1 Aug 2013 | By:

درِ نبی پر پڑا رہوں گا پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا

درِ نبی پر پڑا رہوں گا پڑے ہی رہنے سے کام ہوگا

کبھی تو قسمت کھلے گی میری کبھی تو میرا سلام ہوگا

خلافِ معشوق کچھ ہوا ہے نہ کوئی عاشق سے کام ہوگا
خدا بھی ہو گا اُدھر ہی اے دِل جدھر وہ عالی مقام ہوگا

کیے ہی جاؤں گا عرضِ مطلب,ملے گا جب تک نہ دل کا مطلب
نہ شامِ مطلب کی صبح ہوگی نہ یہ فسانہ تمام ہو گا

جو دل سے ہے مائلِ پیمبر یہ اُس کی پہچان ہےمقرر
کہ ہر دم اُس بے نوا کے لب پر درود ہو گا سلام ہو گا

اِسی توقع پہ جی رہا ہوں یہی تمنا جِلا رہی ہے
نگاہِ لطف و کرم نہ ہوگی تو مجھ کو جینا حرام ہو گا


صدقہ (جاریہ) کے چند چھوٹے چھوٹے طریقے:


صدقہ (جاریہ) کے چند چھوٹے چھوٹے طریقے:
01: اپنے کمرے کی کھڑکی میں یا چھت پر پرندوں کیلیئے پانی یا دانہ رکھیئے۔
02: اپنی مسجد میں کچھ کرسیاں رکھ دیجیئے جس پر لوگ بیٹھ کر نماز پڑھیں۔
03: سردیوں میں جرابیں/مفلر/ٹوپی گلی کے جمعدار یا ملازم کو تحفہ کر دیجیئے۔
04: گرمی میں سڑک پر کام کرنے والوں کو پانی لیکر دیدیجیئے۔
05: اپنی مسجد یا کسی اجتماع میں پانی پلانے کا انتظام کیجیئے۔
06: ایک قرآن مجید لیکر کسی کو دیدیجیئے یا مسجد میں رکھیئے۔
07: کسی معذور کو پہیوں والی کرسی لے دیجیئے۔
08: باقی کی ریزگاری ملازم کو واپس کر دیجیئے۔
09: اپنی پانی کی بوتل کا بچا پانی کسی پودے کو لگایئے۔
10: کسی غم زدہ کیلئے مسرت کا سبب بنیئے۔
11: لوگوں سے مسکرا کر پیش آئیے اور اچھی بات کیجیئے۔
12: کھانے پارسل کراتے ہوئے ایک زیادہ لے لیجیئے کسی کو صدقہ کرنے کیلئے۔
13: ہوٹل میں بچا کھانا پیک کرا کر باہر بیٹھے کسی مسکین کو دیجیئے۔
14: گلی محلے کے مریض کی عیادت کو جانا اپنے آپ پر لازم کر لیجیئے۔
15: ہسپتال جائیں تو ساتھ والے مریض کیلئے بھی کچھ لیکر جائیں۔
16: حیثیت ہے تو مناسب جگہ پر پانی کا کولر لگوائیں۔
17: حیثیت ہے تو سایہ دار جگہ یا درخت کا انتظام کرا دیجیئے۔
18: آنلائن اکاؤنٹ ہے تو کچھ پیسے رفاحی اکاؤنٹ میں بھی ڈالیئے۔
19: زندوں پر خرچ کیجیئے مردوں کے ایصال ثواب کیلئے۔
20: اپنے محلے کی مسجد کے کولر کا فلٹر تبدیل کرا دیجیئے۔
21: گلی اندھیری ہے تو ایک بلب روشن رکھ چھوڑیئے۔
22: مسجد کی ٹوپیاں گھر لا کر دھو کر واپس رکھ آئیے۔
23: مسجدوں کے گندے حمام سو دو سو دیکر کسی سے دھلوا دیجیئے۔
24: گھریلو ملازمین سے شفقت کیجیئے، ان کے تن اور سر ڈھانپیئے۔

Prayer for Spouses

یادوں کی رنگیں تصویریں اور اندھیرے آنکھوں میں
کھوئے خواب جہاں ڈھونڈیں ہم ایسی کوئی پناہ نہیں

موت کی نشانیاں

اللہ تعالی کے نام

ﮨﯿﺜﻢ ﺑﻦ ﻋﺪﯼ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﺎ ﺑﯿﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﮟ

Gk--1


-- بندرجگنو کے قریب نہیں جاتے کیونکہ وہ انہیں آگ کا شعلہ سمجھتے ہیں۔

-- کتے کوجسم کی بجائے زبان پرپسینہ آتاہے۔ کتے کو گھی ہضم نہیں ہوتا۔

-- ہاتھی اور گھوڑا کھڑے کھڑے سوجاتے ہیں۔

-- مچھلی کی آنکھیں اس لیے کھلی رہتی ہیں کیونکہ اس کے پپوٹے نہیں ہوتے۔

-- کیکڑے کے دانت پیٹ میں ہوتے ہیں۔

-- کچوے میں پھیپھڑے نہیں ہوتے یہ جلد کے ذریعے سانس لیتاہے۔

-- ڈولفن میں آواز سننے کی حس کتے سے تین گنا اور انسان سے پانچ گنازیادہ ہوتی ہے۔

-- ڈولفن آواز سننے کے لیے اپنے جبڑے استعمال کرتی ہے۔

-- برفانی چیتا اتناطاقتور ہوتاہے کہ اپنے وزن سے تین گنا زیادہ اٹھاسکتاہے۔

-- ایک چھوٹے پرندے کی نبض کی رفتاتقریباً500 دفعہ فی منٹ ہے۔

-- ہمارے جسم چھوٹی بڑی تقریباً 206 ہڈیاں ہیں۔

-- ایک صحت مند انسان کی نبض کی رفتارتقریباً 70 دفعہ فی منٹ ہے

سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کے مصاحبین نے انہیں یہ شکایت لگائی کہ بادشاہ سلامت ایاز کی ایک الماری

سلطان محمود غزنوی رحمتہ اللہ علیہ کے مصاحبین نے انہیں یہ شکایت لگائی کہ بادشاہ سلامت ایاز کی ایک الماری ہے یہ اس الماری کو تالا لگا کر رکھتا ہے وہ روزانہ اس الماری کو کھول کر دیکھتا ہے اور کسی دوسرے بندے کو دیکھنے نہیں دیتا ہمارا خیال ہے کہ اس نے آپ کے خزانے کے قیمتی ہیرے اور موتی اس کے اندر چھپا کر رکھے ہوئے ہیں آپ ذرا اس کی تلاشی لیجیے جب بادشاہ کو یہ شکایت لگائی گئی تو بادشاہ سلامت نے اسی وقت ایاز کو بلوایا اور کہا ایاز کیا تمہاری الماری ہے اس نے کہا جی ہے پوچھا کیا اسے تالا لگا کر رکھتے ہو اس نے کہا جی ہاں پوچھا کسی اور کو دیکھنے دیتے ہو عرض کیا جی نہیں پھر پوچھا کیا تم خود اسے روزانہ دیکھتے ہو عرض کیا جی ہاں پھر بادشاہ نے فرمایا کہ چابی لاؤ ایاز نے چابی دے دی بادشاہ نے کسی بندے کو بھیجا کہ جاؤ اس الماری میں جو کچھ موجود ہے وہ لا کر یہاں سب کے سامنے پیش کر دو وہ حاسدین بڑے خوش ہوئے کہ دیکھو اب اس کی حقیقت کھل جائے گی جب اس کی چوری کا سامان سامنے آئے گا تو بادشاہ ابھی اس کو یہاں سے دھکے دے کر نکال دے گا اللہ کی شان کہ جب وہ بندہ واپس آیا تو اس نے آکر بادشاہ کے سامنے تین چیزیں رکھ دیں ایک پرانا جوتا اور پرانا تہبند اور ایک پرانا کرتا بادشاہ نے پوچھا اس میں کچھ اور نہیں تھا اس نے کہا جی نہیں یہی کچھ تھا بادشاہ نے کہا ایاز اس میں تو کوئی ایسی قیمتی چیز نہیں ہے جسے تم تالے میں بند کر کے رکھو اور کسی دوسرے کو دیکھنے بھی نہ دو اور کوئی ایسی چیز بھی نہیں کہ جسے تم روزانہ آکر دیکھو کرو کہ ٹھیک ہے یا نہیں اس نے کہا بادشاہ سلامت بات یہ ہے کہ میرے نزدیک یہ بہت قیمتی ہیں بادشاہ نے پوچھا بھئی وہ کیسے اس نے کہا بادشاہ سلامت وہ اس لیے کہ جب میں آپ کے دربار میں پہلی مرتبہ آیا تھا تو یہ جوتے پہنے ہوئے تھے یہ تہبند باندھا ہوا تھا اور کرتا پہنا ہوا تھا میں نے ان تینوں چیزوں کو محفوظ کر لیا تھا اب میں روزانہ الماری کھول کر ان کو دیکھتا ہوں اور اپنے نفس کو سمجھاتا ہوں کہ ایاز تمہاری اوقات یہی تھی تم اپنی نہ بھولنا اب تمہیں جو کچھ ملا ہے یہ سب تمہاری بادشاہ کا تم پر احسان ہے لہٰزا تم اپنے بادشاہ سلامت کا احسان سامنے رکھنا بادشاہ سلامت اس طرح مجھے اپنی اوقات یاد رہتی ہے کہ میں کیا تھا اور مجھے بادشاہ کے قرب نے کیا کیا عزتیں بخشیں

لا حول ولا قوۃ الا باللہ… فضائل