29 Jun 2014 | By:

qurani ayaat---100

يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ الْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا
On that day those who disbelieved and disobeyed the Messenger [Muhammad (pbuh)] will wish that they were buried in the earth, but they will never be able to hide a single fact from Allah.
اس دن جن لوگوں نے کفر کیا اور رسول (ﷺ) کی نافرمانی کی ہوگی، یہ آرزو کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں اور وہ اللہ سے کوئی بات چھپا نہ سکیں گے۔
[Al-Quran 4:42]

إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا
Surely! Allah wrongs not even of the weight of an atom (or a small ant), but if there is any good (done), He doubles it, and gives from Him a great reward.
بے شک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا، اور اگر (کسی کی) کوئی نیکی ہو تو وہ اسے دُگنا کر دیتا ہے اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتا ہے۔
[Al-Quran 4:40]


قُلْ نَزَّلَهُ رُوحُ الْقُدُسِ مِنْ رَبِّكَ بِالْحَقِّ لِيُثَبِّتَ الَّذِينَ آمَنُوا وَهُدًى وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ
Say [O Muhammad (pbuh)] Ruh-ul-Qudus [Jibrael (Gabriel)] has brought it (the Quran) down from your Lord with truth, that it may make firm and strengthen (the Faith of) those who believe and as a guidance and glad tidings to those who have submitted (to Allah as Muslims).
آپ ﷺ ان سے کہئے کہ اس قرآن کو روح القدس نے آپ کے پروردگار کی طرف سے حق کے ساتھ بتدریج نازل کیا ہے۔ تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو مضبوط بنا دے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور بشارت ہے۔
[Al-Quran, Surat An-Nahl 16, Verse 102]


وَالَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ وَمَنْ يَكُنِ الشَّيْطَانُ لَهُ قَرِينًا فَسَاءَ قَرِينًا
And (also) those who spend of their substance to be seen of men, and believe not in Allah and the Last Day [they are the friends of Shaitan (Satan)], and whoever takes Shaitan (Satan) as an intimate; then what a dreadful intimate he has!
اور ایسے لوگ (بھی اللہ کو پسند نہیں) جو لوگوں کے دکھاوے کے لیے اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ اور وہ اللہ پر آخرت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور جس شخص کا ساتھی شیطان ہو تو وہ بہت برا ساتھی ہے۔
[Al-Quran 4:38]


وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ
And when I am ill, it is He who cures me.
اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
[Al-Quran, Surat Ash-Shuara 26, Verse 80]


سورة الاٴنفَال
اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب الله ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو الله ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے (۳۹)

26 Jun 2014 | By:

ﺣﺴﺎﺑﯽ اور ﻓﺮﻗﯽ ﻧﻈﺮ __________!!



ﺣﺴﺎﺑﯽ اور ﻓﺮﻗﯽ ﻧﻈﺮ __________!!
ﺍﺳﺘﺎﺩ.. "ﺑﺘﺎﻭٴ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮐﺘﻨﯽ ﮪﮯ..؟"
ﺷﺎﮔﺮﺩ.. "ﺟﻨﺎﺏ ! "ﺣﺴﺎﺑﯽ ﻧﻈﺮ" ﺳﮯ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﮈﯾﮍﮪ ﺍﺭﺏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮪﯿﮟ ﻣﮕﺮ "ﻓﺮﻗﯽ ﻧﻈﺮ" ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ.."
ﺍﺳﺘﺎﺩ (حیران ﮪوکر).. " ﯾﮧ ﻓﺮﻗﯽ ﻧﻈﺮ ﮐﯿﺎ ﮪﮯ..؟"
ﺷﺎﮔﺮﺩ.. "ﺟﻨﺎﺏ ! ﮪﺮ ﻓﺮﻗﮯ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻗﺴﻢ ﮐﯽ ﻋﯿﻨﮏ ﮪﻮﺗﯽ ﮪﮯ ﺟﺴﮯ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮪﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﻮﺍ ﺑﺎﻗﯽ ﺳﺐ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﺍﺋﺮە ﺍﺳﻼﻡ ﺳﮯ ﺑﺎﮪﺮ ﻧﻈﺮ ﺁﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮪﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮪﯿﮟ..
ﺍﺱ ﻧﻈﺮ ﮐﻮ "ﻓﺮﻗﯽ ﻧﻈﺮ" ﮐﮩﺘﮯ ﮪﯿﮟ _________!!"

" وہ بیتے دن یاد ہیں



صحن میں بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا جس کا عنوان تھا " صنف نازک کا دل فتح کرنے کے گلابی طریقے" ابھی میں نے تیسرا صفحہ ہی پڑا تھا کہ ایک عدد گلاب کا پھول مجھ پر آگرا ، مارے خوشی کہ میں کرسی سے نیچے جا پڑا ، تھوڑا نشہ اترا تو دیکھا کہ اوپر ایک بلا ایک بلی سے دل کی بات کہنے کیلئے پیچھے پیچھے بھاگ رہا تھا اور اس دوران گملے میں لگا گلاب کا خوشبو دار پھول ہم پر آن گرا تھا ، اس وقت اللہ کا شکر ادا کیا کہ گلاب کے پھول کے ساتھ گملا نہیں تھا ،ویسے تو ہمارے گھر کے اوپر کرائے دار ماشا اللہ کافی خوش شکل ہیں ، گلاب کا پھول ہاتھوں میں لئے ابھی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی ، والدہ محترمہ بازار گئی تھیں سوچا وہ آئیں ہونگی ، میں نے دروازہ کھولتے ہی گلاب کا پھول آگے کردیا ، سامنے اپنی محلے والی کو دیکھ کر پیروں تلے زمین ہی نکل گئی ، 42سالہ تھوڑی نرم اور کچھ کچھ نازک سی خاتون کے چہرے کا رنگ ایک دم گلاب جیسا ہوگیا لیکن جیسے ہی اسے کہا کہ سوری باجی میں سمجھا امی تھیں تو کدو جیسی شکل بنائی اور منہ پھلاتی ہوئی چلی گئی ، میری سانس بحال ہوئی تو امی دروازے تک پہنچ چکی تھیں ، میرے ہاتھ میں گلاب کا پھول دیکھ کر کہنے لگیں کس کا انتظار ہو رہا ہے میں نے کہا گھر کی مالکن کے بغیر دل اداس ہورہا تھا تو دروازے پر کھڑا ہوگیا، ہم پھر برآمدے میں بیٹھے کتاب کھول کر پڑھنے لگے اور ساتھ ہی گلاب کی خوشبو کا بھی مزہ لیتے رہے ، اچانک ہاتھ جو گھوما تو گلاب ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے جا گرا ، میں نے اوپر سے جھانکا تو سر ہی پیٹ لیا کیوں کہ گلاب کا پھول سیدھا گھر کی کام والی پر گرا تھا ، جس کی پوری بتیسی مجھے دیکھ کر باہر آگئی تھی وہ تو مجھے اس وقت رومیو سمجھ رہی تھی لیکن میں اسے جولیٹ کیسے کہہ سکتا تھا کیوں کہ اس کا رنگ ہمارے روٹی پکانے والے توے سے بس کچھ ہی کم کالا تھا ہاں پر دل کی بہت اچھی تھی ، دروازہ والدہ نے کھولا اور ہاتھ میں گلاب دیکھ کر سر کھجانے لگیں اور پھر اپنے کام میں لگ گئیں، کچھ عرصے بعد ہم نے وہ گھر چھوڑ دیا لیکن آج بھی وہ گلاب کا پھول یاد آتا ہے
پرنس کی کتاب" وہ بیتے دن یاد ہیں" سے اقتباس
20 Jun 2014 | By:

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا

غلط تھے وعدے مگر میں یقین رکھتا تھا
وہ شخص لہجہ بڑا دلنشین رکھتا تھا ۔۔۔۔۔۔

محل



خلیفہ الحکم بن خلیفہ عبدالرحمن ثالث کو اپنا محل بنوانا تھا. اتفاق سے جو زمین پسند کی گئی اس میں ایک غریب بیوہ کا جھونپڑا آتا تھا. اس بیوہ کو کہا گیا کہ وہ یہ زمین قیمتا دے دے، مگر اس نے انکار کردیا. خلیفہ نے زبردستی اس زمین پر قبضہ کر کے محل بنوالیا. اس بیوہ نے قاضی کی خدمت میں حاضر ہوکر خلیفہ کی شکایت کی. قاضی نے اسے تسلی دے کر کہا..."تم اس وقت جاؤ ، میں کسی مناسب موقع پر تمہیں انصاف دلوانے کی کوشش کروں گا."
خلیفہ الحکم نے جب پہلی بار محل اور باغ کا دورہ کیا تو قاضی بھی وہاں موجود تھے. انہوں نے خلیفہ سے ایک بوری مٹی لینے کی اجازت چاہی جسے خلیفہ نے قبول کرلیا... جب قاضی بوری کو مٹی سے بھر چکے تو خلیفہ سے درخواست کی کہ مہربانی فرما کر اس بورے کے اٹھانے میں ان کی مدد کی جائے . خلیفہ نے اسے ایک مزاق سمجھا اور بورے کو ہاتھ لگا کر اٹھانے کی کوشش کی مگر وزن چونکہ ذیادہ تھا . اسلئے خلیفہ سے وہ بوری نہیں اٹھائی گئی..
یہ صورتحال دیکھ کر قاضی نے کہا ... اے خلیفہ! جب تو اتنا سا بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں تو قیامت کے دن جب ہم سب کا مالک انصاف کرنے کے لئے عرش پر جلوہ افروز ہوگا اور وہ غریب بیوہ جس کی زمین تو نے بہ زور لے لی ہے انصاف کی خواہاں ہوگی تو اس تمام زمین کے بوجھ کو کس طرح اٹھاسکے گا؟؟ خلیفہ اس نصیحت سے بہت متاثر ہوا اور فورا محل کا ایک حصہ بمع تمام سازوسامان کے اس بیوہ کو عطا کردیا..

زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا



زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
جنگ لازم ھو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

ایک بھیڑیئے نے ایک بکری کو پکڑ لیا



حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک بھیڑیئے نے ایک بکری کو پکڑ لیالیکن بکریوں کے چرواہے نے بھیڑئیے پر حملہ کرکے اس سے بکری کو چھین لیا۔
بھیڑیا بھاگ کر ایک ٹیلے پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ اے چرواہے! اﷲ تعالیٰ نے مجھ کو رزق دیا تھا مگر تو نے اس کو مجھ سے چھین لیا۔ چرواہے نے یہ سن کر کہا کہ خدا کی قسم! میں نے آج سے زیادہ کبھی کوئی حیرت انگیز اور تعجب خیز منظر نہیں دیکھا کہ ایک بھیڑیا عربی زبان میں مجھ سے کلام کرتا ہے۔
بھیڑیا کہنے لگا کہ اے چرواہے! اس سے کہیں زیادہ عجیب بات تو یہ ہے کہ تو یہاں بکریاں چرا رہا ہے اور تو اس نبی کو چھوڑے اور ان سے منہ موڑے ہوئے بیٹھا ہے جن سے زیادہ بزرگ اور بلند مرتبہ کوئی نبی نہیں آیا۔ اس وقت جنت کے تمام دروازے کھلے ہوئے ہیں اور تمام اہل جنت اس نبی کے ساتھیوں کی شانِ جہاد کا منظر دیکھ رہے ہیں اور تیرے اور اس نبی کے درمیان بس ایک گھاٹی کا فاصلہ ہے۔ کاش! تو بھی اس نبی کی خدمت میں حاضر ہو کر اﷲ کے لشکروں کا ایک سپاہی بن جاتا۔
چرواہے نے اس گفتگو سے متاثر ہو کر کہا کہ اگر میں یہاں سے چلا گیا تو میری بکریوں کی حفاظت کون کرے گا؟ بھیڑئیے نے جواب دیا کہ تیرے لوٹنے تک میں خود تیری بکریوں کی نگہبانی کروں گا۔ چنانچہ چرواہے نے اپنی بکریوں کو بھیڑئیے کے سپرد کر دیا اور خود بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر مسلمان ہو گیا اور واقعی بھیڑیئے کے کہنے کے مطابق اس نے نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے اصحاب کو جہاد میں مصروف پایا۔ پھر چرواہے نے بھیڑئیے کے کلام کا حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے تذکرہ کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلمنے فرمایا کہ تم جائو تم اپنی سب بکریوں کو زندہ و سلامت پائو گے۔
چنانچہ چرواہا جب لوٹا تو یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بھیڑیا اس کی بکریوں کی حفاظت کر رہا ہے اور اس کی کوئی بکری بھی ضائع نہیں ہوئی ہے چرواہے نے خوش ہو کر بھیڑیئے کے لئے ایک بکری ذبح کرکے پیش کر دی اور بھیڑیا اس کو کھا کر چل دیا۔
(زرقانی جلد۵ ص۱۳۵ تا ص۱۳۶)

"دلوں کے فاصلے"

"دلوں کے فاصلے"


استاد نے شاگردوں سے پوچھا.... "لوگ جب پریشان ہوتے ہیں تو ایک دوسرے پر چیختے کیوں ہیں؟"
شاگردوں نے کچھ دیر سوچا پھر ان میں سے ایک نے کہا .... "کیونکہ ہم اپنا سکون کھودیتے ہیں اس لئے چیختے ہیں.."
"لیکن جب دوسرا آدمی ہمارے قریب بیٹھا ہوتا ہے پھر چیخنے کی کیا تک؟ کیا ہم اس سے ہلکی آواز میں بات نہیں کرسکتے؟ چیختے چلاتے کیوں ہیں؟؟
شاگردوں نے کچھ جواب دیے لیکن کوئی بھی استاد کو مطمئن نہیں کرسکا..
آخر استاد نے کہا .... "جب لوگ ایک دوسرے سے ناراض ہوتے ہیں، غصہ کرتے ہیں تب ان کے دل دور ہوجاتے ہیں.. اس فاصلے کو عبور کرنے کے لئے لوگوں کو چیخنا پڑتا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کی آواز کو سن سکیں.. وہ جتنا ذیادہ غصہ ہوں گے انھیں اتنا ہی چیخنا ہوگا تاکہ ان کے دلوں کے درمیان فاصلہ دور ہوسکے"
پھر استاد نے کہا .... "جب لوگ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں تب جانتے ہو کیا ہوتا ہے؟؟
"وہ ایک دوسرے پر چلاتے نہیں ہیں بلکہ آہستہ گفتگو کرتے ہیں. کیوں؟ اسلئے کہ ان کے دل قریب ہوتے ہیں ان کے دلوں کے درمیان فاصلہ کم ہوتا ہے ..