7 Sept 2014 | By:

سلام کرتے ہوئے گھر میں داخل ہونے کی تاکید اور فضائل



سلام کرتے ہوئے گھر میں داخل ہونے کی تاکید اور فضائل  

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول پاک ﷺ نے فرمایا: اے انس! گھرمیں داخل ہو تو گھر والوں کو سلام کرو۔ گھر کی بھلائی میں اضافہ ہوگا۔ (ترمذی جلد۲ صفحہ ۹۹)۔ سعید بن مسیب کی روایت میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے فرمایا کہ مجھ سے رسول پاک ﷺ نے فرمایا: اے میرے بیٹے جب تم اپنے گھرمیں داخل ہو تو سلام کرو۔ یہ تمہارے اور تمہارے گھر والوں کیلئے باعث برکت ہے۔ (ترمذی جلد۲ صفحہ ۹۹)۔ حضرت قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم گھر میں داخل ہو تو سلام کرو اور جب گھر سے نکلو تو سلام کے ساتھ نکلو۔ (مشکوٰۃ صفحہ ۳۹۹)  سلام سے شیطان گھر میں داخل نہ ہوگا: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جب تم اپنے گھروں میں داخل ہو تو اہل خانہ کو سلام کرو۔ جب تم سلام کروگے تو شیطان تمہارے گھر میں داخل نہ ہوگا۔ (مکارم الخرائطی صفحہ ۸۱۶) فائدہ: کتنی بڑی فضیلت ہے کہ سلام کی برکت سے شیطان کے ضرر سے گھر محفوظ ہوجاتا ہے۔ آج عموماً گھروں میں شیطانی اثرات کی شکایت ہے۔ یہ اس کا حل ہے۔ اس میں حفاظت بھی ‘برکت بھی ہے۔گھرمیں سلام کرتے ہوئے جانے سے خدا کی حفاظت: حضرت ابوامامہ البابلی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں کہ تین شخص خدا کی حفاظت اور ضمان میں ہوتے ہیں(اس میں ایک شخص وہ ہے) جو گھر میں داخل ہوتا ہے تو سلام کرکے داخل ہوتا ہے۔ تو یہ بھی خدا کی حفاظت میں ہوجاتا ہے۔ (مختصراً) (ابوداؤد جلد۱ صفحہ ۳۷۶، حاکم جلد۲ صفحہ ۷۳) فائدہ: سلام کی برکت سے جو دعاء حفظ وعافیت ہے گھر کے مکارہ اور پریشانیوں سے خدا کی حفاظت میں آجاتا ہے۔آپﷺ جب گھر میں داخل ہوتے تو اہل خانہ کو سلام فرماتے۔ آپ ﷺ گھر میں داخل ہوتے تو کبھی کھانے کے متعلق سوال کرتے ہوئے فرماتے کچھ کھانے کو ہے۔ کبھی ایسا ہوتا کہ آپ ﷺخاموش رہتے یہاں تک کہ آپ ﷺکے سامنے آسانی سے جو میسر ہوتا پیش کردیا جاتا۔ (زادالمعاد)

حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا


آپ کا نام  حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  والد کا نام ابی ذویب جبکہ خاوند کا نام حارث بن عبدالعزیٰ تھا۔ 
حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تعلق قبیلہ سعد سے تھا جو اس دور میں فصاحت اوربلاغت اور پانی کی شیرینی کی وجہ سے مشہور تھا۔ سرورکائنات حضور نبی اکرم ﷺ کا ایک خاص حوالے سے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ایک گہرا تعلق تھا۔ آپ ﷺ نے بچپن میں عرب کے دستور کے مطابق اپنی ماں کے علاوہ ایک اور پیاری گود میں بھی اپنی عمر کے ابتدائی چند سال گزارے۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضور ﷺ کی رضاعی والدہ بھی تھیں۔
شرفائے عرب میں دستور تھا کہ بچوں کو ماں کے پاس نہ رکھتے تھے بلکہ اکثر پرورش اور فصیح زبان سیکھنے کیلئے دوسری عورتوں کو دے دیتے اس کیلئے عموماً قرب و جوار کے قبائلی دیہات کا چناؤ کیا جاتا۔ بچے دیہات کی کھلی آب و ہوا میں پرورش پاتے اور پھر چند برس بعد ان کے والدین انہیں واپس لے جاتے۔ یہ رواج اس وقت اس قدر مستحکم تھا کہ تھوڑے تھوڑے عرصہ بعد دیہات کی غریب عورتیں خود ہی شہر میں آتیں اور جو بچے اس مدت میں پیدا ہوئے ہوتے انہیں ان کے ماں باپ کی مرضی سے ساتھ لے جاتیں۔ سرور کائنات حضور نبی کریم حضرت محمدﷺ جب اس کائنات میں رونق افروز ہوئے تو شروع میں انہوں نے سات روز تک اپنی والدہ ماجدہ حضرت بی بی آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ہی دودھ پیا۔ اس کے چند دن بعد تک حضرت ثوبیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دودھ پلایا۔ اسی اثنا میں قبیلہ بنی سعد کی چند عورتیں بچے لینے مکہ آئیں۔ ان عورتوں میں حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی شامل تھیں۔
دوسری سب عورتیں مالدار گھرانوں سے بچے لینے میں کامیاب ہوگئیں لیکن حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کوئی بچہ نہیں مل سکا۔ انہیں خود خبر نہ تھی کہ قسمت ان کی جھولی میں کون سی عظیم ہستی ڈالنے والی ہے۔ اس وقت مایوس ہوکر واپس جانے ہی والی تھیں کہ معلوم ہوا کہ سردار قریش عبدالمطلب کا ایک یتیم پوتا اس دنیا میں آچکا ہے۔ خاوند سے مشورہ کیا کہ اس بچے کا باپ تو دنیا میں ہے نہیں کہ جو اس بچے کی پرورش کے عوض ہمارے ساتھ مالی طور پر کچھ سلوک کرے۔ البتہ اس کے دادا کی شرافت اور عالی نسبی سے یہ توقع ہے کہ خدا اس بچہ کے طفیل ہماری بہتری کی صورت کردے۔ شوہر نے کہا کہ کچھ مضائقہ نہیں۔ اس بچے کو ضرور لے لو۔ خالی ہاتھ جانا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فوراً جاکر ننھے حضور ﷺ کو لے آئیں۔ انہیں کیا خبر تھی کہ یہ بچہ دین و دنیا کا سردار ہے اور اسے دودھ پلا کر وہ ابدی سعادت وعظمت حاصل کرنے والی ہیں۔ان دنوں عرب میں قحط کا عالم تھا۔ خشک سالی کی وجہ سے جانوروں کے تھنوں میں دودھ سوکھ گیا تھا۔ خود عورتوں کو بھی دودھ بڑی مشکل سے اترتا تھا اور ان کے بچے بھوک سے بلبلاتے تھے۔ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جو بنو سعد بن بکر کی کچھ خواتین کےساتھ مکہ آئیں تھیں ان کے ساتھ اپنا بھی ایک شیرخوار بچہ تھا۔ یہ بھی بھوکا پیاسا ہروقت روتا رہتا تھا حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے کہ جس دن میں نے سرور کائنات ﷺ کو گود میں لیا ہماری حالت یکسر بدل گئی۔ میری خشک چھاتیوں میں دودھ اتر آیا اور ہماری اونٹنی کے تھن بھی دودھ سے بھر گئے۔ دونوں بچوں نے خوب سیر ہوکر دودھ پیا اور ہم نے بھی خوب اونٹنی کا دودھ پیا۔ جب مکہ سے چلنے لگے تو ہمارا مریل گدھا جو سارے قافلے سے پیچھے چلتا تھا۔ بہت تیز رفتاری سے چلتا ہوا سارے قافلے سے آگے چلنے لگا۔ میرا خاوند اور قافلے کے دوسرے لوگ بار بار یہی کہتے تھے کہ یہ بچہ بہت برکت والا ہے اور حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بہت خوش قسمت ہے کہ ایسا سعادت مند بچہ اسے مل گیا ہے۔ جب ہم اپنے گھر پہنچے تو ہماری بکریوں کے تھن بھی دودھ سے بھر گئے۔
گاؤں کے دوسرے جانوروں کا دودھ بدستور خشک تھا اور لوگ ہماری حالت پر رشک کرتے تھے۔ آخر سب گھروں والے میرے جانوروں کے ساتھ اپنے جانور چرانے لگے۔ خدا کی قدرت سے ان جانوروں کے بھی دودھ اتر آیا۔
پس حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے گھر والے اس نصیبوں والے بچے پر سوجان سے فدا تھے اور نہایت محبت اور شفقت سے حضور ﷺ کی پرورش میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے تھے۔جب آنحضور ﷺ کی عمر مبارک دو برس ہوئی تو حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپﷺ کو ساتھ لے کر مکہ میں حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس لے کر آئیں۔ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آنحضور ﷺ کو دیکھ کر خوشی سے نہال ہوئیں اور اپنے پیارے بیٹے کو بہت بہت پیار کیا۔ ماں کا بچے کو اب جدا کرنے کو جی نہ چاہتا تھا لیکن حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: ’’مکہ کی آب و ہوا اس وقت بہت خراب ہے بہتر یہی ہے کہ آپ فی الحال اس بچے کو میرے پاس رہنے دیں‘‘
حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے صورتحال کو سمجھتے ہوئے حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بات مان لی اور یوں حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ ﷺ کو پھر سے واپس اپنے قبیلے میں لے کر آگئیں۔حضور نبی اکرم ﷺ نے پانچ برس تک حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس پرورش پائی۔ حتیٰ کہ واقعہ شق الصدر پیش آیا۔اس کے بعد آپ ﷺ کو آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سپرد کردیا۔حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس کے بعد عرصہ دراز تک زندہ رہیں۔ ان کا سن وفات ٹھیک طرح سے دستیاب نہیں۔ سن 8ہجری میں جب آنحضور ﷺ کی عمر مبارک اکسٹھ برس تھی آپ ﷺ جعفرانہ میں گوشت تقسیم فرما رہے تھے۔ اس وقت حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور ﷺ کے پاس تشریف لائیں۔ حضور ﷺ نے خود اپنی چادر مبارک بچھا کر ان کو بے حد تعظیم و تکریم کے ساتھ بٹھایا۔ گو کہ بعض روایات میں اس بات کی اس طرح تردید ملتی ہے کہ وہ حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نہیں بلکہ ان کی بیٹی اور حضور ﷺ کی رضاعی بہن تھیں۔
حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی دو بیٹیاں انیسہ‘ اور حذافہ تھیں جبکہ ایک بیٹا عبداللہ تھا۔غرض اس بات سے قعطاً شک نہیں کہ حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا وہ جلیل القدر خاتون تھیں جن کو حاصل ہونے والی سعادت پر پوری تاریخ اسلام ہمیشہ رشک کرتی رہے گی۔ جہاں تک حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قبول اسلام اور شرف صحابیت کا تعلق ہے اکثرکتب سیر اس بارے میں خاموش ہیں۔ البتہ کچھ واقعات و حالات ایسے موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا شرف اسلام سے ضرور بہرہ مند ہوئیں۔

