21 Aug 2017 | By:

*🌻حج اور عشرة ذوالحجہ*



*🌻حج اور عشرة ذوالحجہ*

*🌷ذوالحجہ کا پہلا عشره* نیکیوں اور اجرو ثواب کے اعتبار سے عام دنوں کے مقابلے میں بہت اہم ہے، جس کی فضیلت قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے۔
قرآن مجید میں الله سبحانه و تعالیٰ نے ان *دس دن کی قسم* کھائی ہے۔

🌷وَالْفَجْرِ وَ لَیَالٍ عَشْرٍ o (الفجر: 2-1)
"قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی"

*اکثر مفسرین کے نزدیک ’’ لَیَالٍ عَشْرٍ ‘‘ سے مراد ذوالحجہ کی ابتدائی دس راتیں ہیں*۔

ان دس دنوں میں کئے جانے والے اعمال الله تعالیٰ کو دیگر دنوں کی نسبت زیاده محبوب ہیں۔

🌷رسول الله ﷺ نے فرمایا:

*"کسی بھی دن کیا ہوا عمل الله تعالیٰ کو ان دس دنوں میں کئے ہوئے عمل سے زیاده محبوب نہیں ہے*، انہوں(صحابہ ؓ) نے پوچھا:
اے الله کے رسول ﷺ، جہاد فی سبیل الله بھی نہیں،
آپ ﷺ نے فرمایا:
*"جہاد فی سبیل الله بھی نہیں ہاں مگر وه شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلے اور کچھ واپس لے کر نہ آئے*۔" (سنن ابوداؤد)

🌷عبدالله ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

*"کوئی دن الله تعالیٰ کے ہاں ان دس دنوں سے زیاده عظمت والا نہیں اور نہ ہی کسی دن کا عمل الله تعالیٰ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیاده محبوب* ہے.

پس تم ان *دس دنوں میں کثرت سے تہلیل (لا الہ الا الله)، تکبیر (الله اکبر) اور تحمید (الحمد لله) کہو۔"* (مسند احمد)

🌷عشرة ذوالحجہ اہل ایمان کے لئے نیکیاں کرنے اور اجرو ثواب حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے. حج و قربانى کے علاوه ديگر نيک اعمال کا اہتمام کرنا خاص اجر حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔

🌷امام بخاری ؒ نے بیان کیا ہے که

"ان دس دنوں میں *ابن عمرؓ اور ابوہریره ؓ تکبیر پکارتے ہوئے بازار ميں نکل جاتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیرات* کہنا شروع کر دیتے" (صحیح بخاری)

🌷صحابہ کرامؓ سے مختلف تکبیریں پڑھنا ثابت ہے مثلاً:

🌹 *اَللّٰهُ اَکْبَر اَللّٰهُ اَکْبَر، لَا اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ وَاللّٰهُ اَکْبَر، اَللهُ اَكْبَرْ وَِللهِ الْحمْدُ*

🌹 *اَللّٰهُ اَکْبَرکَبِیْرًا وَالْحَمْدُ ِلِلهِ کَثِیْرًا وَ سُبْحَانَ اللهِ بُکْرَةً وَّاَصِیْلاً* 
(صحیح مسلم)

🌷ان دنوں میں سے *نواں دن عرفہ کا* ہے۔ یہ وه عظیم دن ہے جس کے بارے رسول الله ﷺ نے ارشاد فرمایا:
*"کوئی دن ایسا نہیں ہے کہ اس میں الله تعالیٰ عرفات کے دن سے زیاده لوگوں کو جہنم سے آزاد کرتا ہو۔"* (صحیح مسلم)

🌹 *🌷نو ذوالحجہ کو روزه رکھنا باعث ثواب ہے ۔* 🍃🌟
رسول الله ﷺ سے یوم عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:

یُُکََفِّرُ السَّنَۃَ الْمَاضِیَۃَ وَالبَاقِیَۃَ (صحیح مسلم)

🌹 *"گذشتہ سال اور آئنده سال کے گناہوں کا کفاره ہے*

🌷ایک اور روایت سے پتہ چلتا ہے کہ *’’رسول الله ﷺ نو ذوالحجہ، یوم عاشورا اور ہر ماه میں سے تین دن، روزه رکھتے تھے*۔ (سنن ابو داؤد)

