14 Jun 2013 | By:

میرا دوست 'ف' کہتا ہے اگر کوئی مجھ سے پوچھے

میرا دوست 'ف' کہتا ہے اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ اس دنیا کا سب سے پہلا مہذب جانور کونسا ہے تو میں کہوں گا 'خاوند'- میں نے پوچھا-"دوسرا مہذب جانور؟" تو جواب ملا، 'دوسرا خاوند'-

خاوند کو اردو میں عورت کا مجازی خدا اور پنجابی میں عورت کا بندہ کہتے ہیں- جب کہ گھر میں اسے کچھ نہیں کہتے،جو کہتا ہے وہی کہتا ہے- سارے خاوند ایک جیسے ہوتے ہیں، صرف ان کے چہرے مختلف ہوتے ہیں تا کہ ہر کسی کو اپنا خاوند پہچاننے میں آسانی ہو- ہر خاوند یہی کہتا ہے کہ مجھ جیسا دوسرا خاوند پوری دنیا میں نہیں ملے گا اور عورت اسی امید پر دوسری شادی کرتی ہے، مگر اسے ہر جگہ کوئی دوسرا نہیں ملتا، خاوند ہی ملتا ہے-

ڈاکٹر یونس بٹ کی کتاب 'شیطانیاں' سے اقتباس
13 Jun 2013 | By:

یوں تو غلط نہیں ہے

یوں تو غلط نہیں ہے چہروں کا تاثر بھی مگر

لوگ ویسے بھی نہیں جیسے نظر آتے ہیں

ﺩُﮐﮫ ﮐﯽ ﮔﻨﺘﯽ،


ﺩُﮐﮫ ﮐﯽ ﮔﻨﺘﯽ،

ﺟﺎﻧﺖ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ،

ﺳُﮑﮫ ﮔﻨﻨﺎ ﻧﮧ ﺁﻭﮮ...

ﻣﯿﮟ ﻧﺎ ﺷُﮑﺮﺍ،

ﻣﺮﮮ ﻣﺎﻟﮏ،

ﺍﯾﮏ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﺩﻻ ﺩﮮ....

ﺳُﮑﮫ ﮔﻨﻨﺎ ﺳﮑﮭﻼ ﺩﮮ!..

امید ترک کر دینا گناہ ہے از شفیق الرحمٰن

امید ترک کر دینا گناہ ہے از شفیق الرحمٰن

" امید ترک کر دینا گناہ ہے ، کیونکہ امید بذات خود ایک بہت بڑی خوشی ہے ۔ بہت بڑا تحفہ ہے ۔ امید سورج کی طرح جس کی طرف چلنے لگیں تو ہمارے رنج و غم سائے کی طرح پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ اس سے ہماری خوشیاں دگنی اور غم آدھے رہ جاتے ہیں ۔ اور مایوسی تو گناہ ہے ، کیونکہ مایوس رہ کر تم دوسروں کو بھی مایوس کر دیتے ہو ۔
اس کے جراثیم بڑے مہلک ہوتے ہیں ، محزون چہرہ دیکھ کر دوسرے کے دل میں افسردگی پیدا ہو جاتی ہے ۔ اسی طرح مسکراتا ہوا چہرہ دیکھ کر آس پاس بیٹھے ہوئے لوگ خواہ مخواہ مسکرانے لگتے ہیں ۔ سورج کو دیکھو ، جب طلوع ہوتا ہے تو کیسی کیسی مسرتیں تقسیم کرتا ہے ۔ اگر کسی طرح مسرور نہیں رہ سکتے تو خوش رہنے کو اپنی ڈیوٹی ہی سمجھ لو کہ جی چاہے یا نہ چاہے بس مسرور رہنا ہے ۔ اور امید کو کبھی نہ چھوڑو ۔ اگر تمھیں خدا پر بھروسہ ہے تو امید پر بھی ہونا چاہیے کیونکہ امید خدا کا عطیہ ہے اور ہم فانی انسانوں کے پاس سب سے بڑا سرمایہ امید ہی ہے ۔ "۔
ہم دیر تک باتیں کرتے رہے ۔ یہ اور ایسے اور سبق آج تک کسی نے نہیں دیے تھے ۔ ان کی چھوٹی چھوٹی باتیں جیسے روح میں سما جاتی تھیں ۔ ہر صبح وہ میرے لئے ایک چھوٹا سا تحفہ لاتے تھے جس سے اتنی خوشی ہوتی کہ دن بھر مسرور رہتا ۔ ،

اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلا دینا



اونچے اونچے ناموں کی تختیاں جلا دینا
ظلم کرنے والوں کی وردیاں جلا دینا

ان سے پوچھیے جن کی کائنات جلتی ہے
دیکھنے میں آساں ہے بستیاں جلا دینا

دربدر بھٹکنا کیا دفتروں کے جنگل میں
بیلچے اٹھا لینا ڈگریاں جلا دینا

موت سے جو ڈر جاؤ زندگی نہیں ملتی
جنگ جیتنا چاہو تو کشتیاں جلا دینا

پھر بہو جلانے کا حق تمہیں پہنچتا ہے
پہلے اپنے آنگن میں بیٹیاں جلا دینا

ظلم کے اندھیروں سے تم نہ ہارنا منظر
جب چراغ بجھ جائے انگلیاں جلا دینا

منظر بھوپالی

"اصلی پیر"

"اصلی پیر"

جو اصلی پیر ہوتا ہے ناں..اسکی کوئی طلب نہیں ہوتی، اسے بندے سے کچھ لینا نہیں ہوتا. اسکی ساری رمزیں اوپر والے سے چلتی ہیں..خدائی کی لوڑیں(ضرورتیں) وہ پوری کر سکتا ہے. اوپر والے کو منانے کی طاقت ہوتی ہے اس میں...وہ اوپر والے کا یار جو ہوا..
- اشفاق احمد

مذاق میں بھی کسی انسان کو یہ زیب نہیں دیتا ک

مذاق میں بھی کسی انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ان چیزوں کا تمسخر اڑائے جن پہ انسان کا اختیار نہیں۔۔ جب ہم ایسا کر رہے ہوتے ہیں تو ہم بلواسطہ اس ذات کا مذاق اڑا رہے ہوتے ہیں۔ جس نے ان چیزوں کو تحلیق کیا ہے۔ انسان ناسمجھ ہے اور اس چیز کا شعور نہیں رکھتا۔۔ اس لیے تو خسارے میں رہتا ہے۔۔۔ ڈاکڑ خاور نے تاسف بھرے انداز میں کہا تھا۔۔ وہ دل ہی میں ان نرسوں سے کی بھرپور کلاس لینے کا تہیہ کر چکے تھے۔۔
رہنے دیں ڈاکٹر صاحب ! مجھے ان سے کوئی شکوہ نہیں۔ اللہ خود ہی ان سے پوچھ لے گا۔" سکینہ کی بات پر اماں نے دہل کر نادان بیٹی کو دیکھا۔۔
" خبردار سکینہ ! کسی نوں اینج نئیں کہندے، اگر تینوں کوئی شکوہ نئیں تے اللہ تے کیویں چھڈ دی اے۔۔ سوہنے رب دا انصاف بڑا سخت اے پتر ! انساناں نوں خود معاف دیندے آں، اللہ دی پکڑ بڑی سخت اے۔۔ سب لئی خیر منگیا کر دھی رانی !" جمیلہ مائی کے لہجے میں عاجزی ہی عاجزی تھی۔۔ ڈاکٹر خاور اس ان پڑھ خاتون سے سخت متاثر تھے۔۔ جس کے دل میں اللہ کی محبت اور خوف نے سب کے لیے خیر اور بھلائی بھر دی تھی۔۔ وہ تیزی سے کمرے نکلے اور اپنا چشمہ اٹھانا بھول گئے۔۔ جبکہ سکینہ نے اماں کی نظروں سے بمشکل بچتے ہوئے اس چمشے کو فورا عقیدت سے اٹھا کر اپنے تکیے کے نیچے چھپا دیا تھا۔۔ اسے لگا جیسے اسے ہفت اقلیم کی دولت مل گئی ہو۔۔

