1 Oct 2017 | By:

''پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا،اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری مت کرنا-''



اس نے دھڑکتے دل سے پڑھنا شروع کیا-
''پس تم مجھے یاد رکھو میں تمہیں یاد رکھوں گا،اور میرا شکر ادا کرو اور میری ناشکری مت کرنا-''
آنسو اس کی رخساروں سے پھسل کر گردن پہ لڑھک رہے تھے، وہ کہنا چاہتی تھی کہ میں نے آپ کو خوشی میں یاد رکھا،آپ مجھے غم میں مت بھولیے گا،مگر لب کھل نہ پائے-
اس نے آگے پڑھا -
اے ایمان والو تم صبر اور نماز کے ساتھ مدد مانگو،بے شک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے-''
ساتھ ہی حاشئیے میں پین سے چھوٹا چھوٹا کچھ لکھا تھا- اس نے قرآن قریب کر کے پڑھنا چاہا-وہ اس کے اپنے لکھے تفسیر نوٹس تھے-
''مصیبت میں صبر اور نماز وہ دو کنجیاں ہیں جو آپ کو اللہ تعالی کا ساتھ دلواتی ہیں-ان کے بغیر یہ ساتھ نہیں ملتا-اس لیے کوئی مصیبت آئے تو نماز میں زیادہ توجہ اور لگن ہونا چاہیئے- مصیبت میں خاموشی کے ساتھ اللہ کی رضا پر راضی ہوکر جو کچھ موجود ہے اس پر شکر کرنا اور اللہ سے آگے اچھی امید رکھنا صحیح معنی میں صبر ہے-''
یہ سب اس نے لکھا تھا؟وہ اپنے لکھے پہ حیرت زدہ سی رہ گئی-کلاس میں آگے بیٹھنا ٹیچر کی ہر ایک بات نوٹ کرنا،وہ سب اسے کتنا فائدہ دے گا اس نے تو کبھی تصور بھی نہ کیا تھا-

#مصحف

Tere khushi say agar main bhi kush na hovi

Tere khushi say agar main bhi kush na hovi
designed by deeplesseye



Raat mery khabo ka adat tha

Raat mery khabo ka adat tha
designed poetry by deeplesseye


23 Sep 2017 | By:

ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻋﺠﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮞ"

ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻋﺠﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮞ"
ﺍﻥ ﮐﮩﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺳﺘﺎﻧﯿﮟ ﮈﮬﻮﻧﮉﮪ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ "
ﺍﯾﮏ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﮐﻮ ﺍﺛﺎﺛﮧﺀ ﺣﯿﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﯿﮟ ﮔﯽ"
ﮨﯿﮟ ﻋﺎﺩﺗﯿﮟ ﻋﺠﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ"
ﺑﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﺟﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﻣﻌﻨﯽ ﮐﻮ"
ﺍﺧﺬ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﻨﺎ"
ﺑﺎﺭﺵ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻗﻄﺮﮮ ﺳﮯ ﻗﻮﺱ ﻗﺰﺡ ﺑﻨﺎ ﻟﯿﻨﺎ"
ﺫﺭﺍ ﺟﮭﻨﺠﮭﻼﯾﮯ ﻟﮩﺠﮯ ﭘﺮ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﺑﮑﮭﺮ ﺟﺎﻧﺎ"
ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﮐﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺗﮑﯿﮯ ﺑﮭﮕﻮ ﺩﯾﻨﺎ"
ﭨﻮﭨﺘﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﻮ ﺧﻮﺵ ﮔﻤﺎﻧﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺳﺠﺎﺩﯾﻨﺎ"
ﭘﮭﺮ "____
ﺍﯾﮏ ﻣﺴﮑﺮﺍﮨﭧ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺗﻠﺨﯿﺎﮞ ﺑﮭﻼ ﺩﯾﻨﺎ"
ﺍﻣﯿﺪ ﻧﺌﯽ ﭘﮭﺮ ﺟﮕﺎ ﻟﯿﻨﺎ "
ﺍﻭﺭ ﮐﮭﻞ ﮐﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﺩﯾﻨﺎ"
ﮨﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﯿﮟ ﻋﺠﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ" ﺫﺍﺕ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﮭﻼ ﺩﯾﮟ ﮔﯽ"
ﺩﻋﺎ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺟﺐ ﺍﭨﮭﺎﯾﮟ ﮔﯽ "
ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ﮔﯽ"
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﻧﮓ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﺮ ﺭﻭ ﺩﯾﮟ ﮔﯽ "
ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﺳﺐ ﻟﻤﺤﮯ"
ﺍﭘﻨﮯ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﺍﻥ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ "ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻋﺠﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ"
ﺳﺘﻢ ﺳﺎﺭﮮ ﺧﻮﺩ ﭘﺮ ﺟﮭﯿﻞ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ "
ﺁﻧﺴﻮﮞ ﺳﺐ ﭼﮭﭙﺎ ﮐﺮ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﮐﯽ "
ﮨﯿﮟ ﺭﺍﺣﺘﯿﮟ ﻋﺠﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ"
ﺍﮎ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺎﻥ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ"
ﺷﺮﯾﮏ ﺭﻭﺡ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﯽ" ﭘﮭﺮ ﻣﺮ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺒﮭﺎﻧﮯ ﮐﯽ "
ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﮨﺸﯿﮟ ﻋﺠﺐ ﺍﻥ ﮐﯽ"
ﺳﭻ ﮐﮩﺎ"
ﺳﻤﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ"
ﯾﮧ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﻋﺠﺐ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ !!!!!!.....
منقول