نوٹ : حاجی میدان عرفات میں یہ روزه نہیں رکھيں گے

*🌷اس عشرة کا آخری اور دسواں دن یوم النحر* یعنی قربانی کا دن ہے جس کے بارے میں رسول الله ﷺ نے فرمایا:

الله تعالیٰ کے نزدیک سب سے فضیلت والے دن یوم النحر (قربانی کا دن) اور یوم القرّ (گیاره ذوالحجہ، قیام منیٰ) ہیں۔ (مسند احمد)

معاف نہ کرنے کے نقصانات


معاف نہ کرنے کے نقصانات
"""""! جگالی !"""""
یہ وہ چیز ھے جو حلال جانور کرتے ھیں ! چونکہ ان کا معدہ ملٹی اسٹیجز ھوتا ھے،یعنی کھانا مرحلہ وار ھضم ھوتا ھے ! وہ ایک ھی دفعہ کھا لیتے ھیں پھر بار بار اس کو واپس لا کر چباتے اور مکس کرتے رھتے ھیں ،، جگالی جانور کی صحت کی علامت ھوتی ھے۔۔ ڈاکٹر سب سے پہلے یہی سوال کرتا ھے کہ جانور " جگــَالۜی " کرتا ھے؟ اگر جگـالی نہ کرے تو جانور بیمار سمجھا جاتا ھے۔۔
البتہ انسان کے دانت چونکہ اوپر نیچے کے ھوتے ھیں اور معدہ بھی ایک ھی ھوتا ھے لہذا انسان اگر جگالی کرے تو یہ اس کے بیمار ھونے کی علامت ھے۔۔ انسان کو اللہ پاک اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار جگالی کرنے سے منع فرمایا ھے اور جگالی کرنے کے نقصانات بیان کیے ھیں، جگالی نہ کرنے کے بےشمار فائدے بیان کیئے ھیں !
انسان نفسیاتی جگالی کرتا ھے ! یعنی وہ دوسروں کی کی گئی ساری زیادتیاں اپنی ھارڈ ڈسک پہ محفوظ رکھتا ھے اور انہیں بار بار ریفریش کرتا رھتا ھے ! جنہیں وہ بظاھر حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر معاف کر چکا ہوتا ھے۔۔ یقین کریں وہ ری سائیکل بِن کبھی بھی empty نہیں کرتا بلکہ انہیں حسبِ ضرورت restore کرتا رھتا ھے !جب ھم کمپیوٹر آن کرتے ھیں اور سیٹنگز لوڈ ھوتی ھیں تو ری سائیکل بن میں پڑا گند بلا بھی اسے لوڈ کرنا پڑتا ھے جس کی وجہ سے کمپیوٹر کے پراسیسر پر ایکسٹرا لوڈ پڑتا ھے۔۔ اسی طرح زیادتیاں معاف نہ کرنے والوں کے اندر ھر وقت "گھوں گھوں گھوں" چلتی رھتی ھے اور یہی بیماریوں کی فیکٹری ھے۔۔ ھر بیماری یہیں سے پیدا ھوتی اور پھر بڑھتی ھے ! جب اللہ کی خاطر کسی کو معاف کر دیا جائے تو پھر کم از کم اللہ سے شرم کرتے ھوئے اسے دوبارہ ریسٹور نہیں کرنا چاھئے ! یہ تو کتے کی طرح قے کر کے چاٹنے والی بات ھے ! اور اپنے اندر آگ کا انگارہ رکھنے والی بات ھے !
انسان دنیا میں امتحان کے لئے بھیجا گیا ھے اور امتحانوں میں سب سے پہلا اور سب سے سخت امتحان رشتے دار ھیں جو گھر میں پیدا ھوتے ھیں۔۔ الاقرب فالاقرب کے اصول کے تحت جو جتنا قریبی ھوتا ھے وہ اُتنا ھی سخت ڈنگ مارتا ھے کیونکہ "الاقارِبُ کالعقارب" رشتے دار بچھوؤں کی مانند ھوتے ھیں ! رشتے داروں کے ڈنگ کے زھر کو رگوں میں لیے پھرنا ایک نقصان دہ عمل ھے۔۔ سب سے پہلی فرصت میں اسے نکال باھر کرنا چاھئے ! اس سے آپ کی دنیاوی صحت بھی ٹھیک رھتی ھے اور آخرت کی منزل بھی آسان ھو جاتی ھے اور بوقتِ موت جان بھی آسانی سے نکلتی ھے۔۔ ڈیٹا کم ھوتا ھے تو شٹ ڈاؤن جلدی ھو جاتا ھے ورنہ فرشتوں کو پروگرام بند کرتے کرتے کافی دن لگ جاتے ھیں !
ھم اللہ پاک سے معافیاں مانگتے ھیں اور معافی کی امید رکھتے ھیں مگر یقین جانیں اللہ بھی معاف کرنے والے کو معاف کرتا ھے۔۔ جو لوگ ایک دوسرے کو معاف نہیں کرتے اللہ بھی انہیں معاف نہیں کرتا۔۔ عام تو عام خاص موقعوں پر بھی اللہ پاک فرشتوں کو کہتا ھے کہ ان کا کیس ایک طرف رکھ دو جب تک یہ ایک دوسرے کو معاف نہ کر دیں۔۔ اس میں سوموار، جمعرات، نصف شعبان اور لیلۃ القدر کے مواقع ایسے ھیں جن کا ذکر احادیث میں آیا ھے کہ اللہ پاک سب کی مغفرت فرما دیتے ھیں مگر "شحن" والوں کی فائل ایک طرف رکھ دیتے ھیں۔۔ "شحن" چارج کو کہتے ھیں۔۔ جو ھر وقت چارج رھتے ھیں وھی بلڈ پریشر کا زیادہ شکار ھوتے ھیں یہاں تک کہ ان کے خواب بھی ھمیشہ ڈراؤنے اور نقصانات والے ھوتے ھیں۔۔ ایک خاتون نے، جن کے بچے بھی پروفیسر ھیں، مجھے کہا کہ وہ رات بھر سو نہیں سکتی کیونکہ انہیں بہت ڈراؤنے خواب آتے ھیں ! جن میں ان کی ساس مرکزی کردار ھوتی ھیں۔۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ ساس کو معاف کر دیں اللہ پاک آپ کے لئے آسانی پیدا کرے گا۔۔ وہ فوت ھو گئی ھیں آپ بھی ان کا لاشہ اپنے اندر سے نکال کر دفن کر دیں وھی مردہ آپ کو تنگ کر رھا ھے۔۔ فرمانے لگیں کہ انہوں نے میرے ساتھ بہت زیادتیاں کی ھیں معاف تو میں ان کو کسی صورت نہیں کروں گی۔۔ میں نے کہا پھر یہ خواب بھی ختم نہیں ھونگے۔۔ یہ عذاب باھر نہیں آپ کے اندر ھے اور بدبو باھر سے نہیں آپ کے اندر سے آتی ھے،کیونکہ مردہ آپ نے تہہ خانے میں رکھا ھوا ھے !
دو واقعات کے ساتھ بات کو ختم کروں گا.
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے زمین پر چلتا پھرتا جنتی دیکھنا ھے وہ اس شخص کو دیکھ لے جو ابھی آ رھا ھے۔۔ سب کی نظریں مسجدِ نبوی کے دروازے پر لگ گئیں۔۔ ایک صاحب داخل ھوئے وضو کا پانی ان کی داڑھی کے بالوں سے ٹپک رھا تھا اور جوتے انہوں نے ھاتھوں میں پکڑے ھوئے تھے ! دوسرے دن بھی یہی مکالمہ ھوا اور وھی داخل ھوئے۔۔ تیسرے دن بھی یہی مکالمہ ھوا اور وھی داخل ھوئے۔۔ جس پر حضرت عبداللہؓ کو تجسس ھوا کہ یہ بندہ کرتا کیا ھے کہ اللہ کے رسول ﷺ مسلسل تین دن سے اس کے جنتی ھونے کی بشارت دے رھے ھیں۔۔ وہ اس بندے کے پیچھے لگ گئے اور اس سے کہا کہ چچا میرے گھر والوں سے کچھ معاملات ھو گئے ھیں آپ مجھے کچھ دن اپنے گھر رکھ لیں۔۔ تین رات وہ مسلسل اس کے گھر رھے اور رات بھر جاگتے رھے کہ یہ بندہ کون سی خاص عبادت کرتا ھے ؟ اس نے کوئی خاص عبادت نہیں کی، بس عشاء کی نماز پڑھی اور سو گیا۔۔ رات کو جب کبھی کروٹ بدلتا تو سبحان اللہ کہہ دیتا اور بس۔۔ صبح اٹھ کر فجر پڑھ لیتا۔۔ عبداللہؓ فرماتے ھیں کہ جب اس کے عمل کی حقارت میرے دل میں آنے لگی تو میں نے اس کو اصل بات بتا دی کہ تین دن حضورﷺ بشارت دیتے رھے اور تینوں دن آپ مسجد میں داخل ھوتے رھے، جس کی وجہ سے میں آپ کا عمل دیکھنا چاھتا تھا۔۔ اس بندے نے کہا کہ بھتیجے عمل تو میرے پاس وھی ھے جو تم نے دیکھ لیا ھے۔۔ میں جب واپس جانے کو پلٹا تو اس نے آواز دے کر بلایا اور کہا کہ ایک بات ھے "میں رات کو سینہ صاف کر کے سوتا ھوں، کسی کے بارے میں میرے دل میں کوئی رنجش نہیں ھوتی ! جب اس بات کا تذکرہ نبی کریمﷺ کے سامنے کیا گیا تو آپ نے فرمایا "یہ میری سنت ھے تم میں سے جس سے بھی ھو سکے رات کو سونے سے پہلے سینہ صاف کر کے سوئے ! اس کا مطلب یہ نہیں کہ صبح پھر restore کر لے !! رات گئی بات گئی، اصل میں اس کے لیے کہا گیا تھا !
دوسرا واقعہ آخرت کے بارے میں ھے۔۔ حدیث قدسی کے مطابق اللہ پاک ایک شخص کو اپنے قریب کرتے کرتے اتنے قریب کر لیں گے کہ اس کے شانے پہ اپنا دستِ مبارک ٹیک لیں گے اور اسے اس کے گناہ یاد کرائیں گے وہ ان سب کو تسلیم کرے گا۔۔ پھر اللہ پاک اسے کہیں گے کہ میں نے یہ سب معاف کیے اور جانتے ھو کہ کیوں معاف کیے ھیں؟ وہ کہے گا کہ اے اللہ میں نہیں جانتا کہ تو نے میرے یہ گناہ کیوں معاف کر دیے جبکہ تو نے ابھی ابھی تو انہیں گنوایا ھے۔۔ اللہ پاک فرمائیں گے "اس لیے کہ تو بھی تو لوگوں کو معاف کر دیتا تھا، پھر معاف کرنے میں تو مجھ سے آگے تو نہیں نکل سکتا، میں سب سے بڑا معاف کرنے والا ھوں !
اس لیے اٹھتے بیٹھتے، کھڑے، لیٹے دوسروں کی زیادتیوں کی جگالی نہ کیا کریں۔ جب معاف کیا کریں تو معاف کیا کریں فراڈ نہ کیا کریں۔۔... 
ذرا سوچیئے گا ضرور ..............................


