگی اور سمندر بڑے پر اسرار ہیں، وہ انسان کی خواہشوں کے تابع نہیں ہیں۔