متوازن غذا‘جسمانی ورزش سے ڈیپریشن بھگائیے


  متوازن غذا‘جسمانی ورزش سے ڈیپریشن بھگائیے  


انسانی شخصیت مثلث کی طرح تین حصوں پر محیط ہوتی ہے جن میں ایک ہے جسمانی ڈھانچہ‘ دوسرا ہے کیمیائی نظام اور تیسرا حصہ ہے اس کی نفسیات۔ بنیادی طور پر تحقیق کے یہ تین علیحدہ پہلو ہیں مگر ان تینوں میں ایک خاص توازن قائم ہونا لازمی ہے۔

اپنے اطراف میں نظر دوڑائیں تو جدید دور کے پیش نظر ہر دوسرا شخص اپنے مخصوص انداز میں ڈیپریشن‘ اسٹریس اور سر کے درد کی شکایت کرتا نظر آئے گا۔ بہت سے لوگوں کو اظہار تکلیف کی زحمت ہی نہیں پڑتی کیونکہ ان کے ہاتھ میں مختلف گولیوں کے پتے اور سر کے گرد کپڑا گویا زبان حال سے خود ہی کہہ ہوتا ہے:۔؎
درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
دیکھا یہ گیا ہے کہ ڈیپریشن اور سر کے درد کیلئے زیادہ تر لوگ خود ہی اپنے لیے علاج منتخب کرلیتے ہیں اور ہزاروں روپے کی ادویات سے راہ نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ سال پہلے تک سر کے درد کی تکلیف کا کم ہی سننے میں آتا تھا مگر آج یہ حال ہے کہ بچے بھی اس سے محفوظ نہیں۔ سردرد کی کیفیت کا یہ عالم ہے کہ معمولی سی پریشانی سےبھی سر کے درد کا بہانہ بن جاتا ہے درد رفتہ رفتہ شدت اختیار کرتے ہوئے سر کے پچھلے حصے تک سرائیت کرجاتا ہے۔ سر چکرانے لگتا ہے۔ ساتھ ساتھ قے اور متلی کی سی کیفیت رہتی ہے۔ درد کی یہ قسم آدھے سر کا درد کہلاتی ہے۔ اسے ’’درد شقیقہ‘‘ یا مائیگرین بھی کہتے ہیں۔
بعض لوگوں کو مستقل طور پر ڈیپریشن کی وجہ سے سردرد کی شکایت رہتی ہے۔ یہ لوگ ایک طرح اس تکلیف کے عادی بھی ہوجاتے ہیں مگر بدقسمتی سے جو تکلیف وہ اٹھارہےہیں ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر کس وجہ سے اس میں مبتلا ہیں۔ باوجود کوشش کے اس کا جواب ملنا مشکل ہوجاتا ہے۔ سر کا درد ذہنی الجھنوں کی پیداوار تو ہے ہی ساتھ ہی آلودگی اور ماحول کی خرابی اس کو مزید بڑھاتے ہیں۔ اعصابی دباؤ ایسی غذا جوغیر موضوع یا ناقص ہو عموماً غیرمتوازن غذائیں‘ ٹھنڈی یا گرم اشیاء‘ انتہائی تیز روشنی سے بھی درد سر ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کسی بیماری کی وجہ سے بھی درد لاحق ہوسکتا ہے۔ سر درد ہرایک کو ہوسکتا ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت‘ بچہ ہو یا بوڑھا‘ امیر ہو غریب غرضیکہ بچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ 
سر کا درد کہنے کو تو معمولی سا درد لگتا ہے ہر شخص کا درد مختلف نوعیت کا ہوسکتا ہے جن کا پس منظر بھی مختلف ہوتا ہے۔ اس طرح اس کا علاج بھی ایک دوسرے سے جدا ہوگا کسی کو بروقت علاج کرنے سے فوری آرام آجائے گا جب کہ کسی دوسرے شخص کو آرام آنے میں زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اسے ڈاکٹر کےکئی چکر لگانے پڑتے ہیں تب کہیں جاکے اسے آرام نصیب ہوگا۔ یہ حال زیادہ تر 30 سال یا اس سے زیادہ کی عمر کے لوگوں کا ہوتا ہے۔ دوا کے مستقل استعمال کی وجہ سے قوت مدافعت بھی متاثر ہوتی ہے اور نوبت انتہائی تیز اثر رکھنے والی ادویہ تک پہنچ جاتی ہے۔ اس طرح کا معمول روز مرہ کی زندگی پر بُرا اثر ڈالتا ہے۔ اس مضمون کے ذریعہ کوشش کی گئی ہے کہ ڈیپریشن‘ اسٹریس‘ درد سر کے خلاف مؤثر اور کم قیمت علاج تجویز کیے جائیں اور آپ یہ نہ کہہ سکیں کہ ؎