copied
11 Aug 2017 | By:

شکست کھانا بُری بات نہیں ، شکست کھا کر ہار مان جانا بُری بات ہے ۔

شکست کھانا بُری بات نہیں ، شکست کھا کر ہار مان جانا بُری بات ہے ۔
اچھی کتابیں بہترین دوست ہیں ۔ سچائی کا مقابلہ دنیا کی کوئی طاقت نہیں کر سکتی ۔
حکمت و دانائی مفلس کو بادشا بناہ دیتی ہے ۔
دو چیزیں جنت میں لے جانے والی ہیں خوفِ خدا اور خوش خلقی ۔
غصہ ہمیشہ تنہا آتا ہے مگر جاتے ہوئے عقل اخلاق اور شخصیت کی خوبصورتی کو لے جاتا ہے ۔

ہاتھوں کی خوبصورتی کے لئے اپنے ہاتھوں سے صدقہ دیں۔

ہاتھوں کی خوبصورتی کے لئے اپنے ہاتھوں سے صدقہ دیں۔آواز کی خوبصورتی کے لئے قران پاک کی تلاوت کریں ۔آنکھوں کی خوبصورتی کے لئےاللہ کے خوف سے آنسو بہائیں۔چہرے کی خوبصورتی کے لئے وضو کی عادت ڈالیں ۔دل کی خوبصورتی کے لئے اپنے دل میں اللّٰہ کی یاد بسائیں ۔دماغ کی خوبصورتی کے لئے اللّٰہ کی بارگاہ میں سجدہ کریں۔

10 Aug 2017 | By:

احباب۔۔۔!


