1 Aug 2013 | By:

اللہ نے اپنے بندے کو مایوس نہ کیا۔


ایک دن بھوک کے عالم میں جنت البقیع کے قبرستان میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گیا اور اللہ سے باتیں کرنے لگا۔ “اے اللہ جب تک جوان تھا۔ آواز ساتھ دیتی تھی۔ کماتا تھا اور کھاتا تھا
۔ اب آواز بیٹھ گئی ہے۔ بھوک لگی ہے ۔ پہلی بار تیرے در پہ آیا ہوں...
۔ مایوس نہ لوٹانا۔“

حضرت عمر رضی اللہ تعالی مسجد نبوی کے صحن میں سوئے ہوئے تھے۔ خواب میں آواز آئی “ عمر اٹھو،، میرا ایک بندہ جنت البقیع میں مجھے پکار رہا ہے۔ اس کی مدد کو پہنچو،، عرش ہل رہا ہے۔۔۔“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ننگے پاؤں بھاگے۔ اس بوڑھے نے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آتے دیکھا تو اٹھ کر بھاگا کہ شاید مجھے مارنے آرہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا۔ “مت بھاگو میں خود نہیں آیا بلکہ بھیجا گیا ہوں۔“ بوڑھے نے پوچھا “کس نے بھیجا ہے۔؟“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا “ اسی ذات نے بھیجا ہے جس کو پکار رہے تھے“

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائدہ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس بوڑھے نے زندگی میں پہلی بار اللہ کو پکارا اور پکارا بھی تو روٹی کیلئے ۔ لیکن اللہ نے اپنے بندے کو مایوس نہ کیا۔

اللہ سے مایوس نہ ہونا چاہیے۔ دعا کے قبول ہونے کیلئے مضطرب ہونا شرط ہے۔ دل سے اللہ کو پکاریئے۔ وہ ضرور پہنچے گا۔ صرف ہاتھ اٹھا لینا اور خیال کا کہیں اور بھٹک رہا ہونا دعا کی صحت کے خلاف ہے۔

0 comments:

Post a Comment