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
انسانی شخصیت مثلث کی طرح تین حصوں پر محیط ہوتی ہے جن میں ایک ہے جسمانی ڈھانچہ‘ دوسرا ہے کیمیائی نظام اور تیسرا حصہ ہے اس کی نفسیات۔ بنیادی طور پر تحقیق کے یہ تین علیحدہ پہلو ہیں مگر ان تینوں میں ایک خاص توازن قائم ہونا لازمی ہے۔ اس کیلئے تین پہلوؤں پر کڑی منصوبہ بندی کے تحت کچھ ضروری عوامل کو روز مرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بنایا جائے جن میں مساج‘ پریشر پوائنٹ تھراپی و متوازن غذا جسمانی ورزش اور ذہنی سکون کیلئے یوگا کی طرز کی ورزش۔
مساج :  مساج کے ذریعے دنیا میں بے شمار لوگ ذہنی اور جسمانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ سر کے درد میں پیدا ہونے والی کیفیت جس میں ذہنی اضطراب اور اعصابی تناؤ بڑھ جاتا ہے مساج کے ذریعے کافی حد تک تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اس کے ذریعے جسم میں خون اور معدنیات یا پانی میں بھی اضافہ ہوتاہے۔ ساتھ ساتھ جسم میں جو زہریلے مادے پیدا ہوتے ہیں ان کو قلیل کیا جاسکتا ہے۔ مساج کےذریعے ایسے اعضاء کو بھی تحریک ملتی ہے جو سر درددور کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
پریشر پوائنٹ تھراپی:جسم کے مختلف مقامات پر ایسے پریشر پوائنٹس ہوتے ہیں جن پر دباؤ ڈالنے سے سردرد اور ڈیپریشن میں آرام محسوس ہوتا ہے۔
متوازن غذا: متوازن غذا سردرد کے ابتدا ہی سے بہت طریقے سے آرام پہنچاتی ہے۔ اکثر کھانے سردرد کا باعث بھی بنتے ہیں۔ ساتھ میں کچھ غذائی اجزاء ایسے بھی ہیں جو ان کے خلاف صحت بخش کردار ادا کرتے ہیں۔ سردرد کے آرام میں مدد دیتے ہیں اس لیے اس چیز کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی غذا کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور بنیادوں پر تیار کریں۔ اس طرح مختلف قسم کے سردرد کے علاج میں ہم ان وٹامنز کو بھی شامل کرسکتے ہیں۔
جسمانی ورزش:صحت مند زندگی کیلئے ورزش کی کتنی اہمیت ہے اس کا تو آپ کو اندازہ ہوگا ہی‘ ورزش نہ صرف پورے جسمانی نظام کو درست رکھنے میں اہم کردارا ادا کرتی ہے بلکہ ذہنی طور پر استحکام بخشتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سر کے درد سے پیدا ہونے والے ذہنی تناؤ اور کھنچاؤ سے تکلیف ہوتی ہے‘ ورزش اس سے بحسن و خوبی نجات دلاتی ہے۔ اس لیے جتنا ممکن ہوہلکی پھلکی ورزش کو روزانہ کے امورمیں شامل کریں۔
ذہنی سکون کے طریقے:فکریں اور پریشانیاں بھی سردرد پیدا کرتی ہیں۔ ان کے تدارک کیلئے یوگا کے طرز پر ہونے والی ذہنی سکون حاصل کرنے کی ورزشیں بہت مفید ہیں۔ ایک مفید ورزش لمبا سانس اور گہرا سانس لینے کا عمل ہے۔ اس سے ذہن اور جسم کا تناؤ دور ہوجاتا ہے اور آپ ایک بار پھر خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگتے ہیں۔آپ بھی درد سر سے نجات چاہتے ہیں تو دئیے گئے طریقہ کار کی مدد سے زندگی کو ذہنی اور جسمانی دونوں طرح سے خوشگوار بناسکتے ہیں۔ سردرد دور کرنے کیلئے ان باتوں پر عمل کیا جائے تو پیسہ ضائع کیے بغیر اس تکلیف سے بچا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ دواؤں سے علاج سردرد کیلئے کبھی بھی حتمی علاج نہیں رہا۔ اسے وقتی طور پر دبایا تو جاسکتا ہے مگر یہ مسئلے کا درست حل نہیں۔

