2 Apr 2013 | By:

darugha sahab


  • داروغہ صاحب بڑے پُررعب آدمی تھے۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ کمزور کو دباتے تھے۔ ناجائز طریقہ سے پیسا کماتے اور لوگوں کو تنگ کرتے تھے۔ دوستوں نے اُن کے اس غلط رویہ کے بارے میں بارہا اُن کو سمجھایا اور اُن کو خدا کا خوف دلایا۔ لیکن وہ اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور حیلے بہانے سے اپنی حرکتوں کو جائز قرار دیتے رہے۔ دوستوں نے کچھ عرصہ بعد محسوس کیا کہ داروغہ صاحب نے محفلوں میں آنا کم کردیا ہے۔ جب ان کے بارے میں معلوم کیا گیا تو یہ پتا چلا کہ ان کی کمر میں ایک پھوڑا ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہیں۔ انھوں نے اس کا بڑا علاج کرایا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ کسی نے اُن کو بتایا کہ دہلی کے مضافات میں ایک حکیم ہے جو ایسے مریضوں کے لیے حرفِ آخر ہے۔ داروغہ صاحب نے اس کو بلوایا۔ اُس نے آ کر مریض کا معاینہ کیا اور کہا اس کا علاج ممکن ہے۔ اس پھوڑے کے لیے ایک خاص مرہم بنانا پڑے گا جس کے لیے خاص قسم کے چیونٹے چاہئیں جن کے زہر سے مرہم بنے گا۔

    داروغہ صاحب نے اپنے آدمیوں کو پورے شہر میں اور شہر کے باہر بھیج دیا کہ یہ خاص قسم کے چیونٹے تلاش کرکے لائو تاکہ میرا علاج ہوسکے۔ چند روز بعد اُن کا ایک اہلکار یہ خبر لے کر آیا کہ مطلوبہ چیونٹے ایک مقامی قبرستان میں پائے گئے ہیں جو ایک قبر میں داخل ہو رہے ہیں اور دوسری طرف سے نکل رہے ہیں۔ چنانچہ فوری طور پر اُن چیونٹوں کو کثیر تعداد میں اکٹھا کیا گیا۔ حکیم صاحب کو دوبارہ بلوایا۔ انھوں نے چیونٹوں سے مرہم تیار کیا اور داروغہ صاحب کو لگایا۔ اس مرہم سے افاقہ ہونے لگا اور داروغہ صاحب سکون میں آگئے۔

    کچھ روز بعد داروغہ صاحب کا پھوڑا بالکل ٹھیک ہوگیا اور وہ تندرست ہوگئے۔ اپنے تندرست ہونے اور غسلِ صحت کے موقع پر انھوں نے ایک بہت بڑی دعوت کا انتظام کیا۔ تمام دوستوں کو بلوایا اور بڑے جشن کا انتظام کیا۔ اسی دوران اُن کو خیال آیا کہ جس اہلکار نے اُن کے لیے چیونٹے اکٹھے کیے وہ خاص طور پر انعام کا مستحق ہے۔ انھوں نے اُس اہلکار کو بلایا۔ اُس کو انعام دیا اور کہا کہ مجھے اُس شخص کی قبر پر لے چلو جہاں سے تم یہ چیونٹے اکٹھے کرکے لائے تھے اور تم نے یہ بتایا تھا کہ یہ چیونٹے قبر کے ایک طرف سے داخل ہو رہے ہیں اور دوسری طرف سے نکل رہے ہیں۔ میں اُس قبر پر جا کر فاتحہ خوانی کرنا چاہتا ہوں اور اُس اہلِ قبر کے لیے دعائے مغفرت کرنا چاہتا ہوں۔

    جب داروغہ صاحب اُس قبر پر گئے تو دیکھا کہ چیونٹے اب بھی قبر کے ایک طرف سے داخل ہو رہے ہیں اور دوسری طرف سے نکل رہے ہیں۔ انھوں نے اس قبر کو پانی سے صاف کرایا تاکہ اس پر پھول وغیرہ ڈالیں۔ جب قبر کے کتبہ کو پانی سے دھویا تو کتبے پر نام پڑھ کر اُن پر سکتہ طاری ہوگیا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور جسم خوف کی وجہ سے کانپنے لگا۔ کچھ دیر بعد اُن کی حالت کچھ سنبھلی تو ساتھیوں نے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ آپ کیوں پریشان ہوگئے اور آپ کی یہ حالت کیسی ہوگئی؟

    ’’یہ قبر میرے پیش رو کی ہے۔‘‘ داروغہ صاحب نے کہا۔ ’’مجھ سے پہلے یہ داروغہ تھے۔ میں اُن سے بہت زیادہ متاثر تھا اور اُن کی ساری بُری عادتیں میں نے اپنائی تھیں۔ میں نے لوگوں کے ساتھ بہت ظلم و ستم کیا۔ آج میں اُن کی قبر دیکھ کر اپنے انجام کو دیکھ رہا ہوں۔ پتا نہیں میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ میں آج سے توبہ کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہوں۔ انھوں نے فوری طور پر اپنے عہدہ سے استعفا دے دیا۔ دہلی کے بہت بڑے بزرگ مولانا فضل گنج بخش مُرادآبادی رح کے ہاتھ پر بیعت کی۔ بقایا زندگی انھوں نے استغفار اور یادِالٰہی میں گزار دی۔

0 comments:

Post a Comment