2 May 2013 | By:

بھائی تم جس اخبار میں لکھتے ہو

ایک صحافی دوسرے سے کہہ رہا تھا:

”فلاں صحافی بک گیا، فلاں نے اتنی رقم لے کر اپنا قلم بیچ دیا، اس نے صحافت کے مقدس پیشے کو بدنام کیا ہے۔ غرض ہر صحافی اور ادیب بک گیا، لیکن میں آج تک نہیں بکا۔“

دوسرے نے یہ ساری بات سن کر کہا:

”بھائی تم جس اخبار میں لکھتے ہو، وہ اخبار کبھی فروخت نہیں ہوا، پھر تم کیسے فروخت ہوسکتے ہو۔“ ◔̯◔

0 comments:

Post a Comment