henna-500








خشک خوبانی کیوں ضرور کھانی چاہیے؟



خشک خوبانی کیوں ضرور کھانی چاہیے؟
خشک خوبانی ایسی صحت بخش غذا ہے، جو آپ کو پورے سال دستیاب ہوتی ہے۔ خشک خوبانی کا ایک چھوٹا سا دانہ اپنے اندر صحت کا ایک ایسا خزانہ چھپائے ہوئے ہوتا ہے، جس سے فائدہ صرف وہی انسان اٹھا سکتا ہے، جو اس کی حقیقت سے واقف ہوتا ہے۔ خشک خوبانی متعدد طبی فوائد کی مالک ہوتی ہے اور اس کا استعمال آپ کو کئی عام امراض سے محفوظ رکھتا ہے:
بہترین نظر:
خشک خوبانی میں دو ایسے غذائی اجزاء بھاری مقدار میں پائے جاتے ہیں، جو بینائی کی حفاظت کرتے ہیں، جو عمر میں اضافے کے ساتھ کمزور ہورہی ہوتی ہے۔ خشک خوبانی کا استعمال موتیے کے خطرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
نظامِ ہضم:
کھانا کھانے سے قبل خشک خوبانی کا استعمال ہمارے نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے، اس کے علاوہ خشک خوبانی قبض کے حوالے سے مددگار ثابت ہوتی ہے اور ساتھ ہی ناپسندیدہ مواد کو خارج بھی کرتی ہے۔
صحت مند دل:
خشک خوبانی میں فائبر کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے، جو جسم میں موجود کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتی ہے، اسی وجہ سے دل کے امراض لاحق ہونے کے خطرات میں بھی کمی واقع ہوتی ہے۔ اس دوران خشک خوبانی جسم میں بہترین کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ بھی کرتی ہے۔ روزانہ آدھا کپ خشک خوبانی کھانا دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔
خون کی کمی سے بچاؤ:
خشک خوبانی آئرن کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے ،جو کہ خون کی کمی خلاف مزاحمت کرنے کے حوالے سے مفید ثابت ہوتا ہے۔ عام طور پر خواتین مخصوص ایام میں خون کی کمی کا شکار رہتی ہیں اس لیے انہیں چاہیے کہ ایسی غذائیں استعمال کریں، جن میں آئرن کی بھاری مقدار پائی جاتی ہو، اگر آپ خشک خوبانی کو اپنی روزمرہ کی خوراک میں شامل کریں گے، تو یہ ہیموگلوبین کی سطح میں اضافے کا باعث ہوگا۔
کینسر سے بچاؤ:
خشک خوبانی میں بھاری مقدار میں پائے جانے والے اینٹی اوکسیڈنٹس کینسر جیسے موذی مرض کے لاحق ہونے کے خطرات کو کم کرتے ہیں، اس کے بیج ( kernels Apricot) کینسر کی افزائش کا خاتمہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کینسر کے مریضوں کو یہ 5 بیج ایک گلاس اورنج جوس کے ساتھ روزانہ صبح ناشتہ میں اس وقت تک کھانے چاہئیں جب تک کہ کینسر کے غیر معمولی خلیوں کا خاتمہ نہیں ہوجاتا-
