تنہا رات چاند ستارے اور میں
کچھ یادیں کچھ خط تمہارے اور میں
ہر پل تیری راہ کو تکتے رہتے ہیں
باغ ، گلاب ، پنچھی سارے اور میں
...
آج بھی تم کو بھول نہ پائے ہم سب تو
کھیت ، ہوائیں ، نہر کنارے اور میں
وہ پل مجھ کو کتنا یار رلاتے ہیں
گلی میں چھت پر نین اشارے اور میں
تیری ذات کو ہر پل کھوجتے رہتے ہیں
پیاسی آنکھیں منظر سارے اور میں
عشق میں جس نے نام کمایا کچھ نہ پا کر
پنوں ، فرہاد ، مجنوں بیچارے اور میں
جانے کیوں یہ ہر دم لڑتے رہتے ہیں
ترے ہونٹ ، گال ، نین کجرارے اور میں
کچھ یادیں کچھ خط تمہارے اور میں
ہر پل تیری راہ کو تکتے رہتے ہیں
باغ ، گلاب ، پنچھی سارے اور میں
...
آج بھی تم کو بھول نہ پائے ہم سب تو
کھیت ، ہوائیں ، نہر کنارے اور میں
وہ پل مجھ کو کتنا یار رلاتے ہیں
گلی میں چھت پر نین اشارے اور میں
تیری ذات کو ہر پل کھوجتے رہتے ہیں
پیاسی آنکھیں منظر سارے اور میں
عشق میں جس نے نام کمایا کچھ نہ پا کر
پنوں ، فرہاد ، مجنوں بیچارے اور میں
جانے کیوں یہ ہر دم لڑتے رہتے ہیں
ترے ہونٹ ، گال ، نین کجرارے اور میں
0 comments:
Post a Comment