23 May 2013 | By:

یا خدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو جانتا ہے کہ میں تیری کائنات کا سب سے حقیر زرہ ہوں



یا خدا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو جانتا ہے کہ میں تیری کائنات کا سب سے حقیر زرہ ہوں، لیکن میری کم ظرفی کی داستانیں آسمان سے بھی بلند ہیں۔ میری حقیقت سے اور میرے دل میں چھپے ہر چور سے بس تو ہی واقف ہے۔ میرے گناہوں کی فہرست کتنی بھی طویل سہی، تیری بےکراں رحمت سے کم ہے۔ سو، میری منافقت بھری توبہ و معافی کو یہ جانتے ہوئے بھی قبول فرما کہ توبہ کرتے وقت بھی میرے دل کا چور مجھے تیری نافرمانی پر مستقل اُکساتا رہتا ہے۔ پھر بھی تجھے تیرے پیارے صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ میری لاج رکھنا۔ میرے عیبوں پر اور میری جہالت پر پردہ ڈالے رکھنا۔ میرے مولا! تیرا ہی آسرا ہے، تو ہی عیبوں کا پردہ دار ہے۔ میری جھولی میں سو چھید ہیں، پھر بھی یہ جھولی تیرے سامنے پھیلی ہوئی ہے۔ اسے بھر دے میرے مالک۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"عبداللہ" سے اقتباس

0 comments:

Post a Comment