25 Apr 2013 | By:

zahir say batin humesha Mukhtlif hota hai

ظاہر سے باطن ہمیشہ مُختلف ہوتا ہے، مکان باہر سے کچھ نظر آتا ہے اور اندر سے کچھ۔ اِسی طرح اِنسان کا ظاہر کچھ ظاہر کرتا ہے اور باطن کچھ اور ہوتا ہے۔ صورت کچھ اور سیرت کچھ۔ جھونپڑا ہو یا کوئی کُٹیا، فقیروں درویشوں کی طرح یہ بھی بِھیتر سے بڑے گُپت اور گمبھیر ہوتے ہیں۔ اِن کی بے سرو سامانی، سادگی اور سکوت میں ہی لاہوت ہوتا ہے۔ مسلمانوں میں کوئی صوفی فقیر ہو یا درویش اور ہندوؤں، سِکھوں، عیسائیوں، یہودیوں، بُدھوں میں کوئی رَشی منی ہو یا کوئی بیراگی جوگی، گیانی دھیانی ہو یا کوئی بھکشو، لاما، پنڈت پروہت ہو یا کوئی سینٹ پادری، اِن میں سے ہر ایک اپنے مالک کو جانتا پہچانتا ہے اور اُسی کی طرف رجوع کرتا ہے۔ کوئی ایشور، پرماتما، بھگوان، پر بھو پُکار لیتا ہے۔ کوئی گاؤ، نُور، خوشبو، روشنی، فطرت، قَدر، حقیقت، ازل ابد۔ جِسے جس رنگ اور رُوپ میں وہ نظر آیا، وہ وُہی کہلایا۔ کسی نے اُسے اپنے طورکھینچ تان کرایک خطِ مستقیم بنا لیا، کسی نے اُسے تول تھپک موڑ کر دائرہ بنا لیا، اور کسی نے مستطیل، تکون، مربع اور کسی نےاُسے بیضوی شکل دے دی۔ کسی کو کوہِ طور پہ تجلّی میں نظر آیا، کہیں وہ غارِ حراء میں وحی کے پردے میں دِکھائی دیا، کہیں معراج کی شب، عرش کی خلوت میں جلوہ افروزہوا۔ کسی کو برگد کے نیچے، کسی کو سُولی کے اوپر، کسی کو سُورج اور کسی کو مُورت میں دِکھائی دیا۔ کہیں وہ آگ میں چمکا، کہیں وہ راگ میں لَپکا۔ کسی کی صورت دیکھ کر وہ یاد آیا اور کسی کی سیرت میں اُس کا پَرتو نظر آیا۔ کسی کی تخلیق میں وہ اُبھرا اور کسی کی تحقیق میں وہ سامنے آیا۔ کسی کے طریق و وَصف سے وہ جھانکا اور کسی کے ہُنر و کَسب سے وہ ہویدا ہوا اور وُہی خُدا ہوا۔۔۔۔۔۔۔

  • پِیا رنگ کالا از بابا محمد یحیٰی خان
  • صفحہ نمبر 448

0 comments:

Post a Comment