وزن میں کمی:
خشک میں پائی جانے والی فائبر کی بھاری مقدار نہ صرف آپ کے نظامِ ہضم کو بہتر بناتی ہے بلکہ میٹابولک کی کارکردگی کو بھی مزید فعال بناتی ہے اور اسی وجہ سے آپ کا وزن بھی کم ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ خشک خوبانی میں کیلوریز بھی بہت کم پائی جاتی ہیں۔
ہڈیاں:
سے بھی بھرپور ہوتی ہے اور ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ کیلشیم ہماری ہڈیوں کی بہترین صحت کے لیے سب سے ضروری ہے۔ اس کے علاوہ خشک خوبانی میں پوٹاشیم بھی پایا جاتا ہے، جو کہ ہمارے جسم میں کیلشیم کے تقسیم کے حوالے سے اہم کردار ادا کرتا ہے اور یہ تمام عوامل ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔
بخار:
خشک خوبانی میں بخار کی حدت کو کم کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہوتی ہے۔روزانہ ایک کپ خشک خوبانی کے جوس میں ایک چائے کا چمچ شہد شامل کر کے پئیں- یہ آپ کو پیاس سے بھی آرام دے گی-
جلد:
خشک خوبانی کو جلد سے متعلق مسائل مثلاً سورج کی جلن کی وجہ سے ہونے والی خارش اور ایگزیما وغیرہ سے بھی آرام کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ خشک خوبانی کیل مہاسوں اور جلد کے دیگر مسائل کے خلاف بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
مشہور طبی نسخہ:
جوانی ، طاقت ، فٹنس ، اور حسن کے لئے
۳ عدد خشک خوبانی اور ۱ عدد چھوہارہ لیں ان کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لیں رات کو ایک کپ پانی میں بھگو لیں صبح اس میں ایک چمچ شہد ملا لیں اگر سردی کا موسم ہو تو نیم گرم کرکے پی لیں اگر گرمی کا موسم ہو تو گرم نہ کریں اور ایسے ہی پی لیں
فوائد :
جلد بڑھاپا نہی آئے گا.
نظر مضبوط ہو گی اور اعصابی کمزوری ختم ہو جائے گی.
کبھی جسمانی طاقت ختم نہ ہو گی اور نہ جسم میں لرزہ آئے گا.
گھٹنے ، جوڑ ، پٹھے ، دل و دماغ طاقت ور ہو جائیں گے.
کیوں کہ خوبانی میں کوپر Copper اور چھوہارے میں آئرن Iron بہت زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے اور جب ان دونوں کو ملا کر استعمال کیا جاتا ہے تو ایک طاقت ور ٹانک بن جاتا یے اس کے علاوہ ان دونوں میووں میں بے شمار فوائد ہیں




پرکھ



پرکھ
ایک آدمی کے چار بیٹے تھے اس نے بیٹوں کو سفر پر روانہ کرنے کا فیصلہ کیا اور دور دراز علاقے میں ناشپاتی کے ایک درخت کو دیکھنے بھیجا..

