26 Apr 2013 | By:

بیٹا وہاں جا کر لوگوں کو اپنا علم عطا کرنے نے بیٹھ جانا ، ان کو محبّت دینا -


بیٹا وہاں جا کر لوگوں کو اپنا علم عطا کرنے نے بیٹھ جانا ، ان کو محبّت دینا -
میں نے کہا سر ، محبّت تو ہمارے پاس گھر میں دینے جوگی بھی نہیں ، وہ کہاں سے دوں - میرے پاس تو علم ہی علم ہے -

کہنے لگے نہ انھیں علم نہ دینا - انھوں نے محبت سے بلایا ہے ، محبّت سے جانا اگر ہے تو لے کر جانا -

لیکن ہم تو ظاہر علم سکھاتے ہیں کہ اتنا اونچا روشندان رکھو ، مویشی کو اندر مت باندھو ، ناک سے سانس لو منہ سے نکالو - وغیرہ وغیرہ -

اور یہ محبّت ! میں نے کہا ، جی یہ بڑا مشکل کام ہے - میں یہ کیسے کر سکونگا - میں گیا کوششیں بھی کیں لیکن بالکل ناکام لوٹا -

کیونکہ علم عطا کرنا ، اور نصیحتیں کرنا بہت آسان ہے - اور محبّت دینا بڑا مشکل کام ہے -

از اشفاق احمد زاویہ ١ بابا کی تعریف

0 comments:

Post a Comment