احباب۔۔۔!
آپ منہ میں روٹی کا ایک لقمہ رکھ کے تین دن گھومتے رہیں وہ آپ کی نشو نما کا باعث نہیں بن سکے گا - جب تک کہ وہ آپ کے معدے میں نہ اتر جائے ، اور معدے میں اتر کر آپ کے خون کا حصہ نہ بن جائے اور پھر آپ کو تقویت عطا ہوتی ہے - میں آپ اور ہم سب منہ کے اندر رہے علم کو ایک دوسرے کے اوپر اگلتے رہتے ہیں ،اور پھینکتے رہتے ہیں - اور پھر اس بات کی توقع کرتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ہم کو اس سے خیر کیوں حاصل نہیں ہوتی۔،۔،

از اشفاق احمد زاویہ ٢ عالم اصغر سے عالم اکبر تک۔،۔،

ایک رات میں نے لالٹین سے پوچھا


ایک رات میں نے لالٹین سے پوچھا

کیوں بی! تم کو رات بھر جلنے سے کچھ تکلیف تو نہیں ہوتی؟

بولی: 

آپ کا خطاب کس سے ہے؟
بتی سے ، تیل سے ، ٹین کی ڈبیہ سے ، کانچ کی چمنی سے یا پیتل کے اس تار سے جس کو ہاتھ میں لے کر لالٹین کو لٹکائے پھرتے ہیں۔ میں تو بہت سے اجزاء کا مجموعہ ہوں۔

لالٹین کے اس جواب سے دل پر ایک چوٹ لگی ۔ یہ میری بھول تھی۔ اگر میں اپنے وجود کی لالٹین پر غور کرلیتا تو ٹین اور کانچ کے پنجرے سے یہ سوال نہ کرتا۔
میں حیران ہوگیا کہ اگر لالٹین کے کسی جزو کو لالٹین کہوں تو یہ درست نہ ہوگا اور اگر تمام اجزاء کو ملا کر لالٹین کہوں تب بھی موزوں نہ ٹھہرے گا، کیونکہ لالٹین کا دم روشنی سے ہے۔ روشنی نہ ہو تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ مگر دن کے وقت جب لالٹین روشن نہیں ہوتی ، اس وقت بھی اس کا نام لالٹین ہی رہتا ہے۔ تو پھر کس کو لالٹین کہوں۔ جب میری سمجھ میں کچھ نہ آیا ، تو مجبورا لالٹین ہی سے پوچھا:

میں خاکی انسان نہیں جانتا کہ تیرے کس جزو کو مخاطب کروں اور کس کو لالٹین سمجھوں۔ 

یہ سن کر لالٹین کی روشنی لرزی ، ہلی، کپکپائی۔ 
گویا وہ میری ناآشنائی و نادانی پر بےاختیار کھلکھلا کر ہنسی اور کہا:

"اے نورِ خدا کے چراغ ، آدم زاد ! سن، لالٹین اس روشنی کا نام جو بتی کے سر پر رات بھر آرا چلایا کرتی ہے۔ لالٹین اس شعلے کو کہتے ہیں جس کی خوراک تیل ہے اور جو اپنے دشمن تاریکی سے تمام شب لڑتا بھڑتا رہتا ہے۔ دن کے وقت اگرچہ یہ روشنی موجود نہیں ہوتی لیکن کانچ اور ٹین کا پنجرہ رات بھر ، اس کی ہم نشینی کے سبب لالٹین کہلانے لگتا ہے ۔ 

تیرے اندر بھی ایک روشنی ہے۔ اگر تو اس کی قدر جانے اور اس کو پہچانے تو سب لوگ تجھ کو روشنی کہنے لگیں گے ، خاک کا پتلا کوئی نہیں کہے گا۔"

دیکھو ،خدا کے ولیوں کو جو اپنے پروودگار کی نزدیکی و قربت کی خواہش میں تمام رات کھڑے کھڑے گزار دیتے تھے، تو دن کے وقت ان کو نورِ خدا سے علیحدہ نہیں سمجھا جاتا رہا ، یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی ان کی وہی شان رہتی ہے۔