باری باری سب کا سفر شروع ہوا..
پہلا بیٹا سرد موسم میں گیا دوسرا بہار میں تیسرا گرمی میں اور سب سے چھوٹا خزاں میں گیا ..جب سب کا سفر مکمل ہوا تو باپ نے انہیں طلب کیا اور سفر کا احوال پوچھا..
پہلا بیٹا جو سردی میں درخت دیکھنے گیا تھا اس نے کہا درخت بہت بد صورت ٹیڑھا اور جھکا ہوا تھا..
دوسرے نے کہا نہیں درخت سبز تھا اور پتوں سے بھرا تھا..
تیسرے نے کہا مجھے دونوں سے اختلاف ہے درخت تو پھولوں سے بھرا تھا مہک دور دور تک تھی وہ ایک حسین درخت تھا..
آخری نے کہا درخت پھلوں سے لدا ہوا تھا زمین کی طرف جھکا ہوا اور خوبصورت تھا..
وہ آدمی مسکرایا اور کہا تم میں سے کوئی بھی غلط نہیں کہہ رہا سب ٹھیک کہہ رہے ہو...بات کو جاری رکھتے ہوئے باپ نے کہا..
تم کسی بھی درخت یا شخص کو صرف ایک موسم میں دیکھ کر حتمی فیصلہ نہیں کر سکتے انسان کبھی کسی کیفیت میں ہوتا ہے اور کبھی کسی میں..جسطرح کبھی درخت بے رونق تھا کبھی پھولوں سے اور کبھی پھلوں سے بھرا ہوا ایسے ہی اگر کسی انسان کو غصے کی حالت میں دیکھ رہے ہو تو اسکا یہ مطلب نہیں کے وہ بُرا ہے..کبھی جلد بازی میں فیصلہ نا کرنا اچھی طرح پرکھ لینا ..

21 Sep 2017 | By:

ابھی محبت ، _ نئی نئی ھے

خاموش لب ھیں ، جھکی ھیں پلکیں دلوں میں الفت ، ______نئی نئی ھےابھی تکلف ھے ، گفتگو میں ابھی محبت ، _ نئی نئی ھےخاموش لب ھیں ، جھکی ھیں پلکیں دلوں میں الفت ، _______ نئی نئی ھےابھی نا آئے گی ، نیند تم کو ابھی نا ہم کو ، سکوں ملے گاابھی یہ دھڑکے گا ، دل زیادہ ابھی یہ چاہت ، نئی نئی ھےخاموش لب ھیں ، جھکی ھیں پلکیں دلوں میں الفت ،_______نئی نئی ھےبہار کا آج ، ____ پہلا دن ھے چلو چمن میں ، _ ٹہل کے آئینفضاء میں خوشبو ، نئی نئی ھے گلوں میں رنگت ، __نئی نئی ھےخاموش لب ھیں ، جھکی ھیں پلکیں دلوں میں الفت ، ______نئی نئی ھےجو خاندانی رئیس ، ھیں وہ مزاج رکھتے ھیں ، وہ نرم اپناتمہارا لہجہ ، ____ بتا رہا ھے تمہاری دولت ، _ نئی نئی ھےخاموش لب ھیں ، جھکی ھیں پلکیں دلوں میں الفت ، _____ نئی نئی ھےذرا سا قدرت نے ، _____ کیا نوازا کہ آ کے بیٹھے ھو ، پہلی صف میںابھی سے اُڑنے ، ____ لگے ہوا میں ابھی تو شہرت ، ___ نئی نئی ھے"خاموش لب ھیں ، جھکی ھیں پلکیں" "دلوں میں الفت ، ______ نئی نئی ھے"



ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﻮﺟﮫ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ



ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﻮﺟﮫ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﺗﻬﮑﯽ ﺗﻬﮑﯽ ﺳﯽ ﮨﮯ

16 Sep 2017 | By:

" تعلیم میں ایک برائ هے قیوم !

" تعلیم میں ایک برائ هے قیوم !
اسکی وجه سے قوموں میں مجموعی طور پر اور فرد میں علیحده علیحده بهت تجسس پیدا هو جاتا هے ، یه تجسس اسے گھسیٹتا پھرتا هے ایسے سوالات ابھرتے هیں جنکا جواب تعلیم نهیں دے سکتی -
خدا کی قسم بهت پڑھنے لکھنے کے بعد میں اس نتیجے پر پهنچا هوں- ان سوالات کی وجه سے ، ان ادھورے جوابوں کی وجه سے ماڈرن آدمی میں ایک بے نام جستجو پیدا هو جاتی هے- جیسے کوئ کتا اپنی دم کے تعاقب میں چکر لگاتا هے -
بھائ میرے ، کوئ کب تک بے نام جستجو میں مبتلا ره کر السر سے بچ سکتا هے دیوانگی کے سامنے بند باندھ سکتا هے -
راجه گدھ