گرمی و حبس کے موسم میں صحت مند رہنے کے بنیادی اصول


گرمی و حبس کے موسم میں صحت مند رہنے کے بنیادی اصول

تیز دھوپ سے بچیں: گرمیوں کے موسم میں تیز دھوپ میں بغیر کسی احتیاطی تدبیر کے باہر نکلنا انتہائی خطرناک ہوسکتا ہے۔ تیز دھوپ میں ہوا بھی کافی گرم ہو کر لُو کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اس کے علاوہ دھوپ کا اپنا درجہ حرارت بھی کافی زیادہ ہوتا ہے اور اس کی زد میں آنے والی تمام اشیا حتیٰ کہ زمین بھی تپ جاتی ہے۔ ایسے میں ننگے سر اور کھلا بدن لے کر باہر نکلنے سے جسم کی اندرونی گرمی باہر نکل نہیں پاتی‘ الٹا باہر کی گرمی جسم کے اندر داخل ہونا شروع ہوجاتی ہے۔ دماغ کو گرمی لگنے سے اس میں موجود مخصوص نظام جو عام طور پر جسم کا درجہ حرارت بڑھنے نہیں دیتا ناکارہ ہوجاتا ہے‘ یوں جسم کا درجہ حرارت ماحول کے مطابق بڑھنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے شدید گرمی میں ٹوپی یا کپڑا لے کر باہر نکلنا حتی الامکان دھوپ سے ہٹ کر چلنا اور پانی پیتے رہنا وغیرہ جیسی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔
پانی اور مشروبات زیادہ استعمال کریں:گرمی اور اگست کے حبس میں جسم کا درجہ حرارت قابو میں رکھنے کیلئے ہماری جلد مستقل طور پر گیلی رہتی ہے۔ یہ پسینے کی وجہ سے ہوتا ہے جس کے ساتھ جسم کی گرمی بھی خارج ہوتی رہتی ہے۔ یوں ہمارے جسم کا درجہ حرارت تو ایک جگہ قائم رہتا ہے لیکن جسم میں نمکیات کی کمی واقع ہوتی رہتی ہے۔اس کمی کو پورا کرنے کیلئے ہمیں پیاس لگتی ہے اور ہم کبھی کم اور کبھی زیادہ پانی پی لیتے ہیں لیکن نمکیات کو عموماً بھول جاتے ہیں۔ اس موسم میں ہمیں زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے اور درمیان میں ایسے مشروبات جن میں نمک اور کچھ چینی (مثلاً لسی‘ سکنج بین‘ شربت وغیرہ) شامل ہوں وہ بھی ضرور استعمال کرنے چاہئیں۔ نمک استعمال کرنے سے ضائع شدہ نمک جسم میں واپس آتا رہتا ہے اور کمزوری کا احساس نہیں ہوتا جس کی شکایت اس بات کا اہتمام نہ کرنے والوں میں زیادہ دیکھنے میں آتی ہے۔
پھل اور سبزیاں زیادہ کھائیں:پھل اور سبزیاں ویسے تو ہر موسم میں ہی زیادہ سے زیادہ استعمال کرنی چاہئیں لیکن گرمیوں میں تو اس امر کا اہتمام بہت ضروری ہے۔ ہمارا جسم 80 فیصد سے زیادہ پانی پر مشتمل ہے اور قدرتی طورپر پائی جانے والی غذاؤں میں یہ دونوں چیزیں عموماً اتنا ہی پانی اپنے اندر رکھتی ہیں۔ اس طرح پانی بہت زیادہ نہ پینے کی صورت میں بھی پانی کی تقریباً مطلوبہ مقدار ہمارے جسم کے اندر چلی جاتی ہے۔ اس موسم میں اپنے اندر پانی کی خاصی مقدار رکھنے والی سبزیاں مثلاً کدو‘ ٹینڈے‘ کھیرا‘ ککڑی‘ حلوہ کدو اور پھلوں میں تربوز‘ خربوزہ‘ گرما‘ آلو بخارا‘ آڑو اور انگور وغیرہ موجود ہوتے ہیں‘ ان کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنا چاہیے اور سہولت کے مطابق تازہ پانی سے نہانے کا ضرور اہتمام کریں۔
اگست اور بیماریاں:قے‘ پیٹ میں درد‘ پاخانے اور پھوڑے پھنسیاں وغیرہ اس موسم کی عام شکایات ہیں۔ یہ تمام بیماریاں جراثیم سے ہونے والی ہیں اور آلودہ پانی‘ مکھیوں اور صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے سے ہوتی ہیں۔ گرمی کے موسم میں پانی کے جراثیم سے پاک ہونے کا خاص خیال رکھنا چاہیے ‘ پانی ابال کر استعمال کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ صفائی کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ کھانے پینے کی چیزوں کو مکھیوں سے بچانا‘ غلاظت کو فوراً دھو ڈالنا اور بازار سے کھانے پینے کی اشیاء نہ کھانا جیسی احتیاطی تدابیر بھی ضرور کرنی چاہئیں۔ ایک عام خیال یہ ہے کہ یرقان گرمی کی بیماری ہے کیونکہ اس میں جگر کی گرمی ہوجاتی ہے۔ یہ دونوں مفروضے غلط ہیں۔ یرقان عام طور پر جراثیم (وائرس) سے ہوتا ہے اور اس میں جگر میں گرمی نہیں بلکہ وائرس کی وجہ سے سوزش ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بیماری سردیوں میں بھی اتنی ہی دیکھنے میں آتی ہے جتنی کہ گرمیوں میں۔
پانی کی کمی یا ڈی ہائیڈریشن:    ایک مرتبہ کا پسینہ صرف پانی کی کمی کا باعث بنتا ہے لیکن اگر بار بار پسینہ آئے جیسا کہ گرمیوں کے موسم میں ہوتا ہے تو پانی کے ساتھ ساتھ جسم سے نمکیات خاص طور پر سوڈیم کی بھی کمی واقع ہوجاتی ہے اور قدرے کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔ اگر اس طرف توجہ نہ دی جائے تو مسئلہ بڑھ جاتا ہے یہاں تک کہ مسلسل ڈی ہائیڈریشن سے غنودگی یا نیم بے ہوشی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔ گرمی کے موسم میں پانی زیادہ پینا چاہیے لیکن صرف پانی تمام کمی کو پورا نہیں کرتا اس لیے نمکیات کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