تو پہلے چمنی صاف کر۔ یعنی لباسِ ظاہری کو گندگی اور نجاست سے آلودہ نہ ہونے دے۔ اس کے بعد ڈبیا میں صاف تیل بھر۔ یعنی حلال کی روزی کھا، اور پھر دوسرے کے گھر کے اندھیرے کے لئے اپنی ہستی کو جلا جلا کر مٹا دے۔ اس وقت تو بھی قندیلِ حقیقت اور فانوسِ ربانی بن جائے گا۔

23 Jul 2017 | By:

کبھی کبھی۔۔۔قدرت۔۔۔قیمتی لوگوں کو۔۔۔جذباتی طور پر۔۔۔قیمتی لوگوں کے لئے۔۔۔تیار کرتی ہے۔۔۔




کبھی کبھی۔۔۔قدرت۔۔۔قیمتی لوگوں کو۔۔۔جذباتی طور پر۔۔۔قیمتی لوگوں کے لئے۔۔۔تیار کرتی ہے۔۔۔
شیکسپیئر۔۔۔اپنے شہرآفاق۔۔۔ڈرامے۔۔۔"رومیو جولیٹ"۔۔۔میں لکھتا کے کہ۔۔۔
رومیو۔۔۔جیولیٹ سے پہلے۔۔۔روزلین نامی لڑکی سے۔۔۔جذباتی طور پر۔۔۔جڑ جاتا ہے۔۔۔جذباتی جڑنے کی شدد ۔۔۔اس قدر شدید ہوتی ہے کہ۔۔۔رومیو رو رو کر۔۔۔اپنا برا حال کر لیتا ہے۔۔۔اسے رات کے دن ہونے تک کا۔۔۔اندازہ نہیں ہوتا۔۔۔(ڈرامےمیں ایک جگہ۔۔۔رومیو کا کزن۔۔۔جب رومیو کو آ کے بتاتا ہے کہ۔۔۔صبح ہو گئی ہے تو۔۔۔رومیو جواب دیتا ہے کہ۔۔۔میرا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا۔۔۔میرے لئے تو۔۔۔تب تک رات ہے۔۔۔اندھیرا ہے۔۔۔جب تک مجھے میرا محبوب نہیں ملتا۔۔۔)۔۔۔
شیکسپیئر۔۔۔رومیو کی جولیٹ سے پہلے۔۔۔روزلین سے محبت کو۔۔۔جسٹیفائی کرنے کے لئے کہتا ہے کہ۔۔۔نیچر(قدرت)۔۔۔رومیو کو جیولیٹ کے لئے۔۔۔تیار کر رہی تھی۔۔۔
بطور ماہر نفسیات۔۔۔میں سمجھتا ہوں کہ۔۔۔شیکسپیئر۔۔۔کی یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ۔۔۔کبھی کبھی لوگ کسی۔۔۔بےقدرے کے لئے۔۔۔تڑپ کر۔۔۔قدر کرنے والے کے لئے۔۔۔جذباتی طور پر۔۔۔تیار ہو رہے ہوتےہیں۔۔۔
جس دن آپ کو یہ بات سمجھ آگئی کہ۔۔۔وہ "بےقدرا" میری قسمت نہیں تھا بلکہ۔۔۔وہ صرف کسی "قدروالے" کی تیاری تھا تو۔۔۔آپ کو سکون آ جائے گا۔۔۔
غور کریں۔۔۔اگرآپ۔۔۔کسی "بےقدرے" سے۔۔۔اس قدر جڑ سکتے ہیں تو۔۔۔کسی قدر کرنے والے کو۔۔۔کس قدر محبت کریں گے۔۔۔
آپ کا ماہر نفسیات۔۔۔


2 Jul 2017 | By:

انسان نہ ہی اپنی عمر سے بڑا ہوتا ہے ، نہ ہی عہدے ، قد ، دولت، نسل یا جنس سے بلکہ انسان اپنی سوچ عمل اور صحیح فیصلے کی اہلیت سے بڑا ہوتا ہے ۔

