26 Apr 2013 | By:

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمات میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ


ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمات میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ" یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں ہلاک ہوگیا مجھ سے روزے میں ناجائز کام ہوگیا،"
نبی پاک صَلَٓی اللہُ عَلَیہِ وَاٰلِہ وَسَلَٓم نے فرمایا " کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے ". وہ بولا نہیں،
آپ نے فرمایا "کیا دو ماہ مسلسل روزہ رکھ سکتے ہو" وہ بولا نہیں,
پھر فرمایا " کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو" وہ بولا نہیں .
آپ نے پھر فرمایا کے اچھا بیٹھ جاؤ. پھر ایک کھجوروں کا ٹوکرا آپکی خدمت میں لایا گیا، آپ نے اس آدمی کو بلایا اور فرمایا کے یہ کھجوریں صدقہ کر دو .اسنے عرض کیا کے یا رسول اللہ کیا یہ اپنے سے زیادہ محتاج کو دوں ؟ واللہ مدینے میں کوئی گھر مجھ سے زیادہ محتاج نہیں،"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہنس دیئے یہاں تک کے آپ کے دانت مبارک نظر آنے لگے پھر فرمایا" کہ اچھا جاؤ اپنے گھر والوں کو ہی دے دو ( کِھلا دو ) "- بخاری و مسلم

0 comments:

Post a Comment