(صائمہ اکرم چوہدری کے ناول ’’دیمک زدہ محبت‘‘ سے اقتباس)

انگلش میڈیم استاد اور استانیاں ۔ ۔ ۔ ۔ از گل نوخیز اختر

انگلش میڈیم استاد اور استانیاں ۔ ۔ ۔ ۔ از گل نوخیز اختر
اماں جیراں اکثر کوئی نہ کوئی مسئلہ لے کر میرے پاس آتی رہتی ہے‘ اس بار بھی وہ منہ بنائے بیٹھی تھی‘ پتا چلا کہ اس کی بیٹی نبیلہ پھر نویں جماعت کے امتحان میں فیل ہوگئی ہے‘ ماسی نے پہلے تو نبیلہ کو کوسا‘ پھر مجھے کہنے لگی ’’اے بیٹا! کچھ کر کرا کے پاس نہیں ہوسکتی؟؟؟‘‘میں نے سرہلایا۔۔۔’’ہوسکتی ہے۔۔۔ایک طریقہ ہے!!!‘‘اماں خوشی سے اچھل پڑی۔۔۔’’وہ کیا؟‘‘
’’وہ یہ کہ تمہاری بیٹی دوبارہ سے امتحان دے۔۔۔‘‘ میں نے اطمینان سے کہا۔
اماں کا پھر منہ بن گیا۔۔۔’’وہ سو دفعہ بھی امتحان دے لے تو پاس نہیں ہوگی‘نکمی کہیں کی۔۔۔‘‘ اماں نے جلی کٹی سنادیں اور برقعہ سنبھال کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ایک ہفتے بعد میری دوبارہ اماں سے ملاقات ہوئی‘ میں نے پوچھا’’سناؤ اماں! نبیلہ کا کیا بنا؟۔۔۔دوبارہ امتحان دیا؟‘‘
’’نہیں پُتر! اس کے ابے نے اسے سکول سے ہی اٹھوا لیا ہے‘ وہ کہتا ہے پڑھائی اِس کے نصیب میں ہی نہیں۔۔۔‘‘
میں نے افسوس کیا۔۔۔’’اماں یہ ظلم نہ کرو۔۔۔کچھ پڑھ جائے گی تو کہیں نہ کہیں نوکری ہی مل جائے گی‘ چا ر پیسے آجایا کریں گے۔‘‘
اما ں خوش ہوکر بولی۔۔۔’’نوکری تو اسے مل بھی گئی۔‘‘
میں حیرت سے اچھل پڑا۔۔۔’’نوکری بھی مل گئی۔۔۔لیکن کہاں؟‘‘
اماں اطمینان سے بولی۔۔۔’’الحمد للہ ۔۔۔اگلی گلی والے انگلش میڈیم سکول میں ساڑھے سات سو روپے مہینے پر استانی لگ گئی ہے اور دسویں جماعت کو پڑھا رہی ہے۔‘‘
***
آپ کے اِردگرد بھی ایسی کئی استانیاں ’’فروغ علم‘‘ میں مصروف ہوں گی‘ یہ ایسی استانیاں ہوتی ہیں جو ایک ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لیتی ہیں اور دو ہزار روپے ماہانہ میک اپ پر لگا دیتی ہیں۔گلی گلی میں کھلے انگلش میڈیم سکول‘ انگلش ٹوتھ پیسٹ کی طرح ہیں تو بہت سستے لیکن ان کے دعوے آسمانوں سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔میں نے ایک ڈیڑھ مرلے کے انگلش میڈیم سکول کے باہر لکھا دیکھا کہ ’’یہاں بچوں کو کمپیوٹر کی عملی تربیت بھی دی جاتی ہے‘‘۔ مجھے بہت تجسس ہوا‘ میں نے پرنسپل صاحبہ سے پوچھا کہ کمپیوٹر ہے کہاں؟ وہ مجھے بڑے فخر سے سیڑھیوں کے نیچے بنی ’’کمپیوٹر لیب‘‘ میں لے آئیں جہاں سی پی یو کے بغیر صرف ایک مانیٹر پڑا تھا۔چونکہ کمپیوٹر کے متعلق میری معلومات بھی چنگیز خان جتنی ہیں لہذا میں نے تعریفی نظروں سے مانیٹر کی طرف دیکھا اورمرعوب ہوکر پوچھا’’میڈم! کیا یہ پینٹی ایم فورہے؟‘‘