انسان نہ ہی اپنی عمر سے بڑا ہوتا ہے ، نہ ہی عہدے ، قد ، دولت، نسل یا جنس سے بلکہ انسان اپنی سوچ عمل اور صحیح فیصلے کی اہلیت سے بڑا ہوتا ہے ۔

نرم الفاظ چٹان جیسے سخت دلوں کو نرم کر دیتے ہیں





نرم الفاظ چٹان جیسے سخت دلوں کو نرم کر دیتے ہیں، اور سخت الفاظ ریشم جیسے نرم دلوں کو بھی سخت کردیتے ہیں۔





ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﻟﻮﮒ ﺳﺮ ﺑﻠﻨﺪ ﺍﻭﺭﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺗﮑﺒﺮ ﮐﮯ ﺗﺎﺝ ﻛﻮ ﺩﻭﺭ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ . ﻭﮦ ﻋﺎﺟﺰﯼ ﮐﯽ ﭼﺎﺩﺭ ﺍﻭﮌﮪ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ







مصیبتوں، مشقتوں حتی کے ذمہ داریوں کے نبھانے میں نماز آپکی مددگار ھے، اسکا سہارہ لیں






سخاوت مال میں نہیں ہے، سخاوت دلوں کے حال میں ہے.





آسانیاں تقسیم نہ کی جائیں، تو مشکلیں جمع ہو جاتی ہیں-


ﻣﺴﺠﺪ ﺗﮏ ﺧﻮﺩ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﺁﯾﺎ ﮬﻮﮞ۔

ﮐﮩﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺻﺒﺢ ﺳﻮﯾﺮﮮ ﺍُﭨﮭﺎ، ﺻﺎﻑ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﮬﻮ ﻟﯿﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﻓﺠﺮ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﺎﺟﻤﺎﻋﺖ ﺍﺩﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﻌﺎﺩﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﮮ۔ ...
ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﺍ، ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯿﭽﮍ ﺳﮯ ﺑﮭﺮ ﮔﺌﮯ۔ ﻭﺍﭘﺲ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎ، ﻟﺒﺎﺱ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮﺍ۔ ﭘﮭﺮ ﭨﮭﯿﮏ ﺍُﺳﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭨﮭﻮﮐﺮ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﮔﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﺑﺪﻻ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮﺍ ...
ﺟﺐ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺍُﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﭘﮩﻨﭽﺎ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﭼﺮﺍﻍ ﮬﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻠﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﮩﮧ ﺭﮬﺎ ﮬﮯ۔ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺍُﺳﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﺗﮏ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ..
ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍُﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺑﮭﯽ ﺁ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﮟ، ﻟﯿﮑﻦ ﻭﮦ ﭼﺮﺍﻍ ﮬﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎﻣﮯ ﮐﮭﮍﺍ ﺭﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺩﺍﺧﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮬﻮﺍ۔ ﺩﻭ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ : " ﺁﭖ ﻣﺴﺠﺪ ﺁ ﮐﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮪ ﻟﯿﺘﮯ؟ "
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺮﺩ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ؛ " ﺍِﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻠﯿﺲ ﮬﻮﮞ۔ " ﭘﮩﻠﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻧﮧ ﺭﮬﯽ ﺟﺐ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ۔ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺕ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﯽ ..
" ﯾﮧ ﻣﯿﮟ ﮬﯽ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮﺍﯾﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺁﭖ ﻧﮯ ﮔﮭﺮ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺳﻤﺖ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮬﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﻨﺎﮦ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺌﮯ۔ ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻟﺒﺎﺱ ﭘﮩﻦ ﮐﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺑﺨﺶ ﺩﺋﯿﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﮈﺭ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺍﺏ ﮐﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮔﺮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﭘﮭﺮ ﻟﺒﺎﺱ ﺑﺪﻝ ﮐﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺷﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﻧﮧ ﺑﺨﺶ ﺩﮮ، ﺍِﺳﯽ ﻟﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﺠﺪ ﺗﮏ ﺧﻮﺩ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﮩﻨﭽﺎﻧﮯ ﺁﯾﺎ ﮬﻮﮞ۔ "
( ﺣﮑﺎﯾﺎﺕِ ﻓﺎﺭﺳﯽ ،ﺳﻮﺯِ ﺭﻭﻣﯽ