وہ کچھ دیر سوچتی رہیں ‘ پھر اٹھلا کر بولیں۔۔۔’’نہیں نہیں۔۔۔یہ تو پینٹی ایم سیون‘‘ ہے۔میں نے مزید متاثر ہوکر پوچھا’’ بچوں کو اس کی عملی تربیت کیسے دی جاتی ہے؟‘‘ وہ اطمینان سے بولیں۔۔۔’’پہلے تو دو ماہ تک بچوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ یہی کمپیوٹر ہے۔۔۔پھر دو ماہ تک انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہ بجلی سے چلتا ہے‘پھر اگلے دوماہ تک انہیں بتایا جاتا ہے کہ اگر بجلی چلی جائے تو یہ نہیں چلتا۔۔۔پھر اگلے دوماہ تک انہیں بتایا جاتاہے کہ دوبارہ بجلی آنے پر یہ دوبارہ چل پڑتاہے۔۔۔پھر اگلے دو ماہ تک انہیں بتایا جاتاہے کہ اگر یہ زمین پر گرے تو ٹوٹ بھی سکتا ہے۔۔۔پھر اگلے دو ماہ تک انہیں بتایا جاتاہے کہ اگر یہ زمین پر نہ گرے تو بالکل نہیں ٹوٹتا۔۔۔پھر اگلے دو ماہ تک انہیں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کمپیوٹر سیکھ لیا ہے۔۔۔پھر اگلے دو ماہ کے بعد انہیں سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتاہے۔
ایسی کسی اُستانی سے اگر آپ پوچھیں کہ آپ میٹرک فیل ہیں؟ تو وہ کبھی ہاں میں جواب نہیں دے گی بلکہ کہے گی‘ نہیں! میں نویں پاس ہوں۔اس نوح میں مرد اساتذہ بھی شامل ہیں جو ایسے ہی انگلش میڈیم سکول میں ایک مہینہ اپنی قابلیت دکھا کر ڈیفنس کے سکول میں پرنسپل کی سیٹ کے لیے اپلائی کرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ایسا ہی ایک نویں پاس اُستاد برطانیہ کا ویزہ لگوانے کے لیے ایمبیسی پہنچا‘وہاں ویزہ افسر نے پوچھا کہ کیا تمہیں انگلش آتی ہے؟ ۔۔۔فوراً بولا۔۔۔’’جناب کیسی بات کرتے ہیں‘ میں انگلش میڈیم سکول کا سینئر ٹیچر ہوں۔‘‘
افسر نے کہا ۔۔۔’’ٹھیک ہے‘ ابھی ٹیسٹ کرلیتے ہیں‘ میں کچھ چیزوں کے نام لیتا ہوں‘ تم نے ان کا الٹ بتانا ہے۔‘‘استاد صاحب نے سر ہلایا اور تیار ہوگئے۔
افسر نے کہا ۔۔۔بلیک (Black)
جواب آیا۔۔۔وائٹ(white)
افسر نے کہا۔۔۔لیفٹ(Left)
جواب آیا۔۔۔رائٹ(Right)
افسر نے کہا۔۔۔اگلی(Ugly)
جواب آیا۔۔۔پچھلی۔۔۔!!!
***
میں ایسے استاد اور استانیوں کی بڑی قدر کرتا ہوں جو اپنے علم سے کہیں زیادہ تعلیم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بعض اوقات بچوں کو ایسی ایسی انوکھی باتوں سے روشناس کراتے ہیں کہ کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیمی ادارہ بھی یہ کام نہیں کر سکتا۔مثلاً میرے محلے میں ایک کمرے کا ہوٹل ہے جو دن کے وقت بطور انگلش میڈیم سکول استعمال ہوتاہے۔اس سکول کے ایک ذہین طالبعلم سے میں نے پوچھا کہ’’ بتاؤ اسلامی تاریخ کا وہ کون سا نیک اور خوبصورت انسان تھا جس کو اس کے بھائیوں نے کنوئیں میں دھکا دے دیا تھا؟
کچھ سوچ کر بولا۔۔۔’’ہریتک روشن‘‘
میں نے دانت پیس کر کہا۔۔۔’’میں ہندو کی نہیں‘ مسلمان کی بات کر رہا ہوں۔‘‘
جلدی سے بولا۔۔۔’’سوری۔۔۔شاہ رخ خان‘‘
میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پوچھا۔۔۔’’یہ بتاؤ صبح اٹھ کر پہلا کام کیا کرنا چاہیے؟‘‘
کچھ سوچ کر بولا۔۔۔’’ممی ڈیڈی کا آشیر باد لینا چاہیے۔۔۔‘‘
میں نے گہرا سانس لے کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اپنے منہ پر تھپڑ دے مارا۔
’’وہ یہ کہ تمہاری بیٹی دوبارہ سے امتحان دے۔۔۔‘‘ میں نے اطمینان سے کہا۔اماں کا پھر منہ بن گیا۔۔۔’’وہ سو دفعہ بھی امتحان دے لے تو پاس نہیں ہوگی‘نکمی کہیں کی۔۔۔‘‘ اماں نے جلی کٹی سنادیں اور برقعہ سنبھال کر اٹھ کھڑی ہوئیں۔ایک ہفتے بعد میری دوبارہ اماں سے ملاقات ہوئی‘ میں نے پوچھا’’سناؤ اماں! نبیلہ کا کیا بنا؟۔۔۔دوبارہ امتحان دیا؟‘‘’’نہیں پُتر! اس کے ابے نے اسے سکول سے ہی اٹھوا لیا ہے‘ وہ کہتا ہے پڑھائی اِس کے نصیب میں ہی نہیں۔۔۔‘‘میں نے افسوس کیا۔۔۔’’اماں یہ ظلم نہ کرو۔۔۔کچھ پڑھ جائے گی تو کہیں نہ کہیں نوکری ہی مل جائے گی‘ چا ر پیسے آجایا کریں گے۔‘‘اما ں خوش ہوکر بولی۔۔۔’’نوکری تو اسے مل بھی گئی۔‘‘میں حیرت سے اچھل پڑا۔۔۔’’نوکری بھی مل گئی۔۔۔لیکن کہاں؟‘‘اماں اطمینان سے بولی۔۔۔’’الحمد للہ ۔۔۔اگلی گلی والے انگلش میڈیم سکول میں ساڑھے سات سو روپے مہینے پر استانی لگ گئی ہے اور دسویں جماعت کو پڑھا رہی ہے۔‘‘***آپ کے اِردگرد بھی ایسی کئی استانیاں ’’فروغ علم‘‘ میں مصروف ہوں گی‘ یہ ایسی استانیاں ہوتی ہیں جو ایک ہزار روپے ماہانہ تنخواہ لیتی ہیں اور دو ہزار روپے ماہانہ میک اپ پر لگا دیتی ہیں۔گلی گلی میں کھلے انگلش میڈیم سکول‘ انگلش ٹوتھ پیسٹ کی طرح ہیں تو بہت سستے لیکن ان کے دعوے آسمانوں سے باتیں کرتے نظر آتے ہیں۔میں نے ایک ڈیڑھ مرلے کے انگلش میڈیم سکول کے باہر لکھا دیکھا کہ ’’یہاں بچوں کو کمپیوٹر کی عملی تربیت بھی دی جاتی ہے‘‘۔ مجھے بہت تجسس ہوا‘ میں نے پرنسپل صاحبہ سے پوچھا کہ کمپیوٹر ہے کہاں؟ وہ مجھے بڑے فخر سے سیڑھیوں کے نیچے بنی ’’کمپیوٹر لیب‘‘ میں لے آئیں جہاں سی پی یو کے بغیر صرف ایک مانیٹر پڑا تھا۔چونکہ کمپیوٹر کے متعلق میری معلومات بھی چنگیز خان جتنی ہیں لہذا میں نے تعریفی نظروں سے مانیٹر کی طرف دیکھا اورمرعوب ہوکر پوچھا’’میڈم! کیا یہ پینٹی ایم فورہے؟‘‘وہ کچھ دیر سوچتی رہیں ‘ پھر اٹھلا کر بولیں۔۔۔’’نہیں نہیں۔۔۔یہ تو پینٹی ایم سیون‘‘ ہے۔میں نے مزید متاثر ہوکر پوچھا’’ بچوں کو اس کی عملی تربیت کیسے دی جاتی ہے؟‘‘ وہ اطمینان سے بولیں۔۔۔’’پہلے تو دو ماہ تک بچوں کو یقین دلایا جاتا ہے کہ یہی کمپیوٹر ہے۔۔۔پھر دو ماہ تک انہیں بتایا جاتا ہے کہ یہ بجلی سے چلتا ہے‘پھر اگلے دوماہ تک انہیں بتایا جاتا ہے کہ اگر بجلی چلی جائے تو یہ نہیں چلتا۔۔۔پھر اگلے دوماہ تک انہیں بتایا جاتاہے کہ دوبارہ بجلی آنے پر یہ دوبارہ چل پڑتاہے۔۔۔پھر اگلے دو ماہ تک انہیں بتایا جاتاہے کہ اگر یہ زمین پر گرے تو ٹوٹ بھی سکتا ہے۔۔۔پھر اگلے دو ماہ تک انہیں بتایا جاتاہے کہ اگر یہ زمین پر نہ گرے تو بالکل نہیں ٹوٹتا۔۔۔پھر اگلے دو ماہ تک انہیں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کمپیوٹر سیکھ لیا ہے۔۔۔پھر اگلے دو ماہ کے بعد انہیں سرٹیفکیٹ جاری کر دیا جاتاہے۔ایسی کسی اُستانی سے اگر آپ پوچھیں کہ آپ میٹرک فیل ہیں؟ تو وہ کبھی ہاں میں جواب نہیں دے گی بلکہ کہے گی‘ نہیں! میں نویں پاس ہوں۔اس نوح میں مرد اساتذہ بھی شامل ہیں جو ایسے ہی انگلش میڈیم سکول میں ایک مہینہ اپنی قابلیت دکھا کر ڈیفنس کے سکول میں پرنسپل کی سیٹ کے لیے اپلائی کرنے میں ذرا بھی جھجک محسوس نہیں کرتے۔ایسا ہی ایک نویں پاس اُستاد برطانیہ کا ویزہ لگوانے کے لیے ایمبیسی پہنچا‘وہاں ویزہ افسر نے پوچھا کہ کیا تمہیں انگلش آتی ہے؟ ۔۔۔فوراً بولا۔۔۔’’جناب کیسی بات کرتے ہیں‘ میں انگلش میڈیم سکول کا سینئر ٹیچر ہوں۔‘‘افسر نے کہا ۔۔۔’’ٹھیک ہے‘ ابھی ٹیسٹ کرلیتے ہیں‘ میں کچھ چیزوں کے نام لیتا ہوں‘ تم نے ان کا الٹ بتانا ہے۔‘‘استاد صاحب نے سر ہلایا اور تیار ہوگئے۔افسر نے کہا ۔۔۔بلیک (Black)جواب آیا۔۔۔وائٹ(white)افسر نے کہا۔۔۔لیفٹ(Left)جواب آیا۔۔۔رائٹ(Right)افسر نے کہا۔۔۔اگلی(Ugly)جواب آیا۔۔۔پچھلی۔۔۔!!!***میں ایسے استاد اور استانیوں کی بڑی قدر کرتا ہوں جو اپنے علم سے کہیں زیادہ تعلیم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور بعض اوقات بچوں کو ایسی ایسی انوکھی باتوں سے روشناس کراتے ہیں کہ کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیمی ادارہ بھی یہ کام نہیں کر سکتا۔مثلاً میرے محلے میں ایک کمرے کا ہوٹل ہے جو دن کے وقت بطور انگلش میڈیم سکول استعمال ہوتاہے۔اس سکول کے ایک ذہین طالبعلم سے میں نے پوچھا کہ’’ بتاؤ اسلامی تاریخ کا وہ کون سا نیک اور خوبصورت انسان تھا جس کو اس کے بھائیوں نے کنوئیں میں دھکا دے دیا تھا؟کچھ سوچ کر بولا۔۔۔’’ہریتک روشن‘‘میں نے دانت پیس کر کہا۔۔۔’’میں ہندو کی نہیں‘ مسلمان کی بات کر رہا ہوں۔‘‘جلدی سے بولا۔۔۔’’سوری۔۔۔شاہ رخ خان‘‘میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور پوچھا۔۔۔’’یہ بتاؤ صبح اٹھ کر پہلا کام کیا کرنا چاہیے؟‘‘کچھ سوچ کر بولا۔۔۔’’ممی ڈیڈی کا آشیر باد لینا چاہیے۔۔۔‘‘میں نے گہرا سانس لے کر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اپنے منہ پر تھپڑ دے مارا۔

بہت دشوار ہوتا ہے

بہت دشوار ہوتا ہے
خواہشوں کے گھروندے
بنا کے توڑتے رہنا
فقط اک چپ میں سارے
دکھ چھپا کر مسکراتے رہنا
بہت دشوار ہوتا ہے
کسی کے ساتھ چلنا
اور کسی موڑ پر بچھڑ جانا
پھر بساط وقت سے بچنا
!یادوں کے سنگ چلنا
بہت دشوار ہوتا ہے
جانےکب ملے ہمیں وہ ہنر
کہ میں ہاتھ بڑھا کر
روک سکوں
جاتے لمحوں کو
گزرتے پلوں کو
مگر ایسا کرنا۔۔۔
بہت دشوار ہوتا ہے
اور
ایسا ہر بار ہوتا ہے



zaheen baccha


ایک عامل کا بڑا چرچہ تھا کہ وہ روحوں سے بات کروادیتے ہیں ۔ ایک بچہ جو اپنی ذہانت سے ہوشیاری کی وجہ سے محلے بھر میں مشہور تھا ان عامل کے پاس پہنچا اور نذرانہ پیش کرنے کے بعد کہا ۔

’’میں اپنے دادا کی روح سے بات کرنا چاہتا ہوں ‘‘۔

اسے ایک اندھیرے کمرے میں لے جایا گیا جہاں اگر بتیاں جل رہی تھیں ۔چند لمحوں کے بعد ایک بھاری آواز سنائی دی ۔

کیوں آئے ہو برخوردار؟

قریب سے عامل صاحب کے چیلے نے بچے کو ٹھوکا دیا یہ تمہارے دادا کی روح بول رہی ہے ۔ پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو ؟




دادا جان ! بچے نے سر کھجاتے ہوئے کہا ۔

’’مجھے آپ سے صرف یہ پوچھنا ہے کہ آپ کی روح یہاں کیا کررہی ہے ؟ جبکہ آپ کا تو بھی انتقال بھی نہیں